
انڈونیشیا میں مفت تعلیم کے وسیع منصوبے کی تیاری، سرکاری جامعات میں مرحلہ وار فیس معافی بھی زیر غور
جکارتہ، یورپ ٹوڈے: انڈونیشیا کی حکومت نے کنڈرگارٹن سے ثانوی تعلیم تک سرکاری تعلیمی اداروں میں مفت تعلیم کی ایک وسیع اسکیم متعارف کرانے کی تیاری شروع کردی ہے، جبکہ سرکاری جامعات میں بھی طلبہ کو ٹیوشن فیس سے مستثنیٰ کرنے کے لیے مرحلہ وار منصوبے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس اقدام کا مقصد اعلیٰ تعلیم تک رسائی میں اضافہ اور خاندانوں پر تعلیمی اخراجات کا مالی بوجھ کم کرنا ہے۔
صدر پرابوو سوبیانتو نے حکومت کو اس پروگرام کی تیاری کی ہدایت کی ہے۔ یہ تجویز پہلی مرتبہ 18 ستمبر کو نیشنل مینڈیٹ پارٹی (PAN) کی سالگرہ کی تقریب کے دوران سامنے آئی تھی۔ اس کے بعد حکومتی وزرا نے صدارتی محل میں پروگرام کے عملی نفاذ کے مختلف طریقہ کار پر غور شروع کیا ہے۔
انڈونیشیا کے ادارہ شماریات (BPS) کے مطابق 2024ء میں پرائمری تعلیم اور اس کے مساوی سطح پر فی طالب علم سالانہ اوسط تعلیمی اخراجات تقریباً 3.55 ملین انڈونیشیائی روپیہ (تقریباً 198 امریکی ڈالر) جبکہ اعلیٰ تعلیم کی سطح پر یہ اخراجات 13.96 ملین روپیہ (تقریباً 780 امریکی ڈالر) رہے۔ اعداد و شمار کے مطابق صرف 16.27 فیصد طلبہ کو وظائف یا دیگر اقسام کی تعلیمی معاونت حاصل ہوئی، جس سے متعدد خاندانوں کو درپیش مالی مشکلات کا اندازہ ہوتا ہے۔
حکومت پہلے ہی کم آمدنی والے خاندانوں کے طلبہ کے لیے مختلف معاونتی پروگرام چلا رہی ہے، جن میں پرائمری اور ثانوی سطح کے طلبہ کے لیے اسمارٹ انڈونیشیا پروگرام (PIP) اور اعلیٰ تعلیم کے لیے اسمارٹ انڈونیشیا کارڈ (KIP Kuliah) شامل ہیں۔ مجوزہ اقدام کا مقصد ان ہدفی معاونت پروگراموں کے دائرہ کار کو وسیع کرتے ہوئے عوامی فنڈنگ کو مزید جامع بنانا ہے۔
حکومت نے تعلیم کو قومی بجٹ کی اہم ترجیحات میں شامل کیا ہے۔ 2027ء کے مجوزہ ریاستی بجٹ میں تعلیم کے لیے 820.9 ٹریلین روپیہ (تقریباً 45.9 ارب امریکی ڈالر) مختص کرنے کی تجویز ہے۔ یہ رقم تعلیمی معیار، بنیادی ڈھانچے، اساتذہ کی فلاح و بہبود، طلبہ کی معاونت اور ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں پر خرچ کی جائے گی، جس کا مقصد ملک کے مختلف علاقوں کے درمیان تعلیمی سہولیات اور مواقع کے فرق کو کم کرنا ہے۔
اعلیٰ تعلیم تک رسائی میں نمایاں علاقائی تفاوت بھی موجود ہے۔ BPS کے مطابق 2025ء میں 19 سے 23 سال کی عمر کے افراد میں اعلیٰ تعلیم کا مجموعی داخلہ تناسب 32.89 فیصد رہا۔ شہری علاقوں میں یہ شرح 38.58 فیصد جبکہ دیہی علاقوں میں 23.14 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
جامعات میں داخلے کی طلب بھی مسلسل برقرار ہے۔ 2026ء میں سرکاری جامعات کے لیے ٹیسٹ بیسڈ نیشنل سلیکشن کے تحت درخواستوں کی تعداد 871,496 تک پہنچ گئی، جو 2025ء کی 860,976 اور 2024ء کی 785,058 درخواستوں سے زیادہ ہے۔ درخواست دہندگان میں عمومی، فنی اور اسلامی ہائر سیکنڈری اسکولوں کے طلبہ شامل تھے۔
اعلیٰ تعلیم، سائنس و ٹیکنالوجی کے وزیر برائن یولیارتو نے کہا ہے کہ حکومت سرکاری جامعات میں مفت تعلیم کے نفاذ کے لیے مختلف آپشنز کا جائزہ لے رہی ہے۔ ان کے مطابق اس پروگرام پر مرحلہ وار عمل درآمد متوقع ہے اور اس کی رفتار ملک کی مالی استعداد کے مطابق مقرر کی جائے گی۔
حکومت نے اس امر پر بھی زور دیا ہے کہ تعلیم تک رسائی بڑھانے کے ساتھ تعلیمی معیار کو برقرار رکھنا بھی ضروری ہے۔ اس مقصد کے لیے مالی وسائل صرف ٹیوشن فیس میں معاونت تک محدود نہیں ہوں گے بلکہ اساتذہ، لیبارٹریز، تحقیق، تعلیمی سہولیات اور مختلف اکیڈمک پروگراموں کی معاونت بھی ضروری ہوگی۔
2027ء کے لیے حکومت اور ایوانِ نمائندگان کی بجٹ کمیٹی نے ریاستی بجٹ کے 20 فیصد حصے کو تعلیم کے لیے مختص رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ اس کے ساتھ اسمارٹ انڈونیشیا پروگرام (PIP)، ترجیحی وظائف، KIP Kuliah اور Sekolah Rakyat جیسے پروگراموں کو مزید مضبوط بنانے پر بھی توجہ دی جائے گی۔
820.9 ٹریلین روپیہ کے مجوزہ تعلیمی بجٹ میں PIP کے ذریعے 22.1 ملین طلبہ کو معاونت، KIP Kuliah کے تحت 1.1 ملین یونیورسٹی طلبہ کی مدد، 12,215 اسکولوں اور مدارس کی تزئین و بحالی اور Sekolah Rakyat کی مزید ترقی کے لیے فنڈز شامل ہیں۔
حکومت کے مطابق یہ اقدامات پرائمری تعلیم سے اعلیٰ تعلیم تک ایک مربوط تعلیمی نظام تشکیل دینے، انسانی سرمائے کی ترقی کو فروغ دینے اور اس بات کو یقینی بنانے کی وسیع تر کوشش کا حصہ ہیں کہ خاندان کی مالی حیثیت بچوں کے تعلیمی سفر اور ان کی اعلیٰ تعلیم تک رسائی میں رکاوٹ نہ بنے۔