آذربائیجان

آذربائیجان اور وسطی ایشیائی ممالک کے درمیان سرمایہ کاری، تجارتی روابط اور توانائی تعاون بڑھانے پر زور

Read Time:5 Minute, 1 Second

آواز، یورپ ٹوڈے: آذربائیجان کے صدر الہام علییف نے آذربائیجان اور وسطی ایشیائی ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون کو مزید وسعت دینے پر زور دیتے ہوئے مشترکہ سرمایہ کاری، ٹرانسپورٹ روابط کے فروغ، توانائی تعاون میں اضافے اور صنعتی شراکت داری کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر تاکید کی ہے۔

وسطی ایشیا کے سربراہان مملکت کے مشاورتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر الہام علییف نے ترکمانستان کے صدر سردار بردی محمدوف کا دعوت اور پرتپاک میزبانی پر شکریہ ادا کیا اور برادر ملک ترکمانستان سمیت خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات مزید مستحکم بنانے کے لیے آذربائیجان کے عزم کا اعادہ کیا۔

صدر علییف نے یاد دلایا کہ آذربائیجان نومبر 2025 میں وسطی ایشیا کے سربراہان مملکت کے مشاورتی اجلاس میں مکمل شریک بن گیا تھا، جسے انہوں نے ایک تاریخی سنگ میل قرار دیا۔ انہوں نے اس فیصلے کی متفقہ حمایت پر علاقائی رہنماؤں کا شکریہ ادا کیا اور بالخصوص ترکمانستان کی مجلس خلق (ہالک مصلحت) کے چیئرمین قربان قلی بردی محمدوف کی کوششوں کو سراہا، جنہوں نے اگست 2025 میں آواز میں اس اقدام کی تجویز پیش کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ آذربائیجان اور ترکمانستان کے دوطرفہ تعلقات تیزی سے ترقی کر رہے ہیں اور 2025 سے اب تک دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح کے پانچ دورے ہو چکے ہیں، جو سیاسی مکالمے کی مضبوطی اور باہمی تعلقات کو وسعت دینے کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔

انسانی ہمدردی اور ثقافتی تعاون کا ذکر کرتے ہوئے صدر علییف نے فضولی میں مسجد کی تعمیر کے ترکمانستان کے اقدام کو سراہا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ دونوں ممالک کی قیادت نے 2025 میں مسجد کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب میں مشترکہ طور پر شرکت کی تھی۔ ان کے مطابق یہ منصوبہ دونوں اقوام کے درمیان دوستی اور روحانی قربت کی علامت ہے۔

صدر آذربائیجان نے آزاد کرائے گئے علاقوں کی بحالی میں وسطی ایشیائی ممالک کی معاونت کو بھی سراہا۔ انہوں نے فضولی میں ازبکستان کی جانب سے مرزو الغ بیگ کے نام سے منسوب اسکول کی تعمیر، قازقستان کی جانب سے قربان غازی چلڈرن کری ایٹیویٹی سینٹر کے قیام اور آغدام میں کرغزستان کی جانب سے ماناس کے نام سے منسوب اسکول کی تعمیر کو علاقائی یکجہتی کی نمایاں مثالیں قرار دیا۔

تجارت اور سرمایہ کاری میں تعاون

صدر علییف نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران آذربائیجان اور وسطی ایشیائی ممالک کے درمیان تعاون میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، سیاسی تعلقات مستحکم ہوئے ہیں، اعلیٰ سطح کے تبادلوں میں تیزی آئی ہے اور تجارتی و سرمایہ کاری روابط مسلسل فروغ پا رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ 2025 میں وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ آذربائیجان کی تجارت میں 50 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا، جبکہ وسطی ایشیائی سرمایہ رکھنے والی 400 سے زائد کمپنیاں آذربائیجان میں کام کر رہی ہیں۔

ان کے مطابق آذربائیجان نے قازقستان، ازبکستان اور کرغزستان کے ساتھ مشترکہ سرمایہ کاری فنڈز قائم کیے ہیں، جن میں سے ہر ایک کا سرمایہ کروڑوں ڈالر کے مساوی ہے۔

صدر علییف نے ان فنڈز سے مؤثر استفادے، مشترکہ منصوبوں پر عمل درآمد، نئی پیداواری صنعتوں کے قیام اور صنعتی تعاون کو وسعت دینے پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ باہمی تعاون کو صرف تجارت میں اضافے تک محدود نہیں رکھنا چاہیے بلکہ مشترکہ سرمایہ کاری، مشترکہ پیداوار اور عالمی منڈیوں تک مشترکہ رسائی کو بھی فروغ دینا ضروری ہے۔

ٹرانسپورٹ روابط اور مڈل کوریڈور کی اہمیت

صدر الہام علییف نے ٹرانسپورٹ کو علاقائی تعاون کا ایک اہم ستون قرار دیتے ہوئے کہا کہ بحیرۂ کیسپین وسطی ایشیا کو آذربائیجان اور عالمی منڈیوں سے منسلک کرنے میں بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ آذربائیجان نے بندرگاہوں، ہوائی اڈوں، ریلوے اور شاہراہوں سمیت ٹرانسپورٹ کے بنیادی ڈھانچے پر خاطر خواہ سرمایہ کاری کی ہے تاکہ ترسیلی صلاحیت میں اضافہ اور سامان کی نقل و حمل کو آسان بنایا جا سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ بحیرۂ کیسپین کے دونوں کناروں کے درمیان ٹرانسپورٹ راستوں کو زیادہ مؤثر، تیز رفتار اور مسابقتی بنانا ضروری ہے، کیونکہ اس خطے میں تجارتی سامان کی آمدورفت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

صدر علییف نے ڈیجیٹل سلک وے منصوبے کا بھی ذکر کیا، جس کے تحت بحیرۂ کیسپین کی تہہ میں فائبر آپٹک کیبلز بچھانے کی کوششیں جاری ہیں۔

مڈل کوریڈور کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ 2025 میں اس راستے سے گزرنے والے ٹرانزٹ کارگو کے حجم میں 10 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا، جبکہ 2026 کے پہلے آٹھ ماہ میں اس میں مزید تقریباً 20 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

توانائی تعاون اور ماحول دوست اقدامات

صدر علییف نے توانائی کو آذربائیجان اور وسطی ایشیائی ممالک کے درمیان تعاون کا ایک اور اہم شعبہ قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ آذربائیجان خطے کے توانائی وسائل کو عالمی منڈیوں تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، جبکہ ترکمانستان اور قازقستان کا تیل آذربائیجان کے راستے منتقل کیا جا رہا ہے اور اس کی ترسیل کے حجم میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

انہوں نے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں بڑھتے ہوئے تعاون کو بھی اجاگر کیا، بالخصوص قازقستان اور ازبکستان کے ساتھ گرین انرجی کوریڈور کے قیام کے لیے مشترکہ کوششوں کا ذکر کیا۔

صدر علییف کے مطابق توانائی اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں میں قریبی رابطہ کاری سے علاقائی روابط مضبوط ہوں گے اور عالمی منڈیوں تک رسائی کے مزید مواقع پیدا ہوں گے۔

علاقائی امن، سلامتی اور استحکام پر زور

اپنے خطاب کے اختتام پر صدر الہام علییف نے واضح کیا کہ آذربائیجان اور وسطی ایشیائی ممالک کے درمیان تعاون محض اقتصادی اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں تک محدود نہیں بلکہ اس میں امن، سلامتی، سیاسی استحکام اور معاشی پائیداری بھی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ عوامل وسطی ایشیا اور آذربائیجان میں ترقی کے تسلسل، علاقائی تعاون کو آگے بڑھانے اور مشترکہ اہداف کے حصول کے لیے ناگزیر ہیں۔

صدر علییف نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ آذربائیجان علاقائی شراکت داری کو مضبوط بنانے، مشترکہ اقتصادی اقدامات کو وسعت دینے اور وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ تعاون کو مزید گہرا کرنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
این کارسن Previous post کینیڈین شاعرہ این کارسن ادب کے نوبیل انعام 2026 کی حقدار قرار
شہباز شریف Next post وزیراعظم شہباز شریف کی سعودی عرب پر حوثی حملوں کی مذمت، سعودی عرب کے دفاع اور خودمختاری کے تحفظ کے عزم کا اعادہ