
انڈونیشیا اور یوریشیائی اقتصادی یونین کے درمیان آزاد تجارتی معاہدہ طے، نئی منڈیوں تک رسائی اور برآمدات میں توسیع کا ہدف
جکارتہ، یورپ ٹوڈے: انڈونیشیا کی حکومت نے اتوار (21 دسمبر) کو یوریشیائی اقتصادی یونین (ای اے ای یو) کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے (فری ٹریڈ ایگریمنٹ) پر دستخط کر دیے، جس کا مقصد تجارتی محصولات میں کمی، غیر روایتی منڈیوں تک قومی مصنوعات کی رسائی میں توسیع اور دوطرفہ اقتصادی تعاون کو فروغ دینا ہے۔
انڈونیشیا کی نمائندگی وزیر تجارت بودی سانتوسو نے کی، جنہوں نے یہ معاہدہ روس کے شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں منعقدہ ای اے ای یو سربراہی اجلاس کے موقع پر دستخط کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ صدر پرابوو سبیانٹو کی اس ہدایت کا حصہ ہے جس کے تحت انڈونیشیائی کاروبار کے لیے نئی منڈیاں کھولنے پر زور دیا گیا ہے۔
وزیر تجارت نے پیر کے روز جکارتہ میں جاری بیان میں کہا، “انڈونیشیا–ای اے ای یو فری ٹریڈ ایگریمنٹ صرف محصولات میں کمی تک محدود نہیں بلکہ باہمی فائدے اور پائیدار اقتصادی روابط کے قیام کی جانب ایک اہم سنگِ میل ہے۔”
انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور ای اے ای یو کے رکن ممالک کے دیگر رہنماؤں کی موجودگی میں طے پانے والا یہ معاہدہ انڈونیشیا کو یوریشیائی خطے کی اُن منڈیوں تک رسائی فراہم کرے گا جو اب تک غیر مستعمل رہی ہیں۔ ان منڈیوں کی مجموعی آبادی 18 کروڑ جبکہ مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) 2.56 ٹریلین امریکی ڈالر ہے۔
سانتوسو کے مطابق، “یہ دستخط انڈونیشیا کی برآمدی منڈیوں میں تنوع پیدا کرنے اور بالخصوص صنعت اور زراعت کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے نئے ذرائع تلاش کرنے کی ہماری کوششوں کا حصہ ہیں۔”
انہوں نے بتایا کہ 15 ابواب پر مشتمل اس تجارتی معاہدے میں مارکیٹ تک رسائی، تجارت میں سہولت کاری اور اقتصادی تعاون سمیت باہمی ترقی کے مختلف شعبے شامل ہیں، جبکہ اس کے تحت ای اے ای یو نے انڈونیشیائی مصنوعات کے لیے 90.5 فیصد ٹیرف لائنز پر ترجیحی محصولات لاگو کرنے کے عزم کو باضابطہ شکل دی ہے۔
وزیر تجارت نے زور دیا کہ اس انتظام کے تحت “انڈونیشیا کی نمایاں برآمدی مصنوعات کو زیادہ وسیع اور مسابقتی مارکیٹ تک رسائی حاصل ہوگی۔” ان کے مطابق ترجیحی ٹیرف کے نفاذ سے پام آئل اور اس کی مصنوعات، جوتے، ٹیکسٹائل و ٹیکسٹائل مصنوعات، ماہی گیری کی مصنوعات، قدرتی ربڑ، فرنیچر اور الیکٹرانکس کی برآمدات میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
دوسری جانب، سانتوسو نے کہا کہ انڈونیشیا اپنی 28 کروڑ 16 لاکھ آبادی اور 1.4 ٹریلین امریکی ڈالر کی مسلسل بڑھتی ہوئی معیشت کے ذریعے ای اے ای یو ممالک کو بھی وسیع اقتصادی مواقع فراہم کرتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ انڈونیشیا–ای اے ای یو فری ٹریڈ ایگریمنٹ محض سیاسی یا اقتصادی اشارہ نہیں بلکہ ایک نئی اسٹریٹجک شراکت داری کا آغاز ہے، کیونکہ دونوں فریق وسیع منڈیوں، مضبوط وسائل اور ایک دوسرے کی تکمیل کرنے والی مصنوعات کے حامل ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ انڈونیشیا اور ای اے ای یو عالمی تجارتی نظام میں ایک دوسرے کی پوزیشن مضبوط بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔
اس معاہدے پر دستخط انڈونیشیا کے وزیر تجارت بودی سانتوسو کے علاوہ آرمینیا کے نائب وزیر اعظم مہیر گریگوریان، بیلاروس کی نائب وزیر اعظم نتالیہ پیٹکیوچ، قازقستان کے نائب وزیر اعظم سیرک ژومانگارین، کرغزستان کے پہلے نائب وزیر اعظم دانیار امانگیلدیف، روس کے نائب وزیر اعظم الیکسی اوورچک اور یوریشیائی اقتصادی کمیشن کے بورڈ کے چیئرمین بکت ژان ساگنتایوف نے کیے۔
وزیر تجارت نے اس موقع پر صدر پرابوو سبیانٹو کی جانب سے ای اے ای یو کے رہنماؤں کے لیے نیک تمناؤں اور خیرسگالی کے پیغامات بھی پہنچائے۔