زرداری

ہفتۂ ثقافتِ تاجکستان کا افتتاح، صدر آصف علی زرداری نے پاکستان–تاجکستان کے صدیوں پر محیط تاریخی و ثقافتی روابط کو اجاگر کیا

اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے جمعرات کے روز یہاں ہفتۂ ثقافتِ تاجکستان کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور تاجکستان کے درمیان صدیوں پرانے گہرے تاریخی اور ثقافتی روابط موجود ہیں جو قدیم شاہراہِ ریشم اور فارسی زبان کے ذریعے قائم رہے، اور دونوں برادر ممالک میں یکساں طور پر قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔

پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس (پی این سی اے) میں منعقدہ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت نے تاجکستان کے ثقافتی وفد کا پرتپاک استقبال کیا، جس کی قیادت جمہوریہ تاجکستان کی وزیرِ ثقافت ستوریون مطلباخون امونزادہ کر رہی تھیں۔ اس موقع پر وزیرِ قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھیچی بھی موجود تھے۔

صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ تاجک وفد کا دورہ دونوں برادر ممالک کے درمیان مضبوط دوستی اور تعاون کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدیوں تک ہمارے خطے شاہراہِ ریشم کے ذریعے جڑے رہے، جس نے جنوبی ایشیا کو وسطی ایشیا سے ملایا۔ ان راستوں سے نہ صرف تجارت بلکہ خیالات، زبانیں، شاعری اور روایات بھی منتقل ہوئیں۔ علما، شعرا اور سیاح آزادانہ طور پر اس خطے میں آتے جاتے رہے اور ایک مشترکہ ثقافتی ورثہ تشکیل پایا جو آج بھی ہمارے عوام کو قریب لاتا ہے۔

صدر مملکت نے اس مشترکہ تاریخ میں فارسی زبان کے خصوصی کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ کئی صدیوں تک فارسی اس خطے، جو آج پاکستان کہلاتا ہے، میں علم، شاعری اور نظم و نسق کی زبان رہی۔ انہوں نے کہا کہ تاجکستان اس عظیم ورثے کا فخر کے ساتھ محافظ ہے، اور فارسی روایت کے عظیم شعرا و مفکرین دونوں ممالک میں یکساں طور پر قابلِ احترام ہیں، جو اس حقیقت کی یاد دہانی کراتے ہیں کہ ثقافت سرحدوں سے ماورا ہوتی ہے۔

صدر زرداری نے ثقافتی سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ثقافتی تبادلوں کو خصوصی اہمیت دیتا ہے اور انہیں عملی شکل اختیار کرتے دیکھ کر خوشی محسوس ہوتی ہے۔ انہوں نے اظہارِ یقین کیا کہ اسلام آباد اور لاہور میں تاجک وفد کی ثقافتی سرگرمیوں کو پاکستانی عوام کی جانب سے بھرپور پذیرائی ملے گی، اور وزیرِ ثقافت کو چاروں صوبوں کے دورے اور ہفتۂ ثقافت کے اختتامی پروگرام کی میزبانی کی دعوت بھی دی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اقتصادی تعاون تنظیم (ای سی او) اور شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) جیسے علاقائی فورمز کے رکن ہونے کے ناطے پاکستان اور تاجکستان علاقائی تعاون، روابط اور ہم آہنگی کے مشترکہ وژن کے حامل ہیں۔ پاکستان اور تاجکستان کی دوستی مشترکہ اقدار اور مشترکہ مستقبل پر مبنی ہے۔

اس سے قبل جمہوریہ تاجکستان کی وزیرِ ثقافت ستوریون مطلباخون امونزادہ نے ہفتۂ ثقافتِ تاجکستان کے افتتاح کو اعزاز قرار دیتے ہوئے خوشی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور تاجکستان کے درمیان تعلقات قدیم، روحانی، لسانی، تاریخی اور ثقافتی بنیادوں پر قائم ہیں، جو سیاسی، اقتصادی، سلامتی اور ثقافتی شعبوں میں مسلسل فروغ پا رہے ہیں اور اسٹریٹجک شراکت داری کی مضبوط علامت ہیں۔

تاجک وزیرِ ثقافت نے پاکستان کے تہذیبی و تمدنی ورثے، موئن جو دڑو، ٹیکسلا کے آثار، بادشاہی مسجد اور دیگر تاریخی مقامات کو عالمی تہذیب کی حقیقی نشانیاں قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ تاجکستان دونوں ممالک کے درمیان لسانی ہم آہنگی کو گہری قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے کیونکہ دونوں قومیں فارسی-تاجک شاعری کے مشترکہ ورثے کی امین ہیں۔ انہوں نے پاکستان کے شمالی علاقوں بالخصوص خیبر پختونخوا، بلوچستان اور دیگر علاقوں میں مقیم تاجک النسل آبادی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ مشترکہ ثقافتی ہم آہنگی اور تاریخ کی عکاس ہے۔
انہوں نے کہا، “ہم سرحدوں کے ہمسائے نہیں بلکہ روحانی شراکت دار ہیں۔ آج منعقد ہونے والا ہفتۂ ثقافتِ تاجکستان امن، تعاون اور ثقافتی مکالمے کا پیغام ہے۔”

وزیرِ قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھیچی نے اپنے افتتاحی کلمات میں صدر مملکت کی قیادت کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے اعلیٰ سطحی تاجک وفد کی خصوصی آمد کو باعثِ فخر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور تاجکستان کے درمیان صدیوں پر محیط ثقافتی قربت اور ہم آہنگی ہماری طویل المدتی شراکت داری کی بنیاد ہے۔

تقریب کے دوران تاجک وزیرِ ثقافت نے صدر مملکت کو تاجک زر دوزی کوٹ اور تاجک ٹوپی بطور تحفہ پیش کی، جسے صدر زرداری نے خوشی سے زیبِ تن کیا اور شکریہ ادا کیا۔ صدر مملکت نے بھی فارسی اشعار پر مشتمل ایک یادگاری پورٹریٹ تاجک وزیر کو پیش کیا، جسے انہوں نے تشکر کے ساتھ قبول کیا۔

تقریب کے اختتام پر تاجک موسیقی کے گروپ اور گلوکاروں نے روایتی رقص و موسیقی پیش کی، جس میں تاجک قومی نغمے پاکستانی عوام کے نام تحفے کے طور پر پیش کیے گئے۔ اس دوران کرناے، غجک، تنبور، دائرہ، طبلک، تاجک نَے (بانسری) اور دوتار جیسے روایتی ساز استعمال کیے گئے۔ خواتین فنکار روایتی چکان لباس جبکہ مرد فنکار چَپان (کشیدہ کاری شدہ جبے) زیبِ تن کیے ہوئے تھے، جس نے تقریب کو رنگا رنگ اور یادگار بنا دیا۔

اقبالؔ Previous post اقبالؔ کی نظر میں مسئلہ ارتقا کائنات کے امکانات کی توسیع اور اس کی تسخیر
رومانیہ Next post رومانیہ کے صدر نیکوشور دان کی برطانوی بادشاہ کنگ چارلس سوم سے ملاقات