انڈونیشیا

انڈونیشیا میں عیدالفطر پر عوام کی سہولت کے لیے 36 ہزار سے زائد ٹرانسپورٹ گاڑیوں کی تیاری

جکارتہ، یورپ ٹوڈے:  انڈونیشیا کی حکومت نے عیدالفطر کے موقع پر گھروں کو واپسی کرنے والے مسافروں کی سہولت کے لیے مختلف ذرائع آمدورفت پر مشتمل 36 ہزار 660 ٹرانسپورٹ گاڑیوں کی تیاری مکمل کر لی ہے۔

وزیرِ ٹرانسپورٹ ڈوڈی پورواگاندھی نے جمعہ (6 مارچ) کی شام بتایا کہ حکومت نے بسوں، بحری جہازوں، طیاروں اور ٹرینوں سمیت تمام ضروری سہولیات اور انفراسٹرکچر تیار کر لیا ہے۔

ان کے مطابق اس بیڑے میں زمینی سفر کے لیے تقریباً 31 ہزار 300 بسیں، بین الجزیری نقل و حرکت کے لیے 841 بحری جہاز اور 254 فیریز، 372 طیارے اور 3 ہزار 893 ریلوے بوگیاں شامل ہیں۔

وزارتِ ٹرانسپورٹ کی جانب سے عیدالفطر کے دوران استعمال ہونے والی تمام ٹرانسپورٹ گاڑیوں کی فٹنس کو یقینی بنانے کے لیے رَیمپ چیکس اور دیگر نگرانی کے نظام کے ذریعے معائنہ بھی کیا جا رہا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ تمام گاڑیاں مکمل طور پر قابلِ استعمال حالت میں ہیں۔

وزیرِ ٹرانسپورٹ کے مطابق یہ فٹنس معائنے 2025/2026 کے کرسمس اور نئے سال کی تعطیلات سے جاری ہیں اور مارچ کے وسط میں عیدالفطر سے قبل تک جاری رہیں گے۔

حکومت نے عیدالفطر کے دوران ٹرانسپورٹ آپریشنز کی نگرانی کے لیے ڈیجیٹل نظام بھی متعارف کرانے کی تیاری کی ہے جو مختلف ٹرانسپورٹ مراکز کے ساتھ مربوط ہوگا۔

اس نظام کے ذریعے بس ٹرمینلز، بندرگاہوں، ہوائی اڈوں، ریلوے اسٹیشنوں اور فیری کراسنگ پوائنٹس پر عوام کی نقل و حرکت کی نگرانی کی جائے گی۔

ڈیجیٹل سسٹم حکومت کو زمینی صورتحال کو ریئل ٹائم میں دیکھنے اور ٹریفک کے دباؤ یا آپریشنل مسائل کی صورت میں فوری فیصلے کرنے کی سہولت فراہم کرے گا۔

اس نگرانی کے عمل میں انڈونیشین نیشنل پولیس ٹریفک کور، وزارتِ تعمیرات، محکمہ موسمیات و جیو فزکس (BMKG) اور نیشنل سرچ اینڈ ریسکیو ایجنسی (باسارناس) سمیت مختلف ادارے شریک ہوں گے۔

حکام کے مطابق نگرانی کے لیے تقریباً 7 ہزار 100 سی سی ٹی وی کیمرے نظام سے منسلک کیے گئے ہیں جبکہ 80 اہم مقامات پر تقریباً 60 ڈرونز کے ذریعے فضائی نگرانی بھی کی جائے گی۔

وزارتِ ٹرانسپورٹ کا اندازہ ہے کہ 2026 کی عیدالفطر کے دوران سفر کرنے والے مسافروں کی تعداد گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 1.7 فیصد کم ہوگی، یعنی 14 کروڑ 64 لاکھ سے کم ہو کر تقریباً 14 کروڑ 39 لاکھ افراد تک رہنے کا امکان ہے۔

حکام کے مطابق عید کے موقع پر گھروں کو واپسی کے سفر کا عروج 16 اور 18 مارچ کو متوقع ہے، