ویتنام

ویتنام اور جنوبی افریقہ کے درمیان پارلیمانی تعاون مزید مستحکم کرنے پر اتفاق

Read Time:3 Minute, 46 Second

پریٹوریا، یورپ ٹوڈے: ویتنام کی قومی اسمبلی کے نائب صدر نگوین ہونگ دیئن نے جنوبی افریقہ کے پارلیمنٹ کی ڈپٹی اسپیکر انیلی لوٹریٹ سے یکم اکتوبر کو کیپ ٹاؤن میں ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان پارلیمانی اور دوطرفہ تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

یہ ملاقات افریقی ملک کے سرکاری دورے پر موجود ویتنامی قومی اسمبلی کے اعلیٰ سطحی وفد کے دورے کے دوران ہوئی۔ نگوین ہونگ دیئن نے کیپ ٹاؤن پہنچنے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ویتنام کی قومی اسمبلی کے صدر ٹران تھانہ مان کی جانب سے جنوبی افریقہ کی پارلیمنٹ کی اسپیکر تھوکو دیدیزا کے لیے نیک خواہشات کا پیغام پہنچایا اور انہیں ویتنام کے دورے کی دعوت دی۔

انہوں نے دونوں اقوام کے درمیان روایتی یکجہتی اور باہمی تعاون کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے دورے کا مقصد نومبر 2025 میں دوطرفہ تعلقات کو اسٹریٹجک شراکت داری کی سطح تک بڑھائے جانے کے بعد باہمی تعاون کو مزید آگے بڑھانا ہے۔

انیلی لوٹریٹ نے ویتنامی وفد کے دورے کو پارلیمانی تعاون کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے اور وسیع تر دوطرفہ تعلقات میں نئی تحریک پیدا کرنے کے حوالے سے اہم قرار دیا۔ انہوں نے ویتنام کے لیے اپنی گہری وابستگی کا اظہار کرتے ہوئے مؤثر تعاون کے لیے سمتوں اور حکمت عملیوں کی تشکیل میں مزید قریبی رابطہ کاری پر زور دیا۔

نگوین ہونگ دیئن نے جنوبی افریقی ہم منصب کو ویتنام کی سماجی و اقتصادی ترقی سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ‘ڈوئی موئی’ (اصلاحات) کے 40 سال بعد ملک نے تاریخی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ویتنام کی معیشت کا حجم 515 ارب امریکی ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے جبکہ 2026 کے پہلے چھ ماہ کے دوران اقتصادی شرح نمو 8.18 فیصد رہی۔

انہوں نے کہا کہ ویتنام اب ترقی کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے، جس میں جامع ادارہ جاتی اصلاحات، عملدرآمد کی صلاحیت میں بہتری اور سائنس و ٹیکنالوجی، جدت، ڈیجیٹل تبدیلی، سبز منتقلی اور سرکلر اکانومی پر زیادہ توجہ شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ ویتنام کا ہدف 2030 تک جدید صنعت اور بالائی متوسط آمدنی والا ترقی پذیر ملک بننا جبکہ 2045 تک ترقی یافتہ اور بلند آمدنی والی معیشت کا درجہ حاصل کرنا ہے۔

دونوں فریقوں نے اتفاق کیا کہ پارلیمانی تعاون کو دوطرفہ تعلقات کا ایک اہم ستون بنایا جائے گا۔ اس سلسلے میں اعلیٰ سطحی اور پارلیمانی کمیٹیوں کے وفود کے تبادلوں، دونوں قانون ساز اداروں کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر جلد دستخط اور بین الاقوامی و کثیرالجہتی پارلیمانی فورمز پر قریبی رابطہ کاری کو ترجیح دی جائے گی۔

ویتنام نے جنوبی افریقہ کی پارلیمنٹ سے مطالبہ کیا کہ وہ حکومت کو ویتنامی مصنوعات کے لیے مارکیٹ تک رسائی مزید آسان بنانے اور بڑی ویتنامی کمپنیوں کے لیے سرمایہ کاری و تعاون کے سازگار مواقع پیدا کرنے کی ترغیب دے۔ ان شعبوں میں الیکٹرانکس، ٹیلی کمیونیکیشنز، معدنیات، قابل تجدید توانائی، ٹیکسٹائل اور معاون صنعتوں کے علاوہ مصنوعی ذہانت اور جدت جیسے ابھرتے ہوئے شعبے شامل ہیں۔

نگوین ہونگ دیئن نے امید ظاہر کی کہ جنوبی افریقہ میں مقیم ویتنامی برادری کو مستحکم زندگی اور کام کے لیے مسلسل تعاون اور سازگار ماحول فراہم کیا جائے گا تاکہ وہ دونوں اقوام کے درمیان دوستی کے پل کا کردار مؤثر انداز میں ادا کر سکے۔

انہوں نے جنوبی افریقہ کی پارلیمنٹ کی ڈپٹی اسپیکر کو بھی جلد ویتنام کے سرکاری دورے کی دعوت دی، جسے انیلی لوٹریٹ نے خوشی سے قبول کر لیا۔

دریں اثنا، جنوبی افریقہ میں ویتنام نیوز ایجنسی کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انیلی لوٹریٹ نے ویتنام کو جنوبی افریقہ کے لیے ایشیائی منڈی تک رسائی کے حوالے سے ایک اہم اسٹریٹجک دروازہ قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ دونوں پارلیمانوں کے درمیان معلومات، تجربات اور مہارت کے تبادلے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے قانون سازی کے شعبے، بالخصوص ڈیجیٹل دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ قانونی ڈھانچے کی تشکیل میں تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔

لوٹریٹ نے کثیرالجہتی فورمز، خصوصاً بین الپارلیمانی یونین (IPU) میں ایک دوسرے کی حمایت کی اہمیت پر بھی زور دیا اور کہا کہ دونوں ممالک کی علاقائی انضمام کی حکمت عملیوں میں باہمی تکمیل کے نمایاں امکانات موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جس طرح جنوبی افریقہ ویتنام کے لیے افریقی منڈی تک رسائی کا دروازہ ہے، اسی طرح ویتنام بھی جنوبی افریقہ کے لیے ایشیائی ممالک تک رسائی کا ایک پل بن سکتا ہے۔ انہوں نے اسٹریٹجک رابطے کے مزید وسعت اختیار کرنے اور دونوں ممالک کے لیے عملی فوائد کا ذریعہ بننے پر اعتماد کا اظہار کیا۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
کانفرنس Previous post قومی سلامتی اور داخلی استحکام کے تحفظ کے عزم کا اعادہ، 277ویں کور کمانڈرز کانفرنس
انڈونیشیا Next post انڈونیشیا اور جرمنی کے درمیان اسٹریٹجک شعبوں میں تعاون مزید گہرا کرنے پر اتفاق