انڈونیشیا

انڈونیشیا میں تعلیمی معیار اور مساوی مواقع کے فروغ کے لیے 500 انٹیگریٹڈ اسکولز پروگرام شروع کرنے کا اعلان

جکارتہ، یورپ ٹوڈے: انڈونیشیا کے صدارتی اسٹاف آفس کے سربراہ ایم قوداری نے اعلان کیا ہے کہ حکومت ملک میں تعلیمی خدمات کے معیار اور مساوی رسائی کو بہتر بنانے کے لیے انٹیگریٹڈ اسکول پروگرام شروع کرنے جا رہی ہے، جس کے تحت 2026 تک 500 اسکولوں کو ہدف بنایا گیا ہے۔

پیر کے روز جاری ایک بیان میں ایم قوداری نے بتایا کہ یہ پروگرام وزارتِ ابتدائی و ثانوی تعلیم کی نگرانی میں نافذ کیا جائے گا اور اس کا مقصد مربوط نظامی انتظام کے ذریعے زیادہ مؤثر اور ہم آہنگ تعلیمی خدمات فراہم کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کے ذریعے تعلیمی خدمات کو یکجا کر کے ان کی مؤثریت بڑھائی جائے گی، معیار میں تیزی سے بہتری لائی جائے گی اور عوام کے لیے تعلیم تک مساوی رسائی کو فروغ دیا جائے گا۔

قوداری کے مطابق انٹیگریٹڈ اسکول ایک ایسا “ون اسٹاپ ایجوکیشن ماڈل” ہے جس میں ابتدائی بچپن کی تعلیم (PAUD) سے لے کر سینئر ہائی اسکول تک تمام تعلیمی مراحل ایک ہی انتظامی نظام اور علاقے کے تحت فراہم کیے جائیں گے۔ اس ماڈل کا مقصد خاص طور پر کم آمدنی والے طلبہ کے لیے تعلیم کے معیار کو یکساں بنانا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس تصور میں تعلیمی اداروں کا جسمانی انضمام، تسلسل پر مبنی نصاب اور علاقائی ضروریات کے مطابق پیشہ ورانہ سہولیات شامل ہوں گی۔

حکومت اس پروگرام کے لیے قانونی بنیاد فراہم کرنے کے لیے اس وقت صدارتی ہدایت (Presidential Instruction) کی صورت میں ضابطہ تیار کر رہی ہے، جو قومی تعلیمی ترقی کے اہداف کے مطابق اس منصوبے کے نفاذ کے لیے پالیسی رہنمائی فراہم کرے گا۔

فنڈنگ کے حوالے سے حکومت نے اضافی بجٹ (ABT) اسکیم کے تحت تقریباً 60 ٹریلین انڈونیشین روپیہ (تقریباً 3.4 ارب امریکی ڈالر) مختص کیے ہیں تاکہ انٹیگریٹڈ اسکول پروگرام کو مؤثر انداز میں نافذ کیا جا سکے۔

ایم قوداری نے مزید کہا کہ یہ پروگرام مرحلہ وار نافذ کیا جائے گا، جس میں مرکزی پالیسی اپروچ اختیار کی جائے گی اور زمینی سطح پر ضابطہ جاتی تیاری اور عملدرآمد کے مطابق پیش رفت کی جائے گی۔

حکومت نے امید ظاہر کی ہے کہ اس پروگرام کے ذریعے تعلیمی نظام میں مؤثر اصلاحات لائی جا سکیں گی، قومی تعلیمی معیار بہتر ہوگا اور ملک بھر میں معیاری تعلیم تک مساوی رسائی کو مزید وسعت ملے گی۔

ایران Previous post ایران سے آنے والی ہوائیں پاکستان میں فضائی آلودگی بڑھا سکتی ہیں، محکمہ موسمیات کی وارننگ
افغانستان Next post قابلِ اعتماد انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر افغانستان میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے: عطا اللہ تارڑ