مشرقِ وسطیٰ

مشرقِ وسطیٰ کشیدگی سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ، پاکستان کی معیشت پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ

Read Time:2 Minute, 20 Second

اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع ایک بار پھر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں غیر یقینی صورتحال اور اتار چڑھاؤ کی نئی لہر پیدا کر رہا ہے، جس کے پاکستان کی معیشت پر بھی نمایاں اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگرچہ یہ تنازع جغرافیائی طور پر بیرونی ہے، تاہم بڑھتی ہوئی عالمی تیل کی قیمتیں پاکستان کے لیے ایک نئے ’’پٹرول بم‘‘ کی شکل اختیار کر سکتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف مالیاتی توازن متاثر ہونے کا امکان ہے بلکہ بیرونی کھاتوں پر بھی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

7 مارچ 2026 کو پٹرولیم لیوی میں نظرثانی کے بعد پٹرول پر عائد لیوی 100 روپے فی لیٹر سے تجاوز کر چکی ہے۔ تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے پاکستان کے تجارتی خسارے میں مزید اضافہ متوقع ہے، جبکہ اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ ماہانہ درآمدی بل میں تقریباً 60 کروڑ ڈالر کا اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے باعث کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اس سے قبل کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے ایک فیصد سے کم رہنے کی پیش گوئی کی تھی، تاہم موجودہ حالات کے پیش نظر مہنگائی اور بیرونی کھاتوں کے بڑھتے ہوئے خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پیش گوئی پر نظرثانی کی جا سکتی ہے۔

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بالواسطہ اثرات بھی سامنے آئیں گے۔ ایندھن مہنگا ہونے سے خوراک اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں اضافہ ہوگا، جس کے نتیجے میں مہنگائی کی شرح میں مزید اضافہ متوقع ہے۔

ادھر بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر، جو حالیہ عرصے میں غیر معمولی سطح تک پہنچ چکی تھیں، ان میں بھی عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال کے باعث اتار چڑھاؤ کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

بین الاقوامی تجارتی مرکز کے Trademap.org کے مطابق 2024 میں عالمی سطح پر تقریباً 3 ٹریلین ڈالر مالیت کی معدنی مصنوعات کی تجارت ہوئی، جن میں سے تقریباً 560 ارب ڈالر کی برآمدات خلیجی ممالک سے کی گئیں۔ ان میں سے تقریباً 210 ارب ڈالر کی برآمدات متحدہ عرب امارات اور قطر سے ہوئیں۔

قطر دنیا کا سب سے بڑا ایل این جی برآمد کرنے والا ملک ہے۔ پاکستان نے 2024 میں قطر سے 3.5 ارب ڈالر سے زائد مالیت کی ایل این جی درآمد کی، جو اس کی مجموعی ایل این جی درآمدات کا تقریباً 90 فیصد بنتی ہے۔ چین، جنوبی کوریا اور بھارت کے بعد پاکستان قطر کی ایل این جی کے اہم خریداروں میں شمار ہوتا ہے۔

ماہرین کے مطابق قدرتی گیس کی قیمتوں میں اضافہ کھاد کی صنعت کو بھی متاثر کر سکتا ہے، جس کے نتیجے میں زرعی شعبہ اور خوراک کی قیمتوں کا استحکام بھی خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
آئینی ریفرنڈم Previous post قازقستان میں آئینی ریفرنڈم: شفافیت، عوامی شمولیت اور اصلاحات کی جانب اہم قدم
انڈونیشیا Next post انڈونیشیا کے نائب صدر گبران راکابومنگ راکا کی عید ہوم کمنگ مسافروں کو احتیاط اور حفاظت کی تلقین