انڈونیشیا

انڈونیشیا اور آسٹریلیا کا ڈیجیٹل دنیا میں بچوں کے تحفظ کے لیے تعاون مضبوط بنانے پر اتفاق

Read Time:2 Minute, 5 Second

جکارتہ، یورپ ٹوڈے: انڈونیشیا اور آسٹریلیا نے ڈیجیٹل دنیا میں بچوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے دوطرفہ رابطوں اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے۔

یہ اتفاق جمعہ کو جکارتہ میں ہونے والی اعلیٰ سطحی وزارتی ملاقات کے دوران ہوا، جس میں انڈونیشیا کی وزیر مواصلات و ڈیجیٹل امور میوتیا حفیظ اور آسٹریلیا کے وزیر داخلہ ٹونی برک نے شرکت کی۔ ملاقات میں دونوں ممالک کے ضابطہ جاتی نظاموں میں ہم آہنگی پیدا کرنے اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو ان کی ذمہ داریوں کا پابند بنانے کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات کے بعد میوتیا حفیظ نے کہا کہ انڈونیشیا اور آسٹریلیا کو مشترکہ اقدامات کے لیے عالمی سطح پر پیش رفت کا انتظار نہیں کرنا چاہیے، بلکہ دونوں ممالک کو اپنے اپنے ضوابط اور تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ٹھوس دوطرفہ اور علاقائی تعاون کو فروغ دینا چاہیے۔

انہوں نے دونوں ممالک کی پالیسیوں میں مماثلت کو اجاگر کرتے ہوئے بتایا کہ انڈونیشیا نے حکومتی ضابطہ نمبر 17 برائے 2025 کے تحت نابالغ بچوں کی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز تک رسائی محدود کرنے کے اقدامات کیے ہیں، جبکہ آسٹریلیا نے بھی عمر کی بنیاد پر سوشل میڈیا کے استعمال سے متعلق پابندیاں متعارف کرائی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کی پالیسیوں میں یکسانیت نگرانی کے نظام میں ہم آہنگی پیدا کرنے اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو ان کی ذمہ داریاں پوری کرنے کا پابند بنانے کے نئے مواقع فراہم کرتی ہے۔

ملاقات میں بچوں کے آن لائن تحفظ کے علاوہ سائبر سکیورٹی کو مضبوط بنانے، ڈیجیٹل مہارتوں کی ترقی اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے لیے مؤثر نظامِ حکمرانی وضع کرنے کے امور بھی زیر بحث آئے۔

میوتیا حفیظ نے بتایا کہ انڈونیشیا مصنوعی ذہانت کے حوالے سے صدارتی ضابطے کا مسودہ تیار کر رہا ہے، جس کے ساتھ قومی ترقی کا لائحہ عمل اور اخلاقی ضابطہ بھی مرتب کیا جا رہا ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے اتفاق کو عملی شکل دینے کے لیے انڈونیشیا نے ایک مشترکہ دوطرفہ ورکنگ گروپ قائم کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ اس گروپ کا مقصد ضوابط پر عمل درآمد کے لیے ٹھوس اقدامات مرتب کرنا اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کو ملکی قوانین اور حفاظتی تقاضوں کی پابندی کا پابند بنانا ہوگا۔

انڈونیشی وزیر نے کہا کہ اس تعاون کی کامیابی کا اصل معیار یہ ہوگا کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کس حد تک ملکی ضوابط کی پابندی کرتے ہیں اور موجودہ حفاظتی اقدامات بچوں اور خاندانوں کو مؤثر تحفظ فراہم کرنے میں کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
عاصم منیر Previous post دہشت گرد جہاں کہیں بھی ہوں، انہیں بھرپور نشانہ بنایا جائے گا: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
ویتنام Next post ویتنام اور بیلجیم کا دوطرفہ تعلقات کو نئی بلندیوں تک پہنچانے اور کثیرالجہتی تعاون کے فروغ پر اتفاق