
انڈونیشیا کا اقوامِ متحدہ سے امن مشنز کے حفاظتی پروٹوکول کا جامع جائزہ لینے کا مطالبہ
جکارتہ، یورپ ٹوڈے: انڈونیشیا نے اقوامِ متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ دنیا بھر میں تعینات امن مشنز کے لیے حفاظتی پروٹوکول کا جامع جائزہ لیا جائے۔ یہ بات انڈونیشیا کے وزیرِ خارجہ سوگیونو نے اتوار کے روز لبنان میں اقوامِ متحدہ کے امن مشن کے دوران تین انڈونیشی اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد کہی۔
وزیرِ خارجہ نے اقوامِ متحدہ عبوری امن فورس برائے لبنان میں خدمات انجام دینے والے اہلکاروں کی ہلاکت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ جاں بحق ہونے والوں میں میجر (بعد از وفات) ذلمی ادیتیا اسکندر، چیف سارجنٹ (بعد از وفات) محمد نور اچوان اور سیکنڈ کارپورل (بعد از وفات) فریزال رومادھون شامل ہیں۔
سوگیونو نے کہا کہ حکومت اپنے امن دستوں کی حفاظت اور صحت کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے تاکہ وہ اپنی ذمہ داریاں بحسن و خوبی انجام دے سکیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ واقعے میں تین دیگر اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں جبکہ واقعے کی وجوہات کی تحقیقات جاری ہیں۔
واقعے کے بعد انڈونیشیا نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ اہلکاروں کی سلامتی کے معاملے پر فوری اجلاس طلب کرے۔ وزیرِ خارجہ کے مطابق لبنان سے متعلق سلامتی کونسل میں قلمدان رکھنے والے ملک فرانس نے اس درخواست کی حمایت کی ہے۔
انہوں نے امن اہلکاروں پر حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات کسی صورت قابلِ قبول نہیں اور اس واقعے کی مکمل تحقیقات ہونی چاہیے۔
سوگیونو نے واضح کیا کہ امن دستے جنگ کے لیے نہیں بلکہ امن برقرار رکھنے کے لیے تعینات کیے جاتے ہیں، اس لیے انہیں جنگی کارروائیوں کے لیے درکار صلاحیتوں سے لیس نہیں کیا جاتا بلکہ ان کی تربیت اور سازوسامان کا مقصد صرف امن کا قیام ہوتا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ تمام امن اہلکاروں کی سلامتی کو یقینی بنانا عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