ویتنام

ویتنام اور پولینڈ کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کے قیام پر اتفاق

Read Time:6 Minute, 36 Second

ہنوئی، یورپ ٹوڈے: ویتنام اور پولینڈ نے دوطرفہ تعلقات کو اسٹریٹجک شراکت داری کی سطح تک بڑھانے اور تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم، دفاع، سائنس و ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا ہے۔

یہ اتفاقِ رائے ویتنام کے وزیراعظم لی منہ ہنگ (Lê Minh Hưng) اور ان کے پولش ہم منصب ڈونلڈ ٹسک (Donald Tusk) کے درمیان پیر کو ہنوئی میں ہونے والی ملاقات اور باضابطہ مذاکرات کے دوران طے پایا۔

مذاکرات کے دوران وزیراعظم لی منہ ہنگ نے کہا کہ ویتنام اور پولینڈ کے درمیان 76 سال سے زائد عرصے پر محیط دوستانہ تعلقات اور مختلف شعبوں میں تعاون موجود ہے۔ انہوں نے آزادی کی جدوجہد، قومی اتحاد اور سماجی و اقتصادی ترقی کے سفر میں پولینڈ کی جانب سے فراہم کی جانے والی معاونت پر اظہارِ تشکر کیا۔

ویتنامی وزیراعظم نے روایتی شراکت داروں کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے پولینڈ کو وسطی اور مشرقی یورپ میں ویتنام کے اہم ترجیحی شراکت داروں میں سے ایک قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پولش وزیراعظم کا دورہ دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک نئے مرحلے کے آغاز کے لیے اہمیت رکھتا ہے۔

اس موقع پر ڈونلڈ ٹسک نے ویتنام کی سماجی و اقتصادی ترقی، تیز رفتار معاشی نمو اور عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے کردار کو سراہا۔ انہوں نے ویتنام کو جنوب مشرقی ایشیا میں پولینڈ کا اہم ترین شراکت دار اور ایشیا کے اہم شراکت داروں میں سے ایک قرار دیا۔

پولش وزیراعظم نے ویتنام کے اصلاحاتی عمل ’’دوئی موئی‘‘ (Đổi mới) کے تحت حاصل ہونے والی کامیابیوں پر مبارک باد دیتے ہوئے اعتماد ظاہر کیا کہ ملک اپنی چودھویں قومی پارٹی کانگریس کے مقرر کردہ ترقیاتی اہداف، بشمول آئندہ برسوں میں دو ہندسوں پر مشتمل اقتصادی شرح نمو کے ہدف، کے حصول میں پیش رفت جاری رکھے گا۔

سیاسی، تجارتی اور سرمایہ کاری تعاون کا فروغ

دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات میں پیش رفت، بالخصوص سیاسی و سفارتی روابط میں مضبوطی اور باہمی اعتماد میں اضافے کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے اعلیٰ سطح کے دوروں اور وفود کے تبادلوں کو باقاعدہ بنانے، موجودہ تعاون کے طریقہ کار کو مزید مؤثر بنانے اور سرکاری دوروں کے دوران طے پانے والے معاہدوں پر عمل درآمد یقینی بنانے پر اتفاق کیا۔

دونوں ممالک نے اقتصادی تعاون سے متعلق ویتنام۔پولینڈ بین الحکومتی کمیٹی کے اجلاس دوبارہ شروع کرنے اور نائب وزرائے خارجہ کی سطح پر باقاعدہ سیاسی مشاورت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

وزرائے اعظم نے بتایا کہ 2025 میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت کا حجم تقریباً چار ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گیا، جو 2024 کے مقابلے میں 14.8 فیصد زیادہ ہے۔ انہوں نے اس حجم کو 2030 تک چھ ارب ڈالر تک بڑھانے کے لیے مشترکہ کوششیں تیز کرنے پر اتفاق کیا۔

دونوں رہنماؤں نے یورپی یونین اور آسیان کی منڈیوں تک رسائی کے لیے اپنے اپنے جغرافیائی و اقتصادی مقام سے فائدہ اٹھانے اور دونوں ممالک کی کمپنیوں کے لیے تجارتی مواقع آسان بنانے پر بھی زور دیا۔

ریلوے، ایرو اسپیس، انفارمیشن ٹیکنالوجی، سائبر سکیورٹی، پروسیسنگ، مینوفیکچرنگ اور ادویہ سازی کو سرمایہ کاری اور تجارتی تعاون کے ترجیحی شعبوں میں شامل کیا گیا۔ رہنماؤں نے دونوں ممالک میں بڑے مشترکہ سرمایہ کاری منصوبوں کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے پولینڈ میں ایف پی ٹی سافٹ ویئر کی سرمایہ کاری کو قابلِ ذکر مثال قرار دیا۔

دونوں فریقوں نے ایل او ٹی پولش ایئرلائنز کی جانب سے ویتنام اور پولینڈ کے درمیان براہِ راست پروازوں کی بحالی کا خیرمقدم کیا اور اسے تجارت، سیاحت اور عوامی روابط کے فروغ کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا۔

وزیراعظم لی منہ ہنگ نے یورپی یونین۔ویتنام سرمایہ کاری تحفظ معاہدے (EVIPA) کی پولینڈ کی جانب سے توثیق پر شکریہ ادا کرتے ہوئے باقی یورپی یونین رکن ممالک کو بھی اس عمل کی تکمیل کے لیے ترغیب دینے کی درخواست کی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے کاروباری اداروں کے لیے شفاف اور مستحکم سرمایہ کاری کا ماحول فراہم کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔

