انڈونیشیا

انڈونیشیا اور پاکستان کا IP-PTA کو CEPA میں تبدیل کرنے کے عمل کو تیز کرنے پر اتفاق

جکارتہ، یورپ ٹوڈے: انڈونیشیا اور پاکستان کی حکومتیں انڈونیشیا۔پاکستان ترجیحی تجارتی معاہدے (IP-PTA) کو جامع اقتصادی شراکت داری معاہدے (CEPA) میں تبدیل کرنے کے عمل کو تیز کرنے کی خواہاں ہیں، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور وسیع تر اقتصادی تعلقات میں اسٹریٹجک تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔

انڈونیشیا کی نائب وزیر تجارت دیاح رورو اِستی نے کہا کہ IP-PTA کی توسیع کو CEPA کی شکل دینے کا ہدف 2027 تک حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے یہ بات جمعہ کے روز کراچی میں منعقدہ آٹھویں پاکستان ایڈیبل آئل کانفرنس کے موقع پر پاکستان کے وزیر تجارت جام کمال خان کے ساتھ دوطرفہ ملاقات کے دوران کہی۔

دیاح رورو اِستی کے مطابق انڈونیشیا نے یہ تجویز بھی پیش کی ہے کہ تکنیکی مذاکرات کا آغاز 2026 کے اوائل میں کیا جائے، جو انڈونیشیا۔پاکستان تجارتِ اشیا معاہدے (IP-TIGA) کے تحت حاصل ہونے والی پیش رفت پر مبنی ہوں گے اور وسیع تر تعاون کے لیے بنیاد فراہم کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ CEPA کی جانب تعاون میں توسیع سے اشیا، خدمات اور سرمایہ کاری کی تجارت کا انضمام زیادہ جامع اور پائیدار انداز میں مضبوط ہوگا۔

یہ ملاقات انڈونیشیا کے صدر پربووو سبیانتو کے دسمبر 2025 میں پاکستان کے دورے کے بعد ہوئی، جس کے دوران دوطرفہ تجارتی تعاون کو مزید گہرا کرنے کے لیے کئی اسٹریٹجک معاہدے طے پائے تھے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں انڈونیشیا اور پاکستان کے درمیان دوطرفہ تجارت کا حجم 4.1 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گیا، جو سالانہ بنیادوں پر 24.07 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔ جنوری سے نومبر 2025 کے دوران دوطرفہ تجارت 3.6 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی، جس میں انڈونیشیا کی مضبوط برآمدات کے باعث نمایاں تجارتی سرپلس ریکارڈ کیا گیا۔
2013 میں IP-PTA کے نفاذ کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان تجارت دوگنا سے زیادہ ہو کر 4 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔

ملاقات کے دوران مشترکہ تجارتی کمیٹی کے قیام سے متعلق ایک مفاہمتی یادداشت (MoU) پر بھی دستخط کیے گئے، جس کا مقصد دوطرفہ تجارت کو فروغ دینا، کاروباری سرگرمیوں میں سہولت فراہم کرنا، معلومات کے تبادلے کو بہتر بنانا، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کی معاونت کرنا اور معیارات و تجارتی رکاوٹوں سے متعلق مسائل کا حل تلاش کرنا ہے۔
یہ مفاہمتی یادداشت بالخصوص خوردنی تیل اور زرعی صنعتوں میں دونوں حکومتوں اور کاروباری حلقوں کے درمیان قریبی تعاون کو اجاگر کرتی ہے۔

دیاح رورو اِستی نے مزید کہا کہ پام آئل انڈونیشیا۔پاکستان تجارتی تعلقات میں ایک اہم جنس کی حیثیت رکھتا ہے۔ پاکستان عالمی سطح پر انڈونیشیا سے پام آئل درآمد کرنے والا تیسرا بڑا ملک ہے، جہاں 2024 میں پام آئل کی درآمدات کی مالیت 2.77 ارب ڈالر رہی، جو انڈونیشیا کی مجموعی پام آئل برآمدات کا تقریباً 12 فیصد ہے۔
انہوں نے اس امر کی بھی تصدیق کی کہ انڈونیشیا کی لازمی B50 بایوڈیزل پالیسی پاکستان کو پام آئل کی فراہمی میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہیں کرے گی۔

فضائیہ Previous post سربراہ پاک فضائیہ کی کمانڈر عراقی فضائیہ سے ملاقات
ایران Next post وزارتِ خارجہ کی جانب سے ایران سے متعلق پاکستانی شہریوں کے لیے سفری ہدایت نامہ جاری