
انڈونیشیا کی مذہبی سفارت کاری میں وسعت، 12 ممالک سے اسٹریٹجک تعاون پر غور
جکارتہ، یورپ ٹوڈے: انڈونیشیا کی وزارتِ مذہبی امور نے مذہبی سفارت کاری کو فروغ دینے کے لیے 12 ممالک کے ساتھ اسٹریٹجک تعاون کے امکانات کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے، جس کا مقصد مذہبی خدمات کی توسیع، ثقافتی تبادلے اور کثیرالجہتی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔ حکام نے جمعہ کے روز اس پیش رفت کی تصدیق کی۔
یہ اقدام جمعرات کو جکارتہ میں منعقدہ ایک فوکسڈ گروپ ڈسکشن کے دوران زیرِ بحث آیا، جس کی میزبانی ڈائریکٹوریٹ جنرل آف اسلامک کمیونٹی گائیڈنس نے کی۔ اجلاس میں مصر، افغانستان، ترکی، الجزائر، مراکش، عراق، پاکستان، اردن، کویت، سعودی عرب، یمن اور ایران کے سفارتی نمائندوں نے شرکت کی۔
ڈائریکٹر جنرل ابو روخمد نے کہا کہ سرحد پار تعاون مذہبی سفارت کاری کو مستحکم بنانے کے ساتھ ساتھ وزارت کے اہم پروگراموں کو آگے بڑھانے کے لیے نہایت ضروری ہے، جن میں مذہبی خدمات، بین الاقوامی مقابلۂ حسنِ قرأت (مسابقہ تلاوتِ قرآن)، اور زکوٰۃ و وقف کے انتظام میں تعاون شامل ہے۔
انہوں نے کہا، “ہم توقع رکھتے ہیں کہ یہ فورم شراکت دار ممالک سے عملی تجاویز فراہم کرے گا، جن میں مذہبی خدمات، مسابقہ تلاوتِ قرآن، اور زکوٰۃ و وقف کے شعبوں میں تعاون شامل ہو گا۔”
وزارت کی سیکریٹری لوبینہ نے بتایا کہ یہ اجلاس وزارتِ مذہبی امور، وزارتِ خارجہ اور مختلف ممالک کے سفارت خانوں کے درمیان رابطہ اور ہم آہنگی کا ایک مؤثر پلیٹ فارم بھی ثابت ہوا، جس کے ذریعے بین الاقوامی مذہبی تعاون کے مواقع کو مزید مضبوط بنانے پر غور کیا گیا۔
انہوں نے کہا، “مذہبی سفارت کاری محض روابط کا ذریعہ نہیں بلکہ سماجی، ثقافتی اور تعلیمی شعبوں میں مکالمے اور تعاون کا ایک جامع پلیٹ فارم ہے۔”
اجلاس میں دس ترجیحی شعبہ جات کی نشاندہی کی گئی، جن میں بیرونِ ملک مقیم انڈونیشیائی کمیونٹی کے لیے خدمات، سرحد پار مساجد کا انتظام، مذہبی رہنمائی، بین الاقوامی مقابلۂ قرأت، اسلامی سیمینارز، علما کے تبادلے، اسلامی ثقافتی سفارت کاری، رویتِ ہلال میں تعاون، اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے ایکو تھیولوجی جیسے موضوعات شامل ہیں۔
لوبینہ نے امید ظاہر کی کہ یہ شراکت داریاں ٹھوس سفارشات کی صورت میں سامنے آئیں گی اور باہمی فوائد کو یقینی بناتے ہوئے مذہبی امور کے میدان میں انڈونیشیا کی کثیرالجہتی شمولیت کو مزید مضبوط کریں گی۔