الہام علیوف

"فتح کی داستان”: جبرائیل کی آزادی پر صدر الہام علیئیف کے 4 اکتوبر 2020 کے قوم سے خطاب کی یاد

Read Time:2 Minute, 22 Second

باکو، یورپ ٹوڈے: آذربائیجان میں دوسری قرہ باغ جنگ کے واقعات کی یاد میں جاری سلسلے "فتح کی داستان” کے تحت 4 اکتوبر 2020 کو صدر الہام علیئیف کے قوم سے کیے گئے اس تاریخی خطاب کو یاد کیا جا رہا ہے، جس میں انہوں نے شہر جبرائیل اور ضلع جبرائیل کے نو دیہات کی آزادی کا اعلان کیا تھا۔

واضح رہے کہ آذربائیجانی فوج نے 27 ستمبر 2020 کو فرنٹ لائن پر آرمینیائی مسلح افواج کی جانب سے بڑے پیمانے پر اشتعال انگیزی کے جواب میں جوابی کارروائی کا آغاز کیا تھا، جسے بعد میں "آہنی مُکا” (آئرن فِسٹ) آپریشن کا نام دیا گیا۔ 44 روز تک جاری رہنے والی یہ جنگ آذربائیجان کے علاقوں کی تقریباً 30 سالہ قبضے سے آزادی اور ملک کی علاقائی سالمیت کی بحالی پر منتج ہوئی۔

اپنے خطاب میں صدر الہام علیئیف نے جبرائیل کی آزادی پر پوری آذربائیجانی قوم کو مبارکباد پیش کی اور آپریشن میں حصہ لینے والے فوجیوں اور افسران کی جرأت و بہادری کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے شہداء کے لیے دعائے مغفرت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا بھی کی۔ صدر نے اعلان کیا کہ آذربائیجانی فوج نے جبرائیل شہر کے ساتھ ساتھ کرخولو، شکوربیلی، یوخاری مرالیان، چراکن، داشکسن، ہورووْلو، دجل، محمودلو اور جعفرآباد کے دیہات کو آزاد کرا لیا ہے۔

صدر علیئیف نے ضلع جبرائیل کے گاؤں جوجُگ مرجانلی کا بھی ذکر کیا، جس کی تعمیرِ نو چار سال قبل شروع کی گئی تھی، اور اسے آذربائیجانی قوم کے ناقابلِ تسخیر عزم کی علامت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ قرہ باغ آذربائیجان کی قدیم تاریخی سرزمین ہے، جہاں تباہ کیے گئے شہروں، مساجد اور تاریخی و ثقافتی مقامات کو بحال کیا جائے گا اور بستیوں کے تاریخی نام بھی واپس لوٹائے جائیں گے۔

خطاب میں صدر نے تقریباً تین دہائیوں پر محیط مذاکراتی عمل پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آذربائیجان نے ہمیشہ مسئلے کے پُرامن حل کی خواہش کی، تاہم سلامتی کونسل کی قراردادیں 27 برس تک عملدرآمد کی منتظر رہیں اور مذاکرات کے نتیجے میں تنازع منجمد ہو کر رہ گیا۔ انہوں نے بین الاقوامی برادری، او ایس سی ای منسک گروپ اور یورپی یونین سے بھی شکوہ کیا کہ آرمینیا پر مؤثر دباؤ نہیں ڈالا گیا۔

جنگ بندی کی شرائط کے حوالے سے صدر علیئیف نے واضح کیا تھا کہ آرمینیا آذربائیجان کی علاقائی سالمیت کو تسلیم کرے، مقبوضہ علاقوں سے اپنی افواج کے انخلاء کا اعلان کرے اور اس انخلاء کا باقاعدہ ٹائم ٹیبل فراہم کرے۔ انہوں نے بے گھر افراد اور مہاجرین کو یقین دلایا کہ انہیں ان کی آبائی سرزمین پر واپس لایا جائے گا۔

صدر الہام علیئیف نے اپنے خطاب کا اختتام اس عزم کے ساتھ کیا کہ آذربائیجان حق پر ہے، انصاف بحال کر رہا ہے اور اپنی علاقائی سالمیت کی مکمل بحالی تک جدوجہد جاری رکھے گا۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
کائنات امتیاز Previous post قومی ویمن کرکٹر کائنات امتیاز کا انٹرنیشنل کرکٹ کو خیرباد کہنے کا اعلان
سکیورٹی Next post ڈی آئی خان میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی، 8 دہشت گرد ہلاک، 3 اہم کمانڈرز بھی شامل