پاکستان

جنوبی سوڈان کی بگڑتی صورتحال: پاکستان کا امن معاہدے پر نیک نیتی سے عمل اور جامع مذاکرات پر زور

اقوام متحدہ،یورپ ٹوڈے: 2018 کے جنوبی سوڈان امن معاہدے کے فریقین کے درمیان سیاسی تعطل اور مسلح جھڑپوں میں خطرناک اضافے کے تناظر میں پاکستان نے تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ نیک نیتی کے ساتھ معاہدے پر دوبارہ کاربند ہوں اور اختلافات کو جامع اور بامعنی مذاکرات کے ذریعے حل کریں۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ قومی اتفاقِ رائے کی تجدید کی جائے۔ سلامتی کونسل نے منگل کے روز 2011 میں جمہوریہ سوڈان سے آزادی حاصل کرنے والے افریقی ملک جنوبی سوڈان کی بگڑتی صورتحال پر بحث کی۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اس نازک مرحلے پر ایک بار پھر تشدد کی طرف واپسی کو روکنا ناگزیر ہے، بصورت دیگر اس ناکامی کا سب سے زیادہ خمیازہ جنوبی سوڈان کے عوام کو بھگتنا پڑے گا جبکہ اس کے سنگین علاقائی اثرات بھی مرتب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اب دوری یا لاتعلقی نہیں بلکہ گہرے اور مؤثر روابط کی ضرورت ہے۔

سفیر عاصم احمد نے اس موقع پر United Nations Mission in South Sudan (یونیمِس) کے اہم کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ بڑھتی ہوئی سیاسی غیر یقینی، بین الجماعتی تشدد اور علاقائی اثرات کے پیش نظر مشن کا فعال اور مضبوط رہنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونیمِس کی آئندہ مدت کی تجدید انتہائی اہمیت کی حامل ہے اور اس کی بنیادی صلاحیتوں کو برقرار رکھا جانا چاہیے تاکہ جنوبی سوڈان کے عوام کی مدد اور مزید بگاڑ کو روکا جا سکے۔ ساتھ ہی انہوں نے اقوام متحدہ کے عملے کی حفاظت اور سلامتی کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا۔

انہوں نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں مالیاتی بحران کے باعث یونیمِس کی آپریشنل صلاحیت پر پڑنے والے اثرات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے نازک ماحول میں مشن کی صلاحیت میں کمی شہریوں کے تحفظ اور اقوام متحدہ کے عملے کی سلامتی کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتی ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ سلامتی کونسل کی جانب سے منظور شدہ 17 ہزار فوجیوں میں سے اس وقت صرف تقریباً 9 ہزار 700 اہلکار ہی یونیمِس میں موجود ہیں۔

سفیر عاصم احمد نے کہا کہ یہ چیلنجز ہمسایہ ملک جمہوریہ سوڈان میں جاری تنازع کے علاقائی اثرات سے مزید پیچیدہ ہو گئے ہیں، جہاں سے اپریل 2023 سے اب تک تقریباً 13 لاکھ افراد جنوبی سوڈان میں پناہ لے چکے ہیں، جس سے پہلے ہی دباؤ کا شکار نظام پر مزید بوجھ پڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے وقت میں یونیمِس کی صلاحیتوں کو کمزور کرنا غیر موزوں اور نقصان دہ ہوگا۔ اس سلسلے میں انہوں نے یونیمِس کے مینڈیٹ کی بروقت تجدید اور امن مشنز کے لیے واجب الادا رقوم کی مکمل اور بروقت ادائیگی پر زور دیا۔

واضح رہے کہ اقوام متحدہ نے جنوبی سوڈان کو مستحکم کرنے کے لیے امن مشن قائم کیا تھا۔ 2013 میں دارالحکومت میں جھڑپیں شروع ہوئیں جو ملک بھر میں پھیل گئیں۔ 2015 کا امن معاہدہ جلد ہی ناکام ہوگیا، تاہم 2018 میں "ریوائٹلائزڈ ایگریمنٹ آن دی ریزولوشن آف دی کنفلکٹ اِن ساؤتھ سوڈان” پر دستخط کے بعد عبوری حکومت قائم کی گئی۔

سلامتی کونسل کو بریفنگ دیتے ہوئے امن کارروائیوں کے لیے انڈر سیکریٹری جنرل ژاں پیئر لاکروا نے خبردار کیا کہ ریوائٹلائزڈ امن معاہدے کے مرکزی فریقین کے درمیان سیاسی تعطل کشیدگی میں اضافے کا باعث بن رہا ہے، جو ملک کے مختلف حصوں میں مسلح تصادم کی صورت میں ظاہر ہو رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ حالیہ ہفتوں میں بالخصوص جونگلی ریاست میں تشدد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جہاں حکومتی اور اپوزیشن فورسز کے درمیان جھڑپوں، فضائی بمباری اور انسانی امداد تک رسائی میں شدید رکاوٹوں کے باعث 2 لاکھ 80 ہزار سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2013 اور 2016 کے پرتشدد واقعات کو یاد رکھنے والی کمیونٹیز ایک بار پھر نقل مکانی پر مجبور ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ یونیمِس لاگت میں کمی کے اقدامات مکمل کرنے کے قریب ہے جبکہ وہ قومی اور ذیلی سطح پر سیاسی روابط، گشت، اور شہریوں کے تحفظ کے لیے دفاعی حکمت عملی پر عمل درآمد جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یونیمِس کی موجودگی نہ صرف شہریوں بلکہ انسانی ہمدردی کے شراکت داروں اور امن عمل کے لیے بھی انتہائی اہم ہے، اور اس سلسلے میں سلامتی کونسل کی مسلسل حمایت ناگزیر ہے۔

فضائیہ Previous post پاک فضائیہ کی جنوبی زون میں جنگی تیاریوں کا شاندار مظاہرہ
انصاف Next post وزیراعظم شہباز شریف 18 فروری کو واشنگٹن کا دورہ کریں گے، امریکی بورڈ آف پیس کے پہلے سربراہی اجلاس میں شرکت