دہشت گردی

افغان سرحد سے درپیش خطرات کے خاتمے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے: سی ڈی ایف سید عاصم منیر

Read Time:3 Minute, 53 Second

وانا، یورپ ٹوڈے: چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے افغان سرزمین کا فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کی جانب سے استعمال کسی صورت قابلِ قبول نہیں، اور سرحد پار سے آنے والے خطرات کے خاتمے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے جاری کردہ بیان کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بدھ کے روز جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا کا دورہ کیا جہاں انہیں مغربی سرحد پر سیکیورٹی صورتحال اور آپریشنل تیاریوں سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

پاکستان اس وقت "آپریشن غضب للحق” جاری رکھے ہوئے ہے جو گزشتہ ہفتے پاکستان۔افغانستان سرحد پر تازہ جھڑپوں کے بعد شروع کیا گیا تھا۔ افغان طالبان فورسز کی جانب سے متعدد مقامات پر فائرنگ کے بعد پاکستانی افواج نے فوری جوابی کارروائی کی تھی۔

آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل کو خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال، جاری انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز اور سرحدی انتظامات سے متعلق جامع بریفنگ دی گئی۔ انہیں پاکستان۔افغانستان سرحد پر جاری کارروائیوں اور حالیہ پیش رفت سے بھی تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اس موقع پر کہا کہ افغان سرزمین کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کی جانب سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال کرنا ناقابلِ قبول ہے اور اس خطرے کے خاتمے کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ خطے میں پائیدار امن اسی صورت ممکن ہے جب افغان طالبان دہشت گردی اور دہشت گرد تنظیموں کی حمایت سے مکمل طور پر دستبردار ہو جائیں۔

واضح رہے کہ ریاست فتنہ الخوارج کی اصطلاح کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے وابستہ دہشت گردوں کے لیے جبکہ فتنہ الہندوستان کی اصطلاح بلوچستان میں سرگرم دہشت گرد تنظیموں کے لیے استعمال کرتی ہے۔

فیلڈ مارشل نے سرحدی علاقوں میں تعینات افسران اور جوانوں سے ملاقات بھی کی اور جاری جھڑپوں کے دوران ان کی پیشہ ورانہ مہارت، آپریشنل چوکسی اور بلند حوصلے کو سراہا۔ انہوں نے ملکی خودمختاری کے تحفظ اور خطے میں امن و استحکام کے لیے فوجیوں کے عزم کو قابلِ تحسین قرار دیا۔

پاکستان آرمی کی آپریشنل تیاریوں کو سراہتے ہوئے فیلڈ مارشل نے پاکستان۔افغانستان سرحد پر تعینات فارمیشنز کی جنگی صلاحیت، باہمی ہم آہنگی اور استقامت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔

وانا پہنچنے پر فیلڈ مارشل کا استقبال کور کمانڈر پشاور نے کیا۔ اس موقع پر انہوں نے یادگارِ شہداء پر پھولوں کی چادر بھی چڑھائی اور وطن کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے دعا بھی کی اور کہا کہ شہداء کی قربانیاں پاکستان کی سلامتی اور استحکام کی بنیاد ہیں۔

ادھر ایک سینئر پاکستانی سیکیورٹی اہلکار نے پیر کے روز بتایا کہ آپریشن غضب للحق اس وقت تک جاری رہے گا جب تک افغان طالبان حکومت یہ ضمانت فراہم نہیں کرتی کہ وہ پاکستان کے خلاف سرگرم دہشت گرد گروہوں کی معاونت بند کرے گی۔

سیکیورٹی اہلکار کے مطابق افغان طالبان کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں یا اپنی سرزمین سے کارروائیاں کرنے والے دہشت گرد گروہوں کے ساتھ۔

حکام کے مطابق اب تک اس آپریشن کے دوران پاکستانی سیکیورٹی فورسز 481 افغان طالبان جنگجوؤں کو ہلاک کر چکی ہیں جبکہ 226 چیک پوسٹیں تباہ کی جا چکی ہیں۔ اس کے علاوہ 696 سے زائد افغان جنگجو زخمی ہوئے، 198 ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں تباہ کی گئیں، 35 افغان چوکیاں قبضے میں لی گئیں اور افغانستان کے اندر 56 مقامات کو فضائی حملوں میں نشانہ بنایا گیا۔

اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ فروری میں کیے گئے فضائی حملوں کا ہدف دہشت گرد تھے، تاہم کابل حکومت پاکستان کے ان الزامات کو مسترد کرتی ہے کہ افغانستان اپنی سرزمین پر موجود دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی نہیں کر رہا۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ سرحدی جھڑپیں کئی افغان صوبوں تک پھیل چکی ہیں۔ حالیہ دنوں کی یہ کشیدگی گزشتہ اکتوبر کے بعد سب سے شدید سمجھی جا رہی ہے، جب سرحدی جھڑپوں میں دونوں جانب 70 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے اور دونوں ممالک کے درمیان زمینی سرحدیں زیادہ تر بند ہو گئی تھیں۔

گزشتہ سال 9 اکتوبر کو کابل میں دھماکوں کے بعد بھی کشیدگی میں اضافہ ہوا تھا، جس کے بعد طالبان فورسز نے پاکستان کی سرحد کے قریب علاقوں کو نشانہ بنایا اور جواب میں پاکستان نے سرحد پار گولہ باری کی۔ ان جھڑپوں میں دونوں جانب جانی و مالی نقصان ہوا اور 12 اکتوبر 2025 کو سرحدی گزرگاہیں بند ہونے کے باعث دوطرفہ تجارت بھی معطل ہو گئی تھی۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
شہباز شریف Previous post علاقائی بحران پر وزیراعظم شہباز شریف کی پارلیمانی رہنماؤں سے مشاورت، دہشت گردی کے خاتمے کے عزم کا اعادہ
ویتنام Next post ویتنام کی معیشت کو نئی رفتار دینے کا فیصلہ، وزیر اعظم کی سرمایہ کاری، برآمدات اور ڈیجیٹل معیشت کو فروغ دینے کی ہدایت