مشرقِ وسطیٰ

مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی کے باوجود انڈونیشیا کے سیاحتی مقامات محفوظ، وزارتِ سیاحت کی یقین دہانی

جکارتہ، یورپ ٹوڈے: انڈونیشیا کی وزارتِ سیاحت نے کہا ہے کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور عالمی حالات پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے تاکہ ملک کے سیاحتی مقامات کو آنے والے سیاحوں کے لیے محفوظ رکھا جا سکے۔

بدھ کے روز جکارتہ میں وزارت کی ماہانہ رپورٹ پیش کرتے ہوئے وزیرِ سیاحت ویدیانتی پوتری وردھانا نے کہا کہ سیاحت کا شعبہ نقل و حرکت اور سرحد پار سفر سے گہرا تعلق رکھتا ہے، اس لیے دنیا کے مختلف خطوں میں ہونے والی تبدیلیاں بین الاقوامی سفر میں غیر یقینی صورتحال پیدا کر سکتی ہیں، جس کا اثر سیاحوں اور عالمی سیاحتی صنعت دونوں پر پڑتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان حالات کے پیش نظر وزارتِ سیاحت انڈونیشیا کے سیاحتی شعبے کی ترقی کی رفتار برقرار رکھنے کے لیے لچکدار حکمت عملی اختیار کر رہی ہے۔ اس ضمن میں ایک اہم حکمت عملی یہ ہے کہ مارکیٹ کی توجہ ایسے ممالک کی جانب منتقل کی جائے جہاں سفر کے راستے مستحکم ہیں، جن میں مشرقی ایشیا، جنوبی ایشیا، جنوب مشرقی ایشیا اور اوشیانا شامل ہیں۔

وزارت نے سیاحتی فروغ کے لیے ڈیجیٹل مہمات کو بھی تیز کر دیا ہے، سرحد پار سرگرمیوں اور تقریبات میں اضافہ کیا جا رہا ہے جبکہ مقامی سیاحوں کو ملکی سیاحتی مقامات کی جانب راغب کرنے کے اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ کی فضائی حدود کی عارضی بندش کے باعث بعض مسافروں کو درپیش مشکلات کے حوالے سے وزیر سیاحت نے کہا کہ حکومت نے ضروری اقدامات کیے ہیں تاکہ متاثرہ سیاح محفوظ طریقے سے انتظار کر سکیں جب تک ان کے سفر کو دوبارہ بحال نہ کیا جائے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ سال کے آغاز میں انڈونیشیا کے سیاحتی شعبے نے مثبت رجحان دکھایا ہے۔ جنوری 2026 میں اہم داخلی راستوں کے ذریعے آنے والے غیر ملکی سیاحوں کی تعداد 10 لاکھ 10 ہزار تک پہنچ گئی۔

ملائیشیا سب سے زیادہ سیاح فراہم کرنے والا ملک رہا جہاں سے 1 لاکھ 50 ہزار 500 سیاح آئے، جبکہ آسٹریلیا، چین، سنگاپور اور بھارت بھی نمایاں ممالک میں شامل رہے۔

نائب وزیر سیاحت نی لوہ پُسپا نے بتایا کہ جنوری 2026 میں ملکی سیاحت کے تحت مجموعی طور پر 10 کروڑ 20 لاکھ 40 ہزار سفر ریکارڈ کیے گئے، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں تقریباً 0.93 فیصد کم ہیں۔

ان کے مطابق اس معمولی کمی کی وجہ یہ ہے کہ جنوری کا مہینہ کرسمس اور نئے سال کی تعطیلات کے بعد اور آئندہ بڑی تعطیلات جیسے قمری نئے سال اور عید الفطر سے قبل آتا ہے۔

انہوں نے توقع ظاہر کی کہ آنے والے مہینوں میں تعطیلات اور سیاحتی پیکجز کی دستیابی کے ساتھ ملکی سیاحت میں نمایاں اضافہ ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کو یقین ہے کہ مختلف تشہیری پروگراموں اور سیاحتی مقامات کی بہتر تیاری کے ذریعے 2026 میں ایک ارب 18 کروڑ ملکی سیاحتی سفروں کا ہدف حاصل کیا جا سکے گا۔

دوسری جانب سال کے آغاز میں انڈونیشی شہریوں کے بیرونِ ملک سفر میں بھی 1.65 فیصد اضافہ ہوا اور یہ تعداد تقریباً 10 لاکھ تک پہنچ گئی۔ ان میں زیادہ تر سفر ملائیشیا، سعودی عرب اور سنگاپور کی جانب کیے گئے جو مجموعی سفروں کا 58.58 فیصد بنتے ہیں۔

ملائیشیا اور سنگاپور جغرافیائی قربت اور آسان رسائی کے باعث سب سے پسندیدہ مقامات ہیں، جبکہ سعودی عرب جانے والے زیادہ تر افراد عمرہ کی ادائیگی کے لیے سفر کرتے ہیں۔

اٹلی Previous post اٹلی کا عراقی کردستان میں فوجی اڈے سے عملہ عارضی طور پر واپس بلانے کا اعلان
مملکت Next post صدرِ مملکت کی منظوری، نہال ہاشمی گورنر سندھ تعینات