اقبال ؔ

اقبالؔ کا تصور زمان و مکاں

اقبال ؔکے تصور زمان و مکاں پر غور کرتے ہوئے ہمیں جس فلسفی سے سب سے زیادہ واسطہ پڑتا ہے وہ ہنری برگساں ہے اس سے یہ مطلب ہر گز نہیں نکلتا کہ اقبال ؔنے دوسرے فلاسفہ جیسے کانٹ ، ہیوم اور دے کارت وغیرہ کا سیر حاصل مطالعہ نہیں کیا یا ان کے نظریات کو جرح و تعدیل کے ساتھ قبول یا رد نہیں کیا۔ مگر جیسا کہ اقبال ؔ نے مختلف مقامات پر برگساں سے متاثر ہونے کا اعتراب کیا ہے ہمارے لئے یہ ضروری ہے کہ ہم برگساں کے افکار خصوصاً زمان و مکاں کے بارے میں اس کے تّصورات کا کسی حد تک ذکر کریں اور اس بات کا تعّین کریں کہ وہ کس حد تک اس کے ہمنوا ہیں اور کس مقام پر پہنچ کر وہ برگساں کا ساتھ چھوڑ دیتے ہیں۔

اقبال ؔ ، کانت اور برگساں کی طرح فلسفہ کا مطالعہ کرتے ہوئے صرف عقل کو ہی مشعل راہ نہیں بناتے۔

گُزر جا عقل سے آگے کہ یہ نور
چراغ ِ راہ ہے منزل نہیں ہے

جس طرح کانت اور برگساں عقل کی حدود کے قائل تھے اور اس کے تحدد پر یقین رکھتے تھے اور برگساں تو وجدان کی حقیقت کے قائل تھے اور اشیا کی ماہیت اور کاروبار ِکائنات کو سمجھنے کے لئے فلسفے میں اس کے استعمال کے قائل تھے بعینہِ اقبال ؔ بھی وجدان پر یقین رکھتے تھے اور سمجھتے تھے کہ یہ حقیقت کے کُلی ادراک (بخلاف عقل کے ذریعے جزوی ادراک) میں ممدو معاون ہو سکتا ہے۔

برگساں کا تصور زماں

ہنری برگساں (۱۸۵۹ء ۔ ۱۹۴۱ء) نے پہلی اہم تصنیف ‘‘زماں اور آزاد ارادہ ’’ (Time and free will) ۱۸۸۸ء میں لکھی ۔ اپنی دوسری اہم تصنیف ‘‘ تخلیقی ارتقاء ’ ’ (Creative evolution) کی وجہ سے ۱۹۰۷ء میں اس نے راتوں رات دنیا بھر میں شہرت و مقبُولیت حاصل کی۔

اپنی جوانی کے دور میں وہ ہربرٹ سپنسر سے متاثر رہا مگر اسی مطالعے کے دوران اس نے تین اہم فلسفیانہ امور پر غورو غوض کیا یہ امور مادہ اور زندگی، جسم اور ذہن اور جبرو اختیار (Deteromination and choice) تھے۔

مادہ پرست اپنی سو سالہ کوششوں اور ہزاروں تجربات کے باوجود کسی طور بھی یہ ثابت نہ کر سکے کہ زندگی غیر زندہ مادوں سے پیدا ہوتی ہے اسی طرح سوچ اور مغز کے باہم متعلق ہونے کے باوجود ان کے باہمی تعلق کی نوعیت کے بارے میں کچھ ثابت کرنا مادہ پرستوں کے لئے ممکن نہ ہوا ۔ جبر اور اختیار کے بارے میں بھی صورت حال یہی رہی۔ اگر بقول مادہ پرستوں کے لمحہ موجود اپنے اندر کوئی تخلیقی اختیار نہیں رکھتا اور مکمل طور پر پچھلے لمحے کی حرکت اور مادے کی میکانکی پیداوار ہوتا ہے۔ اور اسی طرح پچھلا لمحہ اپنے سے پہلے والے لمحے کا میکانکی نتیجہ ہو تو پھر ہم اس قدیم مادے تک جا پہنچتے ہیں اور وہی زبان و بیان اور عظیم شاعری اور نثر کی اصل وجہ ٹھہرتا ہے۔ برگساں کی سرعت کے ساتھ مقبولیت اور شہرت کی وجہ یہی ہے کہ اس نے اس ناقابلِ یقین نظّریے سے بغاوت کی۔