انہوں نے پولینڈ پر زور دیا کہ وہ ویتنامی سمندری خوراک کی برآمدات پر عائد ’’یلو کارڈ‘‘ ہٹانے کے لیے یورپی کمیشن کی کوششوں کی حمایت کرے اور ویتنام کی زرعی، جنگلاتی اور ماہی گیری کی مصنوعات، سمندری خوراک، لکڑی کے فرنیچر، ٹیکسٹائل، ملبوسات اور جوتوں کی پولینڈ اور وسیع تر یورپی منڈیوں تک رسائی آسان بنانے میں تعاون کرے۔

دفاع، تعلیم، سائنس اور دیگر شعبوں میں تعاون

دونوں وزرائے اعظم نے دفاع و سلامتی، سرحد پار جرائم کے انسداد، سائبر سکیورٹی، قابلِ تجدید توانائی، سائنس و ٹیکنالوجی، تعلیم و تربیت، ثقافت، کھیل، سیاحت، زراعت، صحت، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے اور ماحول دوست معیشت کی جانب منتقلی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون وسعت دینے پر اتفاق کیا۔

انہوں نے تجارتی روابط، سیاحت اور عوامی سطح پر میل جول بڑھانے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان سفر کو آسان بنانے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

ویتنامی وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ پولینڈ میں مقیم ویتنامی شہریوں کو وہاں آباد ہونے، معاشرے میں ضم ہونے اور ملک کی ترقی میں حصہ لینے کے لیے سازگار حالات فراہم کیے جاتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ویتنامی برادری دونوں ممالک کے عوام کے درمیان رابطے کے پل کا کردار ادا کر سکتی ہے۔

پولش وزیراعظم نے ویتنام کی جانب سے پولینڈ کے معمار کازیمیرز کویتکووسکی، جو ’’کازک‘‘ کے نام سے معروف تھے، کی یادگار محفوظ رکھنے پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے ویتنام کے تاریخی و ثقافتی ورثے، بالخصوص ہیو، مائی سون اور ہوئی آن کے تحفظ میں مذکورہ معمار کی خدمات کو سراہا۔

دونوں ممالک نے مقامی حکومتوں اور مختلف علاقوں کے درمیان تعاون بڑھانے کے اقدامات کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ علاقائی شراکت داری عوام کے درمیان باہمی افہام و تفہیم اور دوستانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنا سکتی ہے۔

علاقائی اور عالمی امور پر مشترکہ مؤقف

مذاکرات میں دونوں رہنماؤں نے علاقائی اور عالمی صورتِ حال پر تبادلہ خیال کیا اور بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کے مطابق تنازعات کو پُرامن طریقوں سے حل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

انہوں نے ریاستوں کی آزادی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام، طاقت کے استعمال یا اس کی دھمکی سے گریز اور تمام متعلقہ فریقوں کے جائز مفادات کو مدنظر رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔

دونوں وزرائے اعظم نے اقوام متحدہ، آسیان۔یورپی یونین اور ایشیا۔یورپ اجلاس (ASEM) سمیت بین الاقوامی فورمز اور تنظیموں میں قریبی رابطہ کاری اور ایک دوسرے کی حمایت جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا۔

بحیرہ جنوبی چین، جسے ویتنام میں بحیرہ مشرق کہا جاتا ہے، کے حوالے سے دونوں فریقوں نے امن، استحکام، سلامتی، تحفظ اور جہاز رانی و فضائی پرواز کی آزادی برقرار رکھنے کی اہمیت اجاگر کی۔

انہوں نے اقوام متحدہ کے کنونشن برائے قانونِ سمندر 1982 (UNCLOS) کے مطابق تنازعات کے پُرامن حل، بحیرہ مشرق میں فریقین کے طرزِ عمل سے متعلق 2002 کے اعلامیے (DOC) پر مکمل اور مؤثر عمل درآمد اور ضابطۂ اخلاق (COC) کو جلد حتمی شکل دینے کی حمایت کی۔

اسٹریٹجک شراکت داری کے معاہدے اور نئے تعاون کی دستاویزات

مذاکرات کے بعد ویتنام اور پولینڈ نے مشترکہ اعلامیے کے ذریعے اپنے تعلقات کو اسٹریٹجک شراکت داری کی سطح تک لے جانے اور 2026 سے 2030 کے عرصے کے لیے دوطرفہ تعاون مضبوط بنانے کے ایکشن پلان پر اتفاق کیا۔

دونوں وزرائے اعظم کی موجودگی میں متعلقہ حکام نے ویتنام کی وزارتِ تعلیم و تربیت اور پولینڈ کی وزارتِ سائنس و اعلیٰ تعلیم کے درمیان اعلیٰ تعلیم اور سائنسی تحقیق کے شعبوں میں تعاون کے معاہدے کا تبادلہ کیا۔

اس کے علاوہ ویتنام کی وزارتِ ثقافت، کھیل و سیاحت اور پولینڈ کی وزارتِ کھیل و سیاحت کے درمیان سیاحتی تعاون سے متعلق مفاہمت کی یادداشت کا بھی تبادلہ کیا گیا۔

ملاقات کے اختتام پر پولش وزیراعظم ڈونلڈ ٹسک نے اپنے ویتنامی ہم منصب کو پولینڈ کے سرکاری دورے کی دعوت دی، جسے لی منہ ہنگ نے قبول کر لیا۔ دونوں رہنماؤں نے باہمی طور پر موزوں وقت پر اس دورے کے انتظامات طے کرنے پر اتفاق کیا۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
شہباز شریف Previous post جنرل (ر) عبدالوحید کاکڑ کے انتقال پر وزیراعظم شہباز شریف کا اظہارِ افسوس
مراکش Next post مراکش کے بادشاہ محمد ششم کی جانب سے قومی دفاعی انتظامیہ کے انتظامی اختیارات وزیراعظم فاطمہ الزہرا المنصوری کو تفویض