
امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتہ جنگ بندی، عالمی برادری کا خیرمقدم، پاکستان کی مؤثر سفارتکاری کو سراہا گیا
اسلام آباد: امریکا اور اسلامی جمہوریہ ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی کے معاہدے پر عالمی رہنماؤں نے گرمجوشی سے خیرمقدم کیا ہے، جبکہ خطے میں ممکنہ تباہ کن کشیدگی کو ٹالنے میں پاکستان کے مؤثر کردار کو خصوصی طور پر سراہا گیا ہے۔
امریکہ-ایران جنگ کے دوران پاکستان ایک اہم سفارتی کردار کے طور پر ابھرا، جس نے غیر جانبدارانہ پالیسی اختیار کرتے ہوئے تمام فریقین کے ساتھ روابط برقرار رکھے۔ پاکستان نے ایک جانب امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کی مذمت کی، تو دوسری جانب ایران کی جانب سے خلیجی ممالک پر حملوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ اسی دوران اسلام آباد میں چہار فریقی مذاکرات کی میزبانی اور سات نکاتی امن منصوبے کا اعلان بھی کیا گیا، جو بیجنگ میں پیش کیے گئے پانچ نکاتی منصوبے سے ہم آہنگ تھا۔
منگل کی شب وزیر اعظم Shehbaz Sharif نے امریکا سے ایران پر بمباری کی ڈیڈ لائن میں دو ہفتوں کی توسیع کی درخواست کی، جبکہ ایران سے بھی آبنائے ہرمز کو اسی مدت کے لیے کھولنے کی اپیل کی گئی۔ عالمی توجہ اس وقت پاکستان کی سفارتی کوششوں پر مرکوز ہوگئی جب امریکی صدر Donald Trump کی جانب سے دی گئی سخت ڈیڈ لائن ختم ہونے کے قریب تھی۔ بعد ازاں صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایران کے خلاف حملوں کی دو ہفتوں کے لیے معطلی کا اعلان کیا، جسے انہوں نے وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ہونے والی بات چیت کا نتیجہ قرار دیا۔
ایرانی وزیر خارجہ Seyed Abbas Araghchi نے ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کی جانب سے بیان دیتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کاوشوں کو سراہا۔ بیان میں کہا گیا کہ ایران دفاعی کارروائیاں روک دے گا بشرطیکہ اس کے خلاف حملے بند رہیں، جبکہ آبنائے ہرمز میں دو ہفتوں تک محفوظ آمدورفت بھی ممکن بنائی جائے گی۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل António Guterres نے جنگ بندی کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کی جانب مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے پاکستان سمیت دیگر ممالک کی سفارتی کوششوں کو سراہا۔
یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ Kaja Kallas نے اس پیش رفت کو "خطرے کے دہانے سے واپسی” قرار دیا اور کہا کہ یہ معاہدہ سفارتکاری کے لیے ایک اہم موقع فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستان کے کردار کی تعریف کی۔
جرمنی کے چانسلر Friedrich Merz اور وزیر خارجہ Johann Wadephul نے بھی پاکستان کی ثالثی کو سراہتے ہوئے جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے مذاکرات جاری رکھنے پر زور دیا۔
ملائیشیا کے وزیر اعظم Anwar Ibrahim نے پاکستان کی "بے خوف اور غیر جانبدار سفارتکاری” کو خراج تحسین پیش کیا، جبکہ آسٹریلیا کے وزیر اعظم Anthony Albanese نے بھی پاکستان، مصر، ترکیہ اور سعودی عرب کی کوششوں کو سراہا۔
برطانیہ کے وزیر اعظم Keir Starmer نے جنگ بندی کو خطے اور دنیا کے لیے ریلیف قرار دیا، جبکہ پاکستان میں برطانوی ہائی کمشنر Jane Marriott نے پاکستان کی "خاموش مگر مؤثر سفارتکاری” کی تعریف کی۔
قازقستان کے صدر Kassym-Jomart Tokayev نے بھی جنگ بندی کو پاکستان کی قیادت کی ثالثی کا نتیجہ قرار دیا۔
ترکیہ، سعودی عرب، مصر، عمان، نیوزی لینڈ، عراق اور انڈونیشیا سمیت متعدد ممالک نے بھی جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے سفارتی حل کی جانب اہم قدم قرار دیا اور پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔
عالمی رہنماؤں نے اس امر پر زور دیا کہ یہ جنگ بندی ایک عارضی پیش رفت ہے جسے مستقل امن میں تبدیل کرنے کے لیے سنجیدہ اور مسلسل سفارتی اقدامات ناگزیر ہیں۔