لاہور

کَیس لاہور میں امریکی قومی سلامتی حکمت عملی میں تبدیلی اور جنوبی ایشیا و مشرق وسطیٰ پر اس کے اثرات پر علمی نشست منعقد

سینٹر فار ایرو اسپیس اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز (کَیس) لاہور نے ۲۲ جنوری ۲۰۲۶ کو امریکی قومی سلامتی حکمت عملی میں تبدیلی کا نیا زاویہ اور جنوبی ایشیا و مشرق وسطیٰ پر اس کے اثرات کے عنوان سے ایک علمی نشست کا انعقاد کیا۔

ایک خود مختار تھنک ٹینک کے طور پر کَیس لاہور قومی سلامتی کے وسیع تر تناظر میں دلچسپی رکھنے والے ماہرین اور پالیسی سازوں کے لیے باقاعدگی سے علمی تقریبات منعقد کرتا ہے۔ اس نشست میں اساتذہ کرام دانشوروں اور متعلقہ شعبوں کے ماہرین نے شرکت کی۔ تقریب کا افتتاحی خطاب سفیر محمد ہارون شوکت ریٹائرڈ ڈائریکٹر کَیس لاہور نے کیا۔

ڈاکٹر معید یوسف وائس چانسلر بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی نے کہا کہ ۲۰۲۵ کی قومی سلامتی حکمت عملی سابقہ دستاویزات سے نمایاں طور پر مختلف ہے اور یہ صدر ٹرمپ کے عالمی وژن کی عکاس ہے۔ انہوں نے اسے ۱۹۰۴ کے روزویلٹ ڈاکٹرائن کی توسیع قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس حکمت عملی نے آزاد منڈی اور لبرل تجارتی نظام کو بنیادی طور پر بدل دیا ہے۔ ان کے مطابق اس تبدیلی کے نتیجے میں درمیانی طاقتیں ابھریں گی جو مفادات کی بنیاد پر اشتراکی بندوبست کریں گی۔ پاکستان کی جغرافیائی حیثیت ایشیا پیسیفک مشرق وسطیٰ وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے سنگم پر واقع ہونے کے باعث ایک اہم تزویراتی موقع فراہم کرتی ہے۔ اس تناظر میں انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کو تین بنیادی اقدامات اختیار کرنے ہوں گے۔ علاقائی رابطہ کاری کا مرکز بننا امداد پر مبنی ماڈل سے جیو اکنامکس کی طرف منتقلی اور بلاک سیاست سے اجتناب۔ آگے بڑھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کو عالمی بے یقینی کے ماحول میں عسکری صلاحیت مضبوط بناتے ہوئے معاشی ترقی کو نقصان پہنچائے بغیر سیاسی تقسیم کو کم کرنا ہوگا۔

اختتامی کلمات میں ایئر مارشل عاصم سلیمان ریٹائرڈ صدر کَیس لاہور نے کہا کہ ۲۰۲۵ کی قومی سلامتی حکمت عملی امریکی عالمی نقطہ نظر میں نمایاں تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے۔ ان کے مطابق یہ تبدیلی اہم ہے اور آئندہ برسوں میں مختلف خطوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت امریکا تعلقات تاریخی کم ترین سطح پر ہیں اور بھارت کا انڈو پیسیفک میں کردار کمزور ہوا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اگرچہ قومی سلامتی حکمت عملی میں پاکستان کا ذکر محتاط انداز میں کیا گیا ہے تاہم مارکۂ حق میں پاکستان کی کامیابی کے بعد امریکا کے ساتھ تعلقات میں بہتری آئی ہے جس سے پاکستان کی عالمی ساکھ اور اعتبار میں اضافہ ہوا ہے۔ مزید برآں مشرق وسطیٰ کے ساتھ روابط گہرا کرنے کے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔

تقریب کا اختتام ایک بھرپور سوال و جواب کے سیشن پر ہوا جس میں پاکستان کی دفاعی برآمدات قومی سلامتی پالیسی اور مشرق وسطیٰ کے ساتھ روابط پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ شرکاء نے کَیس لاہور کی جانب سے اس فکری اور بامقصد نشست کے انعقاد کو سراہا۔

ملک Previous post ملک کے مختلف حصوں میں وقفے وقفے سے بارش، سرد موسم اور برفباری کا سلسلہ جاری
پنجاب Next post وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت اجلاس: گھروں کی توسیع کے لیے بلاسود قرضوں کی منظوری