باکو

عالمی باکو فورم میں رہائش کے عالمی بحران اور عالمی تعاون پر زور

Read Time:1 Minute, 53 Second

باکو، یورپ ٹوڈے: “تبدیلی کے دور میں تقسیم کو ختم کرنا” کے موضوع کے تحت منعقد ہونے والے 13ویں عالمی باکو فورم میں “رہائش کے لیے عالمی تعاون: WUF13 کے تناظر میں” کے عنوان سے ایک اہم پینل سیشن منعقد ہوا، جس میں عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے رہائشی بحران اور اس کے حل کے لیے مشترکہ اقدامات کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

اس پینل سیشن کی نظامت اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 73ویں اجلاس کی صدر اور ایکواڈور کی سابق وزیر خارجہ ماریا فرنینڈا اسپینوسا نے کی۔ مباحثے کے دوران اس امر پر روشنی ڈالی گئی کہ دنیا بھر کے بڑے شہروں کو سماجی و معاشی چیلنجز کے باعث شدید رہائشی بحران اور مناسب رہائش تک محدود رسائی جیسے مسائل کا سامنا ہے، جس کے لیے نظامی اصلاحات ناگزیر ہیں۔

پینل سے خطاب کرتے ہوئے یو این ہیبی ٹیٹ کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر اناکلاڈیا روسباخ نے کہا کہ شہری آبادی کا ایک بڑا حصہ غیر محفوظ اور غیر معیاری رہائش میں زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان علاقوں میں رہنے والے افراد کے پاس باقاعدہ پتے نہ ہونے کے باعث وہ معاشی سرگرمیوں سے بھی بڑی حد تک محروم رہتے ہیں اور روزگار یا کاروبار کے مواقع حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔

اس موقع پر آذربائیجان کی اسٹیٹ کمیٹی برائے شہری منصوبہ بندی و تعمیرات کے چیئرمین اور WUF13 کے قومی رابطہ کار انار گلییف نے کہا کہ اس نوعیت کے بین الاقوامی پلیٹ فارم عالمی سطح پر مکالمے کو فروغ دینے، اعتماد سازی اور مشترکہ چیلنجز کے حل کے لیے اجتماعی حکمت عملی تشکیل دینے میں نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب دنیا پیچیدہ تبدیلیوں کے دور سے گزر رہی ہے۔

پینل سیشن میں دیگر مقررین میں مائیکل مینلی (لارڈ میئر سٹی آف لندن 2023-2024)، بینیدیٹو زاکیرو لی (یونیسکو کی انٹرنیشنل کولیشن آف انکلو سیو اینڈ سسٹینیبل سٹیز کے چیئرمین اور یورپی کولیشن آف سٹیز اگینسٹ ریسزم کے صدر) اور انا برچل (رومانیہ کی صدر کی مشیر برائے خارجہ پالیسی، اسٹریٹجک شراکت داری اور بیرون ملک رومانیہ کے شہری) شامل تھے۔

مقررین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ عالمی رہائشی بحران سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی تعاون، پالیسی اصلاحات اور جامع شہری ترقی کی حکمت عملی ناگزیر ہے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
ترکمانستان Previous post ترکمانستان کا ایران کے لیے انسانی امداد بھیجنے کا اعلان، لیلۃ القدر کے موقع پر قیدیوں کی معافی کا فرمان
زرداری Next post صدرآصف علی زرداری کی پاکستانی شہری علاقوں پر ڈرون حملوں کی مذمت، غیر قانونی طالبان نے سرخ لکیر عبور کر لی