پاکستان

بھارتی پروازوں پر پابندی برقرار، پاکستان نے فضائی حدود کی بندش میں 23 مارچ تک توسیع کر دی

کراچی،یورپ ٹوڈے: پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (پی اے اے) نے بدھ کے روز بھارتی طیاروں کے لیے ملکی فضائی حدود کی بندش میں مزید ایک ماہ کی توسیع کر دی ہے، جس کے تحت یہ پابندی اب 23 مارچ تک مؤثر رہے گی۔

پی اے اے نے حکومتی فیصلے کے بعد نیا نوٹس ٹو ایئر مین (نوٹام) جاری کرتے ہوئے تصدیق کی کہ یہ پابندی بھارت میں رجسٹرڈ تمام طیاروں پر لاگو ہوگی، جن میں بھارتی ایئرلائنز کی ملکیت، آپریشن یا لیز پر لیے گئے طیارے اور بھارتی فوجی پروازیں بھی شامل ہیں۔

سنہ 2022 کی پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی (پی سی اے اے) کی دستاویز کے مطابق پاکستان کی فضائی حدود کو دو فلائٹ انفارمیشن ریجنز (ایف آئی آرز) — کراچی (OPKR) اور لاہور (OPLR) — میں تقسیم کیا گیا ہے، اور تازہ نوٹام دونوں زونز پر لاگو ہوگا۔

پاکستان نے اپریل 2025 سے بھارتی طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر رکھی ہیں، جب دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی اس وقت شدت اختیار کر گئی تھی جب بھارتی غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر کے علاقے پہلگام میں ایک حملے میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ نئی دہلی نے بغیر ثبوت پیش کیے اسلام آباد پر اس واقعے میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا تھا، جسے پاکستان نے مسترد کرتے ہوئے غیر جانبدارانہ تحقیقات کی پیشکش کی تھی۔

صورتحال مئی کے اوائل میں مزید سنگین ہو گئی تھی جب دونوں جوہری طاقتوں کے درمیان دہائیوں کی شدید ترین عسکری جھڑپیں ہوئیں۔ پاکستانی حکام کے مطابق اس کشیدگی کے دوران ملکی افواج نے بھارت کے سات جنگی طیارے مار گرائے تھے۔ بعد ازاں امریکی ثالثی کے ذریعے جنگ بندی عمل میں آئی، تاہم فضائی حدود کی پابندیاں برقرار رہیں۔

بھارتی ایئرلائنز کو اس پابندی کے باعث نمایاں آپریشنل اخراجات کا سامنا ہے، کیونکہ انہیں مشرقِ وسطیٰ، یورپ اور امریکا جانے والی پروازوں کے لیے طویل متبادل راستے اختیار کرنا پڑ رہے ہیں۔ صنعت سے وابستہ اندازوں کے مطابق ان متبادل روٹس کے باعث ایندھن کے اخراجات میں 29 فیصد تک اضافہ اور بعض طویل فاصلے کی پروازوں کے دورانیے میں تین گھنٹے تک اضافہ ہوا ہے۔

ایئر انڈیا اس سے قبل کہہ چکی ہے کہ فضائی حدود کی بندش کے باعث اس کے سالانہ قبل از ٹیکس منافع میں تقریباً 455 ملین ڈالر تک کمی ہو سکتی ہے، جس کے پیش نظر کمپنی نے عارضی حکومتی معاونت کی درخواست بھی کی ہے۔

ٹرمپ Previous post صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا “بورڈ آف پیس” واشنگٹن میں منعقد، غزہ جنگ بندی کے اگلے مرحلے پر غور
غزہ Next post غزہ میں قیامِ امن کی کوششوں میں کردار ادا کریں گے، حماس کو غیر مسلح کرنے کی کسی مہم کا حصہ نہیں بنیں گے: دفترِ خارجہ