شہباز شریف

علاقائی بحران پر وزیراعظم شہباز شریف کی پارلیمانی رہنماؤں سے مشاورت، دہشت گردی کے خاتمے کے عزم کا اعادہ

اسلام آباد اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں پارلیمانی رہنماؤں اور نمائندوں نے موجودہ علاقائی صورتحال کے پیش نظر قومی اتحاد، اتفاقِ رائے اور یکجہتی کی ضرورت پر زور دیا۔ سرکاری نشریاتی ادارے ریڈیو پاکستان کے مطابق اجلاس میں ملک اور خطے میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی کشیدگی پر تفصیلی غور کیا گیا۔

وزیراعظم آفس (پی ایم او) کے جاری کردہ بیان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس کے شرکا کو پاکستان اور افغانستان کے درمیان بدلتی ہوئی صورتحال کے ساتھ ساتھ مشرقِ وسطیٰ اور خلیجی خطے میں حالیہ کشیدگی سے آگاہ کیا۔ اس موقع پر پارلیمانی رہنماؤں کو پاکستان کی خارجہ پالیسی، سفارتی حکمت عملی اور علاقائی سلامتی سے متعلق مؤقف پر مفصل بریفنگ دی گئی۔

اجلاس کے دوران سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی رہنماؤں نے کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کیا اور اس بات پر زور دیا کہ موجودہ حالات میں قومی سطح پر اتحاد، اتفاقِ رائے اور مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنا انتہائی ضروری ہے۔ شرکا نے خطے میں امن کے قیام کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پر سفارتی سرگرمیوں کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔

اجلاس میں اس عزم کا بھی اعادہ کیا گیا کہ ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے تمام سیاسی قوتیں متحد ہیں۔ شرکا نے وزیراعظم کی جانب سے قومی مفاد میں تمام سیاسی قیادت کو اعتماد میں لینے کے اقدام کو بھی سراہا۔

اجلاس میں سینیٹ کے چیئرمین سید یوسف رضا گیلانی، قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق، ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان، ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی غلام مصطفیٰ شاہ، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن سمیت وفاقی وزرا، مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین اور پارلیمانی نمائندوں نے شرکت کی۔ تاہم پاکستان تحریک انصاف نے اس اجلاس میں شرکت نہیں کی۔

اجلاس میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی پر بھی گفتگو کی گئی۔ گزشتہ ہفتے افغانستان کی جانب سے سرحدی کارروائی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان جھڑپیں ہوئی تھیں، جس کے جواب میں پاکستان نے فضائی حملے کیے تھے۔ تازہ جھڑپوں کے بعد جمعرات کی رات "آپریشن غضب للحق” شروع کیا گیا جب افغان طالبان فورسز نے متعدد مقامات پر فائرنگ کی، جس پر پاکستانی فورسز نے فوری جوابی کارروائی کی۔

اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ افغانستان اپنی سرزمین پر موجود دہشت گرد گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کر رہا، تاہم طالبان حکومت اس الزام کو مسترد کرتی ہے۔ حالیہ جھڑپیں کئی افغان صوبوں تک پھیل چکی ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان زمینی سرحدیں زیادہ تر بند ہیں۔

اجلاس میں خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، جہاں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق مشترکہ کارروائی کے دوران ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور متعدد اعلیٰ حکام ہلاک ہوئے، جبکہ ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ حملوں میں اسکولوں اور اسپتالوں کو بھی نشانہ بنایا گیا جس سے سیکڑوں شہری جاں بحق ہوئے۔

ابتدائی حملوں میں جنوبی ایران کے ایک اسکول پر حملے کے نتیجے میں تقریباً 163 طالبات کے جاں بحق ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔ ایران نے اس کے جواب میں اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا جس کے باعث عالمی فضائی سفر اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی اور عالمی توانائی کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے مطابق ایران نے 700 ڈرونز اور سینکڑوں میزائلوں کے ذریعے امریکہ اور اسرائیل کے 500 سے زائد مقامات کو نشانہ بنایا۔

اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور سفارتی حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔

ترکمانستان Previous post ترکمانستان نے ایران سے غیر ملکی شہریوں کے محفوظ انخلا کے لیے سرحد کھول دی
دہشت گردی Next post افغان سرحد سے درپیش خطرات کے خاتمے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے: سی ڈی ایف سید عاصم منیر