گریجویشن

حکومت کا 39 ارب روپے کا نیا غربت گریجویشن پروگرام شروع کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: وزارتِ تخفیفِ غربت و سماجی تحفظ نے 39 ارب روپے لاگت کے ایک نئے غربت گریجویشن پروگرام کے آغاز کا منصوبہ تیار کر لیا ہے، جس کا مقصد مستحق خاندانوں کو نقد امداد سے نکال کر پائیدار روزگار اور خود کفالت کی جانب منتقل کرنا ہے۔

چار سالہ یہ پروگرام 2026 سے 2029 تک جاری رہے گا اور ملک کے 25 اضلاع میں نافذ کیا جائے گا، جس میں شفافیت، احتساب اور قابلِ پیمائش نتائج کو خصوصی اہمیت دی جائے گی۔

وزارت نے بتایا کہ اس سے قبل نیشنل پاورٹی گریجویشن پروگرام ملک کے چاروں صوبوں کے 21 پسماندہ اضلاع میں کامیابی سے مکمل کیا جا چکا ہے، جس کے تحت بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کی نقد معاونت سے مستفید ہونے والے کمزور خاندانوں کو باعزت اور پائیدار ذرائع آمدن کی جانب منتقل کیا گیا۔

مکمل ہونے والے پروگرام کے دوران مستحقین کو پیداواری اثاثے، بلا سود قرضے، روزگار سے متعلق تربیت اور ہنر مندی کے مواقع فراہم کیے گئے، جس کے نتیجے میں 1 لاکھ 79 ہزار نئے روزگار کے مواقع پیدا ہوئے جبکہ 96 ہزار خاندان مستقل طور پر غربت سے نکلنے میں کامیاب ہوئے۔

وزارت کے مطابق نئے پروگرام کی نگرانی آزادانہ جائزوں، تھرڈ پارٹی آڈٹس اور مؤثر شکایتی نظام کے ذریعے کی جائے گی تاکہ شفافیت اور ساکھ کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس کے علاوہ پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس کے تعاون سے ڈیجیٹل سوشل پروٹیکشن ڈیش بورڈ بھی تیار کیا گیا ہے، جس سے وفاقی اور صوبائی سطح پر رپورٹنگ، شفافیت اور شواہد پر مبنی پالیسی سازی کو فروغ ملے گا۔

بیان میں کہا گیا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی کوریج کو بڑھا کر ملک بھر میں ایک کروڑ خاندانوں تک پہنچا دیا گیا ہے۔ جاری ڈائنامک رجسٹری سروے کے تحت مالی بہتری کے بعد 40 لاکھ خاندان کفالت پروگرام سے نکل چکے ہیں، جبکہ 36 لاکھ نئے اہل خاندانوں کو شامل کیا گیا ہے۔

وزیراعظم کے کیش لیس معیشت کے وژن کے مطابق ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے ادائیگیوں کا آغاز بھی کر دیا گیا ہے، جس سے شفافیت میں اضافہ، وسائل کے ضیاع میں کمی اور بروقت ادائیگی کو یقینی بنایا گیا ہے۔ پاکستان بیت المال نے بھی انفرادی مالی معاونت کے نظام کو ڈیجیٹل بنا دیا ہے اور یتیموں، خواتین، معذور افراد اور مزدوروں کے لیے امداد میں اضافہ کیا ہے، جبکہ احتساب کو مزید مضبوط بنانے کے لیے بایومیٹرک ادائیگی نظام متعارف کرایا جا رہا ہے۔

وزارت کا کہنا ہے کہ ان ہمہ جہت اصلاحات کے نتیجے میں قابلِ تصدیق نتائج سامنے آئے ہیں، عوامی اعتماد میں اضافہ ہوا ہے اور یہ یقینی بنایا گیا ہے کہ غریب اور کمزور خاندانوں کو وقار، شفافیت اور احتساب کے ساتھ معاونت فراہم ہو رہی ہے۔

آخر میں وزارتِ تخفیفِ غربت و سماجی تحفظ نے سماجی تحفظ کے اقدامات کو مزید وسعت دینے اور مستحق طبقات تک جامع معاونت پہنچانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

اورنگزیب Previous post سینئر وزیر پنجاب مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ لاہور میں فضائی آلودگی پر قابو پا لیا گیا
پنجگور Next post پنجگور میں سیکیورٹی فورسز کا کامیاب آپریشن، بھارتی حمایت یافتہ تین دہشت گرد ہلاک