
یورپی پارلیمنٹ کی جانب سے غیر رضامندی سے تیار کردہ اے آئی فحش تصاویر پر پابندی کی منظوری
برسلز، یورپ ٹوڈے: یورپی پارلیمنٹ نے بھاری اکثریت سے ایسے مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی نظاموں پر پابندی کی منظوری دے دی ہے جو حقیقی اور قابل شناخت افراد کی بغیر اجازت قابل اعتراض یا نجی نوعیت کی تصاویر تخلیق یا تبدیل کرتے ہیں، جنہیں عام طور پر "نیوڈیفائر” سسٹمز کہا جاتا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ اقدام یورپی یونین کے مصنوعی ذہانت سے متعلق مجوزہ قانون میں وسیع تر ترامیم کا حصہ ہے، جس کا مقصد تیزی سے ترقی کرتی ٹیکنالوجی کو مؤثر طریقے سے ریگولیٹ کرنا ہے۔ یورپی یونین کے رکن ممالک پہلے ہی اس نوعیت کے اقدامات کی حمایت کر چکے ہیں، جبکہ اب حتمی قانون سازی کے لیے رکن ممالک اور پارلیمنٹ کے درمیان مذاکرات شروع ہوں گے۔
یورپی پارلیمنٹ کے بیان کے مطابق نیوڈیفائر سسٹمز وہ ٹیکنالوجی ہیں جو مصنوعی ذہانت کے ذریعے ایسی تصاویر تخلیق یا تبدیل کرتی ہیں جو جنسی طور پر واضح یا نجی نوعیت کی ہوں اور کسی حقیقی، قابل شناخت فرد سے مشابہت رکھتی ہوں، جبکہ اس کے لیے متعلقہ فرد کی رضامندی حاصل نہ کی گئی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ نے واضح کیا کہ ایسے اے آئی ٹولز جن میں مؤثر حفاظتی اقدامات موجود ہوں اور جو صارفین کو اس قسم کی تصاویر بنانے سے روکتے ہوں، ان پر پابندی عائد نہیں ہوگی۔
یہ فیصلہ اس سال کے اوائل میں اس وقت سامنے آنے والے شدید ردعمل کے بعد کیا گیا جب ایک اے آئی چیٹ بوٹ "گروک”، جو سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر دستیاب ہے، کو استعمال کرتے ہوئے خواتین اور بچوں کی حقیقت سے قریب تر جعلی عریاں تصاویر تیار کی گئیں۔ اس واقعے نے یورپی یونین میں تحقیقات کو جنم دیا، جبکہ پلیٹ فارم X نے جنوری میں اعلان کیا کہ وہ اس طرح کے جنسی نوعیت کے ڈیپ فیکس کو روکنے کے لیے اقدامات کرے گا۔
یورپی پارلیمنٹ میں اس اقدام کے حق میں 569 جبکہ مخالفت میں 45 ووٹ ڈالے گئے، جو اس معاملے پر واضح اتفاقِ رائے کی عکاسی کرتا ہے۔
علاوہ ازیں، قانون سازوں نے ہائی رسک اے آئی سسٹمز کے نفاذ میں تاخیر کی بھی منظوری دی، جو سلامتی، صحت اور شہریوں کے بنیادی حقوق کے لیے ممکنہ خطرہ سمجھے جاتے ہیں۔ مجوزہ ترامیم کے تحت خودمختار ہائی رسک سسٹمز کے لیے تعمیل کی آخری تاریخ 2 دسمبر 2027 مقرر کی گئی ہے، جبکہ دیگر مصنوعات میں شامل اے آئی ٹولز کے لیے یہ مدت 2 اگست 2028 تک بڑھا دی گئی ہے۔
واضح رہے کہ یورپی پارلیمنٹ تنہا قانون سازی نہیں کر سکتی، لہٰذا حتمی منظوری سے قبل یورپی کونسل، جو 27 رکن ممالک کی نمائندگی کرتی ہے، کے ساتھ مذاکرات کے بعد ہی اس قانون کو باضابطہ طور پر نافذ کیا جائے گا۔