برگساں نے تلاش ِحقیقت کے سفر میں وجدان کو عمدہ وسیلہ ِعلم پایا کیونکہ: ۔


۱) وجدان میں حقیقت براہ ِراست منکشف ہوتی ہے۔ اس کے برعکس عقل و فکر کے ذریعہ حقیقت کا علم نہ براہ راست ہو سکتا ہے اور نہ یقینی کہا جا سکتا ہے۔
۲) وجدان کسی شے یا حقیقت کی تہہ تک پہنچنے کا نام ہے جبکہ عقل و فکر کسی شے کا محض بیرونی طواف کرتی ہے۔
۳) تعقل کے ذریعے ہم ذاتِ نفس تک کا ادراک نہیں کر سکتے اسی لئے دے کارت (Descartes) اور ہیوم(Hume) نے اسے کثرت خیال کیا اور اس ذاتِ نفس کی وحدت تک ان کی رسائی نہ ہو سکی جو اس کثرت کی بنیاد ہے۔ (۲)
برگساں نے محسوس کیا کہ ‘‘درونِ سینہ نفسیاتی کیفیات ’ احساسات یا حالات ’ کچھ اس طرح منسلک اور متغّیر ہیں کہ ان کو علیحدہ علیحدہ تقسیم ہی کیا جا سکتا ہے اور نہ ساکن اور جامد ہی قرار دیا جا سکتا ہے ۔۔۔۔۔وجدان کے ذریعے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ذاتِ نفس ایک مسلسل بہاؤ اور سیلان کی حامل ہے۔ درون ِسینہ کی زندگی میں یہ معلوم کرنا بہت مشکل ہے کہ کون سا جذبہ یا احساس کہاں سے شروع ہوا اور کب شروع ہوا۔ کہاں ختم ہوا اور کب ختم ہوا۔ وہ زندگی کا ایک ایسا بہاؤ ہے جو ایک غیر منقطع تسلسل ہے اور یہ سلسلہ نہ کہیں ختم ہوتا ہے اور نہ کہیں سے شروع ہوتا ہے۔ ’’(۳)
برگساں اور اقبال ؔ میں بعض مقامات پر مماثلت پائی جاتی ہے۔ رضی الدین صدیقی اپنے مضمون ‘‘اقبال ؔکا زمان و مکان کا تصور’’ میں فرماتے ہیں۔
‘‘اقبال ؔاعتراف کرتے ہیں کہ ‘‘ہم عام آدمیوں کے لئے یہ ممکن نہیں کہ آئن سٹائن کے زمان کی حقیقی ماہیت کو سمجھ سکیں’’۔ اگر وہ (اقبال ؔ) اسے مکمل طور پر سمجھ پاتے تو انہیں معلوم ہو جاتا کہ جدید سائنس’ کلاسیکل فزکس کے ٹھوس اور غیر متبّدل شُدہ اصولوں کے لئے کوئی گنجائش نہیں چھوڑتی۔ حتیٰ کہ نظری حوالے سے بھی نہیں۔ لیکن یہ پھر بھی قرآن کے تخلیقی ارتقاء کے لئے وسیع مواقع دیتی ہے۔ کُل یوم ھو فی شان ’ جسے بعد میں برگساں نے اختیار کر لیا ہے’’۔ (۴)
نیوٹن کا خیال تھا کہ ‘‘مطلق ’ صحیح اور ریاضیاتی زمان اپنے اندر ہی بہتا ہے اور اپنی ماہیت کے اعتبار سے یکسانیت کے ساتھ بغیر کسی خارجی شے کے تعلق کے ’ بہتا جا تا ہے اسے دورانیہ بھی کہتے ہیں’’۔(۲)۵
اقبالؔکو زمان کے اس نظریے سے اتفاق نہیں تھا وہ کہتے ہیں کہ زمان اگر ایک ایسی شے ہے جو خود بخود اور اپنی ہی فطرت (ماہیت) سے مساوی بہاؤ رکھتا ہے ’ تو پھر ہم یہ نہیں سمجھ پاتے کہ کیسے ایک چیز وقت کی اس ندی میں ڈوب کر متاثر ہوتی ہے اور کیسے وہ چیز ان چیزوں سے مختلف ہو جاتی ہے جو اس کے (وقت کے ) بہاؤ میں حصہ نہیں لیتیں۔ اقبالؔ کہتے ہیں کہ ‘‘ نہ ہی ہم وقت کے آغاز ’ انتہا اور اس کی حدود کاتعّین کر سکتے ہیں اگر ہم ندی کے استعارے کے ذریعے اسے سمجھنے کی کوشش کریں۔ علاوہ ازیں اگر بہاؤ’ حرکت یا گزر ا ن ہی وقت کی ماہیت کے بارے میں حتمی لفظ ہے تو اس پہلے وقت کی حرکت کا وقت مقرر کرنے کے لئے ایک اور وقت ہونا چاہئے اور ایک اور وقت اس دوسرے وقت کے تعّین کے لئے ہونا چاہئے اور یوں یہ سلسلہ لا محدود ہوجا نا چاہئے ’’ ۔ (۳)۶
چنانچہ وقت کے اس معرضی تصور کو اقبالؔ ناقص خیال کرتے ہیں وہ وقت کو یونانیوں کی طرح غیر حقیقی نہیں سمجھتے اور نہ ہم اس حقیقت سے انکار کر سکتے ہیں کہ اگر ہمارے پاس وقت کے ادراک کے لئے اعضانہ بھی ہوں تو بھی یہ (وقت) ایک طرح کا بہاؤ ہے اور یوں ایک صحیح معروضی ایٹمی پہلو رکھتا ہے جیسا کہ جدید کو انٹم نظریے نے اس کی تصدیق کی ہے’’ ۔ (۲)۷

