
جنوبی سپین میں تیز رفتار ٹرین حادثہ، 39 افراد ہلاک، درجنوں زخمی
قرطبہ، یورپ ٹوڈے: جنوبی سپین میں اتوار کے روز ایک المناک ریلوے حادثے کے نتیجے میں کم از کم 39 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہو گئے۔ اسپین کے وزیرِ ٹرانسپورٹ کے مطابق ایک تیز رفتار ٹرین پٹری سے اتر کر سامنے سے آنے والی دوسری ٹرین سے ٹکرا گئی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ حادثہ شام 7 بج کر 45 منٹ پر قرطبہ کے قریب پیش آیا، جب ملاگا سے میڈرڈ جانے والی شام کی ٹرین، جس میں تقریباً 300 مسافر سوار تھے، کے آخری حصے کے ڈبے پٹری سے اتر گئے اور میڈرڈ سے ہوئیلوا جانے والی ٹرین سے جا ٹکرائے، جس میں تقریباً 200 مسافر موجود تھے۔ ریلوے آپریٹر آڈیف کے مطابق حادثے کے فوراً بعد بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا۔
سپین کے وزیرِ ٹرانسپورٹ آسکر پونتے نے ابتدائی طور پر نصف شب کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 21 بتائی، تاہم صبح 6 بجے تک یہ تعداد بڑھ کر 39 ہو گئی، جس سے سانحے کی شدت کا اندازہ ہوتا ہے۔
اندلس کے علاقائی صدر خوانما مورینو نے بتایا کہ 75 زخمی مسافروں کو اسپتال منتقل کیا گیا، جن میں سے بیشتر کو قریبی شہر قرطبہ لے جایا گیا، جبکہ 15 افراد کی حالت تشویشناک ہے۔
ہسپانوی ریڈ کراس نے جائے حادثہ کے قریب قصبے آداموز میں امدادی مرکز قائم کیا، جہاں ہنگامی خدمات انجام دینے والے اہلکاروں اور متاثرہ افراد کے لواحقین کو معلومات اور مدد فراہم کی گئی۔ سول گارڈ اور سول ڈیفنس کے اہلکار بھی سرد اور صاف رات میں جائے حادثہ پر موجود رہے، جبکہ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر صرف ایمرجنسی سروسز کو علاقے تک رسائی دی گئی۔
صدرِ اندلس نے کہا کہ امدادی کارکن رات بھر ملبے سے لاشیں نکالنے کے عمل میں مصروف رہیں گے۔ علاقائی وزیرِ صحت انتونیو سانز نے کہا، “ہمیں ایک نہایت مشکل رات کا سامنا ہے۔”
وزیرِ ٹرانسپورٹ آسکر پونتے نے کہا کہ حادثے کی وجہ تاحال معلوم نہیں ہو سکی۔ انہوں نے اسے “انتہائی عجیب” واقعہ قرار دیتے ہوئے بتایا کہ حادثہ اس ہموار ٹریک پر پیش آیا جو گزشتہ مئی میں مرمت کیا گیا تھا، جبکہ پٹری سے اترنے والی ٹرین چار سال سے بھی کم پرانی تھی۔
حکام کے مطابق پہلی ٹرین نجی کمپنی آئیریو کی تھی، جبکہ دوسری ٹرین، جسے شدید نقصان پہنچا، سرکاری ریلوے کمپنی رینفے کی ملکیت تھی۔ آئیریو نے ایک بیان میں واقعے پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکام کے ساتھ مکمل تعاون کر رہی ہے۔
آسکر پونتے کے مطابق پہلی ٹرین کے پچھلے حصے کے ڈبے پٹری سے اتر کر دوسری ٹرین کے اگلے حصے سے ٹکرا گئے، جس کے نتیجے میں رینفے ٹرین کے ابتدائی دو ڈبے پٹری سے اتر کر تقریباً چار میٹر نیچے جا گرے۔ سب سے زیادہ نقصان رینفے ٹرین کے اگلے حصے کو پہنچا۔
حادثے کی وجوہات کی تحقیقات سے متعلق سوال پر وزیرِ ٹرانسپورٹ نے کہا کہ انکوائری میں ایک ماہ تک کا وقت لگ سکتا ہے۔
ہسپانوی نشریاتی ادارے آر ٹی وی ای کے صحافی سلواڈور خمنیز، جو حادثے کا شکار ہونے والی ایک ٹرین میں سوار تھے، نے فون پر بتایا کہ “ایک لمحے کو یوں لگا جیسے زلزلہ آ گیا ہو اور ٹرین واقعی پٹری سے اتر چکی تھی۔” انہوں نے کہا کہ مسافروں نے ایمرجنسی ہتھوڑوں سے کھڑکیاں توڑ کر باہر نکلنے کی کوشش کی، جبکہ بعض افراد بغیر سنگین چوٹوں کے خود ہی محفوظ مقام تک پہنچ گئے۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں مسافروں کو جھکی ہوئی بوگیوں کی کھڑکیوں سے رینگتے ہوئے باہر نکلتے دیکھا جا سکتا ہے۔
حادثہ آداموز گاؤں کے قریب ابتدائی شام کے وقت پیش آیا، جہاں اندھیرے میں سینکڑوں متاثرین کو ریسکیو کیا گیا۔ قرطبہ کے فائر فائٹر چیف فرانسسکو کارمونا نے قومی ریڈیو آر این ای کو بتایا کہ ایک ٹرین بری طرح تباہ ہو چکی تھی اور کم از کم چار ڈبے پٹری سے اترے ہوئے تھے۔
علاقائی سول پروٹیکشن کی سربراہ ماریا بیلن مویا روخاس نے کہا کہ حادثہ ایک دشوار گزار علاقے میں پیش آیا، جبکہ مقامی افراد متاثرین کی مدد کے لیے کمبل اور پانی لے کر موقع پر پہنچے۔ اسپین کی فوجی ہنگامی امدادی یونٹس نے بھی دیگر ریسکیو ٹیموں کے ساتھ کارروائی میں حصہ لیا، جبکہ ریڈ کراس نے طبی حکام کی معاونت کی۔
اسپین کے وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، “آج کی رات ہمارے ملک کے لیے گہرے دکھ کی رات ہے۔ میں متاثرین کے اہلِ خانہ اور عزیزوں سے دلی تعزیت کا اظہار کرتا ہوں۔”
اسپین کے بادشاہ فیلپ ششم اور ملکہ لیٹیزیا نے بھی سوشل میڈیا پر تعزیت اور گہرے دکھ کا اظہار کیا۔
یورپی کمیشن کی صدر ارسولا فان ڈیر لیئن نے بھی ایکس پر پیغام میں کہا کہ وہ قرطبہ سے آنے والی “خوفناک خبر” پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور متاثرین سے اظہارِ ہمدردی کیا۔