
باکو میں “آذربائیجانی زبان” ڈیجیٹل پلیٹ فارم کی رونمائی، زبان کے فروغ اور تحفظ پر زور
باکو، یورپ ٹوڈے: آذربائیجان یونیورسٹی آف لینگویجز میں 28 دسمبر کو “آذربائیجانی زبان” پلیٹ فارم کی باضابطہ تعارفی تقریب منعقد ہوئی۔ اس منصوبے کی مصنفہ اور سربراہ آلینا علیئیوا ہیں۔
تقریب میں حیدر علیئیف فاؤنڈیشن کی نائب صدر اور IDEA پبلک یونین کی بانی و سربراہ لیلیٰ علیئیوا، باکو میڈیا سینٹر کی سربراہ ارزو علیئیوا اور منصوبے کی مصنفہ و سربراہ آلینا علیئیوا نے شرکت کی۔
ابتدا میں آذربائیجان یونیورسٹی آف لینگویجز کے ریکٹر کمال عبداللہ نے مہمانوں کو یونیورسٹی کی سرگرمیوں سے آگاہ کیا۔ بعد ازاں مہمانوں نے یونیورسٹی میوزیم کا دورہ کیا اور وہاں موجود نمائشوں سے متعلق معلومات حاصل کیں۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ریکٹر کمال عبداللہ نے جدید ڈیجیٹل ماحول میں آذربائیجانی زبان کے تحفظ، فروغ اور ترقی کے لیے اس پلیٹ فارم کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے آذربائیجان کی قومی اکیڈمی آف سائنسز کی 80ویں سالگرہ کے موقع پر صدر الہام علیئیف کے آذربائیجانی زبان کے تحفظ اور ترقی سے متعلق خیالات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسے پلیٹ فارم کی اشد ضرورت تھی، جسے یونیورسٹی کے سائنس دانوں اور نوجوان ماہرین نے احسن طریقے سے پورا کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آذربائیجان یونیورسٹی آف لینگویجز بیرونِ ملک جامعات میں آذربائیجانی زبان، ثقافت اور کثیرالثقافتی ماڈل کے مراکز قائم کر رہی ہے اور دیگر ممالک کے نوجوانوں کو آذربائیجانی زبان سکھا رہی ہے۔ ان کے مطابق ایسے پلیٹ فارمز اور منصوبے صدر الہام علیئیف کی ہدایات کے مطابق کیے جانے والے اقدامات کا تسلسل ہیں۔ انہوں نے مختلف اداروں اور جامعات کے درمیان بہتر رابطہ کاری پر زور دیتے ہوئے ایک کوآرڈی نیشن کونسل کے قیام کو وقت کی ضرورت قرار دیا۔
منصوبے کی مصنفہ اور سربراہ آلینا علیئیوا نے اپنے خطاب میں معاشرے میں تعلیم کے اہم کردار کو اجاگر کیا اور پلیٹ فارم کی رونمائی پر شرکاء کو مبارکباد دی۔ انہوں نے اس منصوبے کے نفاذ میں تعاون پر حیدر علیئیف فاؤنڈیشن، جمہوریہ آذربائیجان کی وزارتِ سائنس و تعلیم، آذربائیجان یونیورسٹی آف لینگویجز اور تمام شریک اداروں کا شکریہ ادا کیا۔
بعد ازاں یونیورسٹی کی نائب ریکٹر جالا غریبوا اور منصوبے کی کوآرڈی نیٹر سبینا علیئیوا نے “آذربائیجانی زبان” پلیٹ فارم کی باضابطہ پیشکش کی، جس میں اس کے قیام کے مقاصد، تکنیکی و تدریسی صلاحیتوں اور مختلف عمر کے صارفین کے لیے تیار کردہ مواد پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔
وزیرِ سائنس و تعلیم امین امراللایوف نے اپنے تہنیتی پیغام میں کہا کہ “آذربائیجانی زبان” پلیٹ فارم ریاستی زبان کی تدریس و تعلم کے معیار کو بہتر بنانے اور ڈیجیٹل تعلیمی وسائل کو وسعت دینے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ جدید تقاضوں کے مطابق آذربائیجانی زبان کی ترقی میں ایسے اقدامات خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔
وزیر نے صدر الہام علیئیف کی ہدایات کے مطابق زبان کی اصل روح اور خالص پن کے تحفظ کے لیے کیے جانے والے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس پلیٹ فارم کا بنیادی مقصد اُن افراد کو آذربائیجانی زبان سکھانا ہے جن کی مادری زبان آذربائیجانی نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ دنیا بھر میں آذربائیجانی زبان بولنے والوں کی تعداد 50 ملین سے زائد ہے اور یہ پلیٹ فارم بالخصوص غیر ملکی طلبہ، آذربائیجان میں کام کرنے کے خواہشمند افراد اور آذربائیجانی زبان بطور غیر ملکی زبان سیکھنے والوں کے لیے مفید ثابت ہوگا۔ پلیٹ فارم انگریزی زبان پر مبنی ہے، جسے دیگر زبانوں میں بھی ترجمہ کیا جا سکتا ہے، جبکہ اس میں مصنوعی ذہانت کی جدید ٹیکنالوجی بھی استعمال کی گئی ہے۔
تقریب کے دوران “آذربائیجانی زبان” پلیٹ فارم پر مبنی ایک خصوصی ویڈیو بھی پیش کی گئی۔
اس موقع پر آذربائیجان یونیورسٹی آف لینگویجز میں قائم پاکستان سینٹر کے پی ایچ ڈی طالب علم محمود اَثر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی میں تعلیم کے دوران انہوں نے آذربائیجانی زبان سیکھنے کے ساتھ ساتھ اسے روزمرہ زندگی میں استعمال کرنا شروع کیا۔ انہوں نے کہا کہ زبان کسی بھی قوم کی روح، ثقافت اور طرزِ فکر کی عکاس ہوتی ہے، اور آذربائیجانی زبان نظامی اور فضولی کی زبان ہونے کے باعث نہایت مالا مال ہے۔ انہوں نے آذربائیجانی زبان کے عالمی فروغ میں پاکستان اور آذربائیجان کے تعلیمی و ثقافتی تعاون کو سراہا اور اس زبان کو مختلف اقوام و ثقافتوں کو جوڑنے والا مضبوط پل قرار دیا۔
تقریب سے روسی فیڈریشن کے معروف اور اعزازی صحافی میخائل گُسمان نے بھی خطاب کیا، جو آذربائیجان یونیورسٹی آف لینگویجز کے فارغ التحصیل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسٹینفورڈ یونیورسٹی کی سالانہ تحقیقات کے مطابق حالیہ برسوں میں آذربائیجانی زبان میں عالمی دلچسپی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جو صدر الہام علیئیف کی مؤثر پالیسیوں اور آذربائیجان کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی اہمیت کا عکاس ہے۔
تقریب کے دوران ایک ثقافتی و فنی پروگرام بھی پیش کیا گیا، جبکہ اختتام پر یادگاری تصاویر بنائی گئیں۔
واضح رہے کہ “آذربائیجانی زبان” پلیٹ فارم ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے زبان کی تعلیم و ترویج کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ 31 دسمبر، عالمی یومِ یکجہتیِ آذربائیجانیوں، کے موقع سے قبل اس تقریب کا انعقاد اس امر کی ایک بار پھر علامت ہے کہ آذربائیجانی زبان دنیا بھر میں آذربائیجانیوں کو جوڑنے والی بنیادی اقدار میں سے ایک ہے۔