فوجی فاؤنڈیشن

پاکستان اور یو اے ای کے درمیان سرمایہ کاری معاہدہ: فوجی فاؤنڈیشن کے حصص کی فروخت سے قرضوں کا بوجھ کم ہوگا

اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان، متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے ساتھ طے پانے والے سرمایہ کاری معاہدے کے تحت، فوجی فاؤنڈیشن گروپ کی اہم کمپنیوں میں اپنے حصص فروخت کرے گا۔ اس معاہدے کے نتیجے میں، پاکستان کی پہلے سے لیے گئے 1 ارب ڈالر کی ادائیگی کی ذمہ داری ختم ہو جائے گی جبکہ 2 ارب ڈالر کے مزید واجب الادا قرضے کے رول اوور کا بھی امکان پیدا ہو گیا ہے، جو ملک کی معاشی مشکلات میں کمی کا باعث ہوگا۔

اس معاہدے پر حالیہ دورۂ پاکستان کے دوران یو اے ای کے صدر کے ساتھ بات چیت کے بعد دستخط ہوئے، اور اسے قلیل مدتی قرضوں کے بجائے شراکتی سرمایہ کاری (ایکوئٹی) پر مبنی معاونت کے ایک اہم اقدام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

معاہدے کے تحت، متحدہ عرب امارات کی جانب سے پاکستان میں رکھوایا گیا 1 ارب ڈالر کا ڈپازٹ فوجی فاؤنڈیشن سے منسلک کمپنیوں کے حصص میں تبدیل کر دیا جائے گا۔ اس لین دین کے مکمل ہونے کے بعد یہ رقم پاکستان کے قرضوں کی کتاب سے خارج ہو جائے گی اور توقع ہے کہ یہ عمل 31 مارچ 2026 تک مکمل ہو جائے گا۔

اسحاق ڈار کے مطابق، اس حوالے سے متعدد اجلاس ہو چکے ہیں اور بات چیت آخری مراحل میں ہے۔ معاہدے کی تکمیل کے بعد، یہ رقم قرض شمار نہیں ہوگی، جس سے پاکستان کے زر مبادلہ کے ذخائر اور بیرونی ادائیگیوں پر دباؤ میں کمی آئے گی۔

مزید برآں، یو اے ای کی جانب سے مالی تعاون کی مزید یقین دہانیاں بھی حاصل ہو چکی ہیں، اور جنوری 2026 میں 2 ارب ڈالر کے ایک الگ قرض کے رول اوور کی بھی توقع ہے۔ اس ضمن میں وزیرِ اعظم شہباز شریف کی قیادت میں اعلیٰ سطحی رابطے کیے گئے ہیں۔

اسحاق ڈار نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ سعودی عرب اور چین کی جانب سے رکھے گئے اسٹیٹ ڈپازٹس بھی پاکستان کے زر مبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

شہباز شریف Previous post وزیراعظم شہباز شریف کا سابق گورنر اسٹیٹ بینک شمشاد اختر کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار
تنقیدی Next post حلقۂ اربابِ ذوق راولپنڈی کے زیرِ اہتمام تنقیدی اجلاس، سفرنامہ اور غزل پیش