
خطے کی سکیورٹی صورتحال پر سیاسی قیادت کو ان کیمرہ بریفنگ دینے کا فیصلہ، وزیراعظم اجلاس کی صدارت کریں گے
اسلام آباد،یورپ ٹوڈے: وفاقی حکومت نے منگل کے روز خطے میں تیزی سے بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال، بالخصوص ایران سے متعلق حالیہ پیش رفت اور افغانستان کے ساتھ جاری کشیدگی کے تناظر میں سیاسی جماعتوں کے سربراہان اور پارلیمانی رہنماؤں کو بند کمرہ بریفنگ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ اعلیٰ سطحی اجلاس ایسے وقت میں طلب کیا گیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور امریکا۔اسرائیل اتحاد کے درمیان کشیدگی شدت اختیار کر چکی ہے اور خطے کے کئی ممالک اس صورتحال سے متاثر ہو رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں ایران کی جانب سے بعض خلیجی ریاستوں پر ڈرون اور میزائل حملوں کے بعد خطے کی سکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف اس اہم بریفنگ کی صدارت کریں گے جبکہ اعلیٰ عسکری قیادت بھی اجلاس میں شریک ہونے کا امکان ہے۔ اجلاس بدھ کے روز صبح 11:30 بجے وزیراعظم ہاؤس میں منعقد ہوگا۔
سینیٹ میں وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ نے اس بریفنگ کے انعقاد کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی و عوامی امور رانا ثناء اللہ کو سیاسی قیادت سے رابطوں اور ذاتی طور پر دعوت نامے پہنچانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال نہایت حساس ہے کیونکہ پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے ہیں جبکہ ایران کے ساتھ بھی قریبی تعلقات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر سیاست سے بالاتر ہو کر قومی مفاد کو مقدم رکھنا ہوگا اور وزیراعظم تمام سیاسی قیادت کو ان کیمرہ بریفنگ دیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اجلاس میں شریک رہنماؤں کی آراء اور تجاویز آئندہ حکمتِ عملی کی تشکیل میں مددگار ثابت ہوں گی۔
دریں اثنا نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی سینیٹ میں بریفنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اجلاس میں مشرقِ وسطیٰ اور خلیجی خطے کی صورتحال کے ساتھ افغانستان سے متعلق امور پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
وزیراعظم کی ہدایات پر رانا ثناء اللہ نے ایک وفد کے ہمراہ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی اور سینیٹ میں قائد حزب اختلاف راجہ ناصر عباس سے ملاقات کر کے انہیں باضابطہ طور پر بریفنگ میں شرکت کی دعوت دی۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ موجودہ حالات تقاضا کرتے ہیں کہ ذاتی اور جماعتی سیاست سے بالاتر ہو کر قومی سلامتی کے معاملے پر اتحاد کا مظاہرہ کیا جائے۔
تاہم محمود خان اچکزئی نے اس بریفنگ کے طریقہ کار پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بریفنگ کو چند منتخب رہنماؤں تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ پورے پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق بہتر ہوگا کہ یہ بریفنگ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس یا کم از کم سینیٹ کے فورم پر دی جائے۔
انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے حتمی فیصلہ اندرونی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے بھی کہا کہ اس معاملے پر مشاورت جاری ہے۔ ان کے مطابق ان کی جماعت نے پارلیمنٹ کا اجلاس بلانے کی تجویز دی ہے جبکہ حکومت کا مؤقف ہے کہ پہلے جماعتی سربراہان کا اجلاس منعقد کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ اصولی طور پر اس بات پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ جلد ہی پارلیمنٹ کا اجلاس بھی بلایا جانا چاہیے تاکہ عوام کے منتخب نمائندے کھل کر صورتحال پر بحث کر سکیں۔
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے بتایا کہ انہیں حکومت کا پیغام موصول ہو چکا ہے اور پارٹی کے اندر اس حوالے سے مشاورت جاری ہے۔
یہ بریفنگ اتوار کے روز وزیراعظم کی زیر صدارت ہونے والے اعلیٰ سطحی سول۔ملٹری جائزہ اجلاس کے بعد طلب کی گئی ہے جس میں خلیجی خطے کی صورتحال، ایران پر حالیہ حملوں کے اثرات، افغانستان سے متعلق معاملات، داخلی سکیورٹی خدشات اور انخلا کے انتظامات کا جائزہ لیا گیا تھا۔ حساس نوعیت کے باعث اس اجلاس کی تفصیلات خفیہ رکھی گئی ہیں۔
پی ٹی آئی کا بائیکاٹ کا اعلان
ادھر پاکستان تحریک انصاف نے اعلان کیا ہے کہ وہ وزیراعظم کی طلب کردہ اس بریفنگ میں شرکت نہیں کرے گی۔ پارٹی نے کہا ہے کہ جب تک اس کے بانی چیئرمین کو اپنے ذاتی معالج سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جاتی، وہ حکومت کی جانب سے بلائی گئی کسی بھی میٹنگ میں شرکت نہیں کرے گی۔
پی ٹی آئی کے جاری کردہ بیان کے مطابق پارٹی اس شرط کی تکمیل تک نہ صرف اس اجلاس بلکہ آئندہ ہونے والی کسی بھی حکومتی مشاورت میں شریک نہیں ہوگی۔