
امن کو کمزوری سمجھنے والے سخت جواب کے لیے تیار رہیں، کوئی بھی ہماری پہنچ سے باہر نہیں ہوگا: صدر آصف علی زرداری
اسلام آباد،یورپ ٹوڈے: صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے افغان طالبان کی بلااشتعال کارروائی کے خلاف پاکستان کی مسلح افواج کی جانب سے دیے گئے مضبوط اور فیصلہ کن جواب کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ جو عناصر پاکستان کی امن پسندی کو کمزوری سمجھتے ہیں انہیں سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا اور اگر خونریزی کا سلسلہ جاری رہا تو کوئی بھی ہماری پہنچ سے باہر نہیں ہوگا۔
جمعہ کے روز جاری بیان میں صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان بخوبی جانتا ہے کہ تشدد کے منصوبہ ساز، سہولت کار اور سرپرست کہاں سے کارروائیاں کر رہے ہیں۔ اگر خونریزی جاری رہی تو ذمہ دار عناصر ہماری گرفت سے باہر نہیں رہیں گے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم اور اس کی بہادر مسلح افواج وطنِ عزیز کی سالمیت اور سرحدوں کے تحفظ کے لیے سیسہ پلائی دیوار کی مانند کھڑی ہیں۔ پاکستان کسی بھی صورت اپنے امن، استحکام اور علاقائی سالمیت پر سمجھوتہ نہیں کرے گا اور کسی کو یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ پاکستان کسی دباؤ یا دھمکی کے آگے جھک جائے گا۔
صدر زرداری نے سیکیورٹی فورسز کی جامع، بروقت اور فیصلہ کن کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ افواجِ پاکستان دشمن کے مذموم عزائم کو ناکام بنانے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں۔
انہوں نے یاد دلایا کہ 8 فروری کو اسلام آباد کی ایک مسجد میں خودکش حملے کے بعد انہوں نے طالبان رجیم کو واضح اور سخت پیغام دیا تھا، جبکہ 22 فروری کو بھی ایک دوٹوک پیغام دیا گیا تھا۔
صدر مملکت نے کہا کہ گزشتہ پانچ برسوں سے ناشکرا طالبان رجیم اپنے ٹی ٹی پی دہشت گردوں کے ذریعے اپنے محسن ملک پاکستان کے خلاف دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہے۔ انہوں نے کہا کہ برادر ممالک کے تعاون سے اس جرائم پیشہ گروہ کو راہِ راست پر لانے کی تمام سفارتی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔ آج انہوں نے بین الاقوامی سرحد عبور کر کے پاکستان کی سالمیت کو چیلنج کیا ہے۔