تاجکستان

صدر تاجکستان امام علی رحمان کا سی آئی سی اے سربراہی اجلاس سے خطاب، ایشیا میں پائیدار امن، اعتماد سازی اور علاقائی تعاون کے فروغ پر زور

Read Time:3 Minute, 57 Second

دوشنبے، یورپ ٹوڈے: تاجکستان کے صدر اور قومی رہنما امام علی رحمان نے کہا ہے کہ موجودہ پیچیدہ عالمی صورتحال میں پائیدار امن و استحکام کے قیام کے لیے باہمی افہام و تفہیم، اعتماد سازی، بین الاقوامی قانون کے اصولوں کی بالادستی اور تنازعات کے پُرامن حل کو یقینی بنانا ناگزیر ہے۔

تاجکستان کی قومی خبر رساں ایجنسی خاور کے مطابق صدر امام علی رحمان نے 15 اکتوبر کو آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں ایشیا میں روابط اور اعتماد سازی کے اقدامات سے متعلق کانفرنس (سی آئی سی اے) کے ساتویں سربراہی اجلاس میں شرکت کی اور خطاب کیا۔

صدر امام علی رحمان نے اجلاس کی میزبانی اور پرتپاک مہمان نوازی پر آذربائیجان کے صدر الہام علییف کا شکریہ ادا کیا، جبکہ لاؤ پیپلز ڈیموکریٹک ریپبلک کو سی آئی سی اے کی رکنیت حاصل کرنے پر مبارک باد پیش کی۔

انہوں نے عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی مسابقت، مسلح تنازعات اور سلامتی کو درپیش خطرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تاجکستان ہمیشہ کثیر قطبی بین الاقوامی نظام اور ممالک کے درمیان تعمیری تعاون کے فروغ کا حامی رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں سی آئی سی اے ایشیائی ممالک کے درمیان مکالمے اور تعاون کے مؤثر پلیٹ فارم کے طور پر مزید اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تاجکستان کے لیے بین الاقوامی تعلقات میں امن اور اعتماد کا فروغ محض ایک سیاسی مؤقف نہیں بلکہ خارجہ پالیسی کی اہم ترجیح ہے۔

صدر امام علی رحمان نے بتایا کہ تاجکستان نے 2027 سے 2036 تک کے عرصے کو ’’آئندہ نسلوں کے لیے امن کے فروغ کی بین الاقوامی دہائی‘‘ قرار دینے کی تجویز پیش کی تھی، جسے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے منظور کر لیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس دہائی کے اہداف پر عمل درآمد ریاستوں کے درمیان تعمیری مکالمے، امن کے کلچر کے فروغ اور تنازعات کی روک تھام کے لیے سازگار ماحول پیدا کرے گا۔

صدر نے اعلان کیا کہ تاجکستان اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی شراکت داروں کے تعاون سے مئی 2027 میں دوشنبے میں اس موضوع پر ایک بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس منعقد کرے گا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ کانفرنس بین الاقوامی دہائی کے کامیاب آغاز اور دنیا بھر میں امن، مکالمے، یکجہتی اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہوگی۔

دہشت گردی اور عالمی سلامتی کے خطرات

اپنے خطاب میں تاجک صدر نے دہشت گردی، انتہا پسندی، بین الاقوامی منظم جرائم، سائبر خطرات اور منشیات کی غیر قانونی اسمگلنگ سمیت جدید دور کے عالمی چیلنجز پر بھی روشنی ڈالی۔

انہوں نے کہا کہ تاجکستان دہشت گردی اور اس کی مالی معاونت کے خلاف بین الاقوامی اور علاقائی تعاون کو مؤثر بنانے کے لیے ’’دوشنبے عمل‘‘ کو آگے بڑھاتا رہے گا۔

معاشی، تکنیکی اور علاقائی تعاون کی اہمیت

صدر امام علی رحمان نے سربراہی اجلاس میں شریک رہنماؤں اور وفود کی توجہ معاشی، سماجی اور تکنیکی ترقی کی جانب مبذول کراتے ہوئے کہا کہ یہ شعبے پائیدار امن و استحکام کی بنیاد ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تاجکستان کسٹمز اور لاجسٹکس کے طریقہ کار کو آسان بنانے، کثیرالوسائطی نقل و حمل کی راہداریوں کے قیام، ڈیجیٹل معیشت کے فروغ، توانائی اور سبز صنعت کی ترقی سمیت مختلف شعبوں میں علاقائی تعاون کو وسعت دینے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ انہوں نے ڈیجیٹل مالیاتی ٹیکنالوجیز کے فروغ کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

صدر نے وسطی ایشیا میں پائیدار ترقی کے لیے مصنوعی ذہانت کی ترقی اور اس کے مؤثر استعمال سے متعلق اہم قرارداد کی منظوری کا ذکر کرتے ہوئے دوشنبے میں علاقائی مصنوعی ذہانت مرکز کے قیام کے حوالے سے بھی اظہار خیال کیا۔

ماحولیاتی تبدیلی اور آبی تعاون

ماحولیاتی تبدیلی کے مسئلے پر گفتگو کرتے ہوئے صدر امام علی رحمان نے بتایا کہ اقوام متحدہ کی آبی کانفرنس 2028 دوشنبے میں منعقد ہوگی۔ انہوں نے آبی وسائل اور ماحولیاتی مسائل سے نمٹنے کے لیے عالمی تعاون کی اہمیت اجاگر کی۔

ثقافتی روابط اور نوجوانوں کا کردار

تاجک صدر نے ثقافت، سیاحت، نوجوانوں اور کھیلوں کے شعبوں میں کثیرالجہتی تعاون کو ایشیائی ممالک اور عوام کے درمیان دوستی، باہمی افہام و تفہیم اور اعتماد کے فروغ کا اہم ذریعہ قرار دیا۔

انہوں نے تجویز پیش کی کہ سی آئی سی اے کے نوجوانوں کے فورم کے امکانات کو وسعت دی جائے اور اسے رکن ممالک کے نوجوانوں کے درمیان مستقل مکالمے، تجربات کے تبادلے اور مشترکہ اقدامات کی تیاری کے پلیٹ فارم میں تبدیل کیا جائے۔

خطاب کے اختتام پر صدر امام علی رحمان نے اعتماد ظاہر کیا کہ رکن ممالک کی سیاسی خواہش اور مشترکہ کوششوں کے نتیجے میں سی آئی سی اے مستقبل میں بھی ایشیا میں مکالمے، تعاون، اعتماد سازی اور یکجہتی کے فروغ کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم کے طور پر اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
شہباز شریف Previous post وزیراعظم شہباز شریف کا پشاور میں اسکول کی چھت گرنے کے واقعے پر اظہارِ افسوس، مکمل رپورٹ طلب
پیوٹن Next post روس میں نئے سرمایہ کاری دور کے آغاز اور اختراعی منصوبوں میں سرمایہ کاری بڑھانے پر زور، صدر پیوٹن