
توانائی کے شعبے میں بہتری، قابلِ تجدید ذرائع سے بجلی کی فراہمی مستحکم—وزیراعظم شہباز شریف
اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: وزیرِاعظم شہباز شریف نے منگل کے روز کہا ہے کہ علاقائی کشیدگی کے باعث تیل کی فراہمی میں رکاوٹوں کے باوجود ملک میں بجلی کا کوئی بحران پیدا نہیں ہوا، جس کی بڑی وجہ بجلی کی پیداوار میں قابلِ تجدید توانائی کا نمایاں حصہ ہے۔
وزیرِاعظم نے موجودہ بین الاقوامی صورتحال کے تناظر میں طویل المدتی توانائی منصوبہ بندی اور برآمدی حکمتِ عملی سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم منصوبے پر کام تیز کرنے کی ہدایت کی۔
انہوں نے کہا کہ شمسی توانائی اور دیگر قابلِ تجدید ذرائع مستقبل کا راستہ ہیں اور ملک بھر میں ان ذرائع کے فروغ کے لیے جامع حکمتِ عملی ترتیب دی جائے۔
وزیرِاعظم نے اس بات پر بھی اطمینان کا اظہار کیا کہ حالیہ عالمی چیلنجز کے باوجود خلیجی ممالک کو پاکستانی برآمدات کا سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (PNSC) کو ہدایت کی کہ سمندری راستوں کے ذریعے برآمدات میں اضافے کے لیے جہازوں کا انتظام کیا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ موثر سفارتکاری کے باعث علاقائی کشیدگی کے باوجود خلیجی ممالک کو برآمدات کی فراہمی جاری رکھی گئی ہے۔
اجلاس کے دوران وزیرِاعظم کو بجلی کی پیداوار کی طویل المدتی حکمتِ عملی، موجودہ عالمی حالات میں برآمدات کے مواقع، درپیش چیلنجز اور ان کے حل سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ اس وقت ملک میں 55 فیصد بجلی قابلِ تجدید ذرائع سے جبکہ 45 فیصد فوسل فیول سے حاصل کی جا رہی ہے۔ آئندہ دس برسوں میں قابلِ تجدید توانائی سے بجلی کی پیداوار کو 90 فیصد تک بڑھانے اور فوسل فیول کا حصہ کم کر کے 10 فیصد تک لانے کی منصوبہ بندی جاری ہے۔
اجلاس کو یہ بھی بتایا گیا کہ خلیجی ممالک کے ساتھ سفارتی سطح پر رابطے جاری ہیں تاکہ حالیہ علاقائی صورتحال کے باوجود قومی برآمدات کو مزید سہولت فراہم کی جا سکے۔
مزید برآں، اجلاس میں آگاہ کیا گیا کہ خلیجی ممالک میں پاکستانی زرعی مصنوعات کی طلب میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
اجلاس میں نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزراء، وزیرِ مملکت برائے خزانہ، معاونینِ خصوصی، اسٹیٹ بینک کے گورنر اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