ویزا

چین نے ویزا فری پالیسی میں نو مزید ممالک کو شامل کرلیا

Read Time:1 Minute, 54 Second

بیجنگ، یورپ ٹوڈے: چین نے اپنی ویزا فری پالیسی میں توسیع کرتے ہوئے نو مزید ممالک، بشمول آٹھ یورپی ممالک، کے شہریوں کو 30 دن تک بغیر ویزا کے کاروبار، سیاحت اور دیگر دوروں کے لیے داخلے کی اجازت دے دی ہے۔ یہ پالیسی 30 نومبر 2024 سے نافذ العمل ہوگی۔

نئے شامل ممالک میں بلغاریہ، رومانیہ، کروشیا، مونٹینیگرو، شمالی مقدونیہ، مالٹا، ایسٹونیا، اور لٹویا شامل ہیں۔ ان ممالک کے عہدیداروں اور سیاحت کے ماہرین نے اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے مضبوط تعلقات کی جانب اہم قدم قرار دیا ہے۔

مالٹا کے نائب وزیر اعظم اور وزیر برائے خارجہ و یورپی امور، ایان بورگ نے جمعہ کے روز اس پالیسی کو دونوں ممالک کے طویل المدتی تعلقات میں ایک اور سنگ میل قرار دیا۔ انہوں نے کہا، "یہ ویزا فری معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان مضبوط اعتماد اور قریبی تعلقات کو فروغ دینے کے عزم کا عکاس ہے۔ یہ نہ صرف ہمارے شہریوں کے لیے سفر کو آسان بناتا ہے بلکہ تعاون اور نئے تجارتی مواقع کے لیے راہیں بھی ہموار کرتا ہے۔”

کروشیا کی سیاحتی گائیڈ برانکا پیریک نے اس پالیسی کو سیاحت اور اس سے وابستہ صنعتوں کے لیے ایک خوشخبری قرار دیا۔ پیریک، جو اپنی ٹریول ایجنسی قائم کر رہی ہیں، نے کہا کہ یہ اقدام چین کی دنیا کے لیے کھلنے کی علامت ہے اور چین اور کروشیا کے درمیان دوستانہ تعلقات کو مزید مضبوط کرے گا۔

چینی ٹور گائیڈ ژی ڈونگ، جو ایسٹونیا اور لٹویا کے سیاحوں کے لیے خدمات فراہم کرتے ہیں، نے بھی اس پالیسی کو ان دونوں بالٹک ممالک اور چین کے درمیان سیاحت کو فروغ دینے میں معاون قرار دیا اور چین اور بالٹک ممالک کے درمیان براہِ راست پروازوں کی ضرورت پر زور دیا۔

رومانیہ کے سیاحتی شہر پیاترا نیامٹ کی ڈیسٹینیشن منیجر نینا مرلسکا نے کہا کہ ویزا فری پالیسی رومانیہ اور چین کے درمیان تعاون میں اضافہ کرے گی۔ انہوں نے چین کے سفر کے ذاتی تجربات کو خوشگوار قرار دیتے ہوئے کہا کہ چین سیاحوں کے لیے ایک بہت دوستانہ ملک ہے۔

30 نومبر 2024 سے، چین کی ویزا فری پالیسی کے تحت کل 38 ممالک کے عام پاسپورٹ رکھنے والے شہری کاروبار، سیاحت، خاندانی دوروں، تبادلوں، اور ٹرانزٹ کے لیے 30 دن تک بغیر ویزا کے چین میں داخل ہو سکیں گے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
ترکیہ Previous post پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تجارت 5 ارب ڈالر تک بڑھانے کے لیے اقدامات کا اعلان
سانیا Next post چین کے 12ویں قومی روایتی کھیلوں کا سانیا میں شاندار افتتاح