مارین لی پین

مارین لی پین پر عوامی عہدے کے لیے پابندی، یورپی فنڈز کے غلط استعمال کا الزام ثابت

پیرس، یورپ ٹوڈے: فرانسیسی عدالت نے انتہائی دائیں بازو کی رہنما مارین لی پین کو یورپی یونین کے فنڈز کے غلط استعمال کا مرتکب قرار دیتے ہوئے انہیں فوری طور پر عوامی عہدے کے لیے نااہل قرار دے دیا ہے۔ پیر کے روز جاری کردہ فیصلے کے مطابق، انہیں پانچ سال کے لیے عوامی عہدے سے روکا گیا ہے جبکہ چار سال کی قید سنائی گئی ہے، جس میں سے دو سال نظر بندی میں الیکٹرانک ٹیگ کے ساتھ گزارنے ہوں گے۔

لی پین نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے فیصلے کو اپنے سیاسی کیریئر کو ختم کرنے کی سازش قرار دیا۔ عدالت نے پایا کہ انہوں نے اور ان کی پارٹی نیشنل ریلی (RN) نے 3.25 ملین ڈالر کے یورپی فنڈز کا غلط استعمال کیا، جو پارلیمانی معاونین کے لیے مختص تھے لیکن 2004 سے 2016 کے دوران پارٹی کے عملے کی ادائیگی کے لیے استعمال کیے گئے۔

اگرچہ ان کے وکلا نے فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا اعلان کیا ہے، تاہم پابندی فوری طور پر نافذ ہو چکی ہے، جس کے باعث ان کے 2027 کے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کے امکانات کم ہو گئے ہیں۔ ان کی پارٹی نے اس فیصلے کو عدالتی اختیارات کا ناجائز استعمال قرار دیا ہے، جبکہ بعض مبصرین نے اس کا موازنہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قانونی چیلنجز سے کیا ہے۔

اس فیصلے پر فرانسیسی اور بین الاقوامی سطح پر ملے جلے ردعمل دیکھنے میں آئے ہیں۔ لی پین کے حامیوں، بشمول آر این پارٹی کے صدر جورڈن بارڈیلا، نے فیصلے کو جمہوریت پر حملہ قرار دیا ہے، جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے۔ روس، ہنگری کے وزیر اعظم وکٹر اوربان، اور اٹلی کے دائیں بازو کے رہنما میٹیو سالوینی نے فیصلے کی مذمت کی ہے۔ دوسری طرف، فرانسیسی کمیونسٹ پارٹی اور گرین پارٹی کے رہنماؤں نے عدالت کے فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ لی پین کو اپنی سزا پوری کرنی چاہیے۔

عدالتی فیصلے کے نتیجے میں لی پین کی پارٹی کے آٹھ دیگر اراکین اور بارہ پارلیمانی معاونین کو بھی مجرم قرار دیا گیا ہے۔ اپیل کے عمل کے دوران، فرانسیسی دائیں بازو کی سیاست کا مستقبل غیر یقینی صورتحال کا شکار رہے گا۔

ماحولیاتی Previous post شی جن پنگ کی ماحولیاتی اور انضباطی معائنہ پر قیادت اجلاس کی صدارت
عاصم Next post آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا وانا اور ڈی آئی خان کا دورہ، سرحدی جوانوں کے ساتھ عید منائی