
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران کے جوہری پروگرام پر بحث، پاکستان کا سفارت کاری پر زور
اقوامِ متحدہ، یورپ ٹوڈے: اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں بدھ کے روز مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں ایران کے جوہری پروگرام پر بحث کی گئی، جہاں پاکستان نے 15 رکنی کونسل کو بتایا کہ پائیدار حل سفارت کاری کو اپنانے میں ہے نہ کہ اسے قلیل مدتی پالیسیوں کی خاطر ترک کرنے میں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے ایران کے جوہری اور میزائل پروگرام سے متعلق عالمی پابندیوں کی نگرانی کرنے والی سلامتی کونسل کی کمیٹی 1737 کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مکالمہ، سفارت کاری اور تعمیری روابط ہی آگے بڑھنے کا واحد قابلِ عمل راستہ ہیں، تاہم افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ سفارت کاری کو ترک کرکے فوجی ذرائع کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال جون کے بعد ہونے والی پیش رفت اور ایران پر بلااشتعال حملوں سے شروع ہونے والی موجودہ صورتحال نے ایران کے جوہری معاملے کے تناظر کو گہرے طور پر متاثر کیا ہے۔
ایرانی جوہری مسئلے پر سفارت کاری کے تعطل پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے پاکستانی مندوب نے کہا کہ جوائنٹ کمپریہینسو پلان آف ایکشن (JCPOA)، جسے ایران جوہری معاہدہ بھی کہا جاتا ہے، کے پس منظر میں موجود بنیادی اصول اور کثیرالجہتی تعاون کی روح آج بھی برقرار ہے، اسی طرح 2015 میں سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کی متفقہ منظوری بھی اپنی اہمیت رکھتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ کشیدگی اور جاری تنازع کے باوجود اس بات کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے کہ انہی آزمودہ اصولوں کو اپنایا جائے جو پائیدار حل فراہم کر سکتے ہیں، بجائے اس کے کہ قلیل المدتی پالیسیوں کی خاطر انہیں نظرانداز کیا جائے۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ JCPOA دراصل مکالمے، سفارت کاری اور عملی حکمت عملی پر مبنی ایک منفرد معاہدہ تھا، جو طویل اور مشکل مگر تعمیری مذاکرات کا نتیجہ تھا اور جس نے باہمی اقدامات کے ذریعے تمام فریقوں کے خدشات کے جامع حل کے لیے ایک واضح راستہ متعین کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ اقوامِ متحدہ کے منشور میں شامل تنازعات کے پرامن حل کے اصول کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے اس مسئلے کے مذاکراتی حل کی حمایت کی تھی اور آج بھی یہی اس کا بنیادی مؤقف ہے۔
پاکستانی مندوب نے طاقت کے استعمال، شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کی نگرانی میں موجود جوہری تنصیبات پر حملوں کی مذمت بھی کی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جوہری تنصیبات پر حملے نہ صرف مقامی آبادی بلکہ پورے خطے کے لیے سنگین ماحولیاتی اور سلامتی کے خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔
انہوں نے IAEA کے اہم تصدیقی کردار میں رکاوٹ ڈالنے سے بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایجنسی رکن ممالک کی جوہری حفاظتی ذمہ داریوں کی تکنیکی بنیادوں پر معروضی، غیرجانبدار اور قابلِ اعتماد طریقے سے نگرانی کی ذمہ دار ہے۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے زور دیا کہ IAEA کو اپنی قانونی ذمہ داریاں ادا کرنے کے لیے مکمل سہولت دی جانی چاہیے اور ایران میں اس کی تصدیقی سرگرمیاں بلا رکاوٹ دوبارہ شروع ہونی چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان مشرقِ وسطیٰ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کرتا ہے اور تمام فریقوں سے اپیل کرتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کریں، مزید کشیدگی سے گریز کریں، مستقل جنگ بندی قائم کریں اور مکالمے کا راستہ اختیار کریں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تمام سفارتی کوششیں اسی مقصد کے حصول کے لیے ہیں۔