
پاکستان، قطر، ترکیہ اور انڈونیشیا کا دفاعی صنعت میں تعاون بڑھانے کے لیے ’بدر‘ مفاہمتی یادداشت پر دستخط
اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: پاکستان، قطر، ترکیہ اور انڈونیشیا نے بدھ کو دوحہ میں چاروں ممالک کے درمیان دفاعی صنعت کے شعبے میں تعاون کو فروغ دینے کے لیے کثیرالجہتی مفاہمتی یادداشت ’بدر‘ پر دستخط کیے۔
قطر کی وزارت دفاع کی جانب سے جاری کردہ بیان، جسے پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی شیئر کیا، کے مطابق مفاہمتی یادداشت پر چاروں ممالک کی وزارتوں اور متعلقہ دفاعی اداروں کے نمائندوں نے دستخط کیے۔ ان میں پاکستان، قطر، انڈونیشیا اور ترکیہ کی وزارتیں دفاع، پاکستان کی دفاعی پیداوار کی تنظیم اور ترک ایوانِ صدر کے تحت دفاعی صنعتوں کا ادارہ شامل ہیں۔
دستخطی تقریب میں قطر کے نائب وزیراعظم اور وزیر مملکت برائے دفاعی امور شیخ سعود بن عبدالرحمن بن حسن الثانی، پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، ترکیہ کے وزیر قومی دفاع یشار گولر، انڈونیشیا کے نائب وزیر دفاع برائے لاجسٹکس، دفاعی صنعت و ٹیکنالوجی امور مارشل یوسف جوہاری اور ترک دفاعی صنعتوں کے ادارے (ایس ایس بی) کے صدر پروفیسر ہالوک گورگن نے شرکت کی۔
بیان میں مفاہمتی یادداشت پر دستخط کو مشترکہ تعاون مضبوط بنانے اور اسٹریٹجک شراکت داریوں کو فروغ دینے کے عزم کا عکاس قرار دیا گیا۔
مفاہمتی یادداشت کے تحت چاروں ممالک دفاعی پیداوار میں تعاون کو فروغ دیں گے اور اپنے دفاعی نظام کی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنائیں گے۔ اس کے علاوہ دفاعی شعبے میں تکنیکی تربیت، تحقیق و ترقی اور جدید دفاعی ضروریات سے ہم آہنگ حل اور صنعتوں کی ترقی کے لیے مشترکہ کوششیں کی جائیں گی۔
معاہدے کے تحت چاروں ممالک اپنی اپنی دفاعی پیداواری صلاحیتوں سے استفادہ کرتے ہوئے تعاون، انضمام اور دفاعی صنعتی استعداد میں اضافے کے لیے کام کریں گے، تاکہ اتحادی اور دوست ممالک کی ضروریات پوری کرنے میں مدد مل سکے۔ اس مفاہمتی یادداشت کو دستخط کنندہ ممالک کے لیے اقتصادی اعتبار سے بھی اہم قرار دیا گیا ہے۔
اس موقع پر پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا کہ پاکستان قابل اعتماد شراکت داروں کے ساتھ دفاعی تعاون کو مضبوط بنانے کو بہت اہمیت دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ مفاہمتی یادداشت علاقائی امن و استحکام میں کردار ادا کرنے کے مشترکہ عزم کی عکاس ہے۔
خواجہ محمد آصف نے کہا کہ پاکستان دفاعی شعبے میں خود انحصاری، صنعتی اشتراک، مشترکہ پیداوار اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے مواقع تلاش کرنے کا خواہاں ہے۔ ان اقدامات میں شراکت دار ممالک کی دفاعی صنعتوں کی باہمی تکمیلی صلاحیتوں سے استفادہ کیا جائے گا اور متعلقہ بین الاقوامی و ملکی قوانین اور ضوابط کی پابندی کو یقینی بنایا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس شراکت داری کے ذریعے مشترکہ تحقیق و ترقی، تربیتی تبادلوں اور صنعتی صلاحیتوں میں اضافے کے شعبوں میں تعاون کو آگے بڑھانے کا مقصد حاصل کیا جائے گا۔