برگساں اوراقبالؔ دونوں کے نزدیک زمانہ کا وہ نظریہ غلط ہے جس میں اسے ماضی’ حال اور مستقبل میں تقسیم کیا گیا تھا یہ حساب دانوں اور طبیعات کے ماہرین نے اپنی سہولت کے لئے گھڑ لیا تھا۔ جیسے نیوٹن وغیرہ اسے ایک خط ِمُستقیم تصور کرتے ہیں (یاد رہے اسی لکیر کے تصور کے سہارے زینو نے حرکت کے تصور کو ہی غلط ثابت کر دیا تھا۔ اقبالؔ نے اپنے خطبات کے صفحہ ۳۵سے ۳۷پر زینو کے تصور ِمکان پر سیر حاصل گفتگو کی ہے) (۳)۷ جس میں ماضی’ حال اور مستقبل ہے۔ اس طرح حال وہ نقطہ موہُوم بن جاتا ہے جسے پار کر لیا گیا ہے (اور وہ ماضی بن گیا ہے یا اسے پار کرنا ابھی باقی ہے (مستقبل) اور ماضی وہ ہے جو گذر گیا (یعنی ختم ہو گیا) حالانکہ ایسا نہیں ہے ہمارا ماضی ہماری آیئندہ کی زندگی کا تعّین کرتا ہے ۔ چنانچہ حساب دانوں کا نظریہ ِزمان اس وجدان کے قطعی برعکس ہے۔

حلقۂ اربابِ ذوق راولپنڈی Previous post حلقۂ اربابِ ذوق راولپنڈی کا ہفتہ وار تنقیدی اجلاس، ادب و شاعری پر مکالمہ
تاجکستان Next post تاجکستان میں انٹرنیشنل نوروز سینٹر کے قیام کا اعلان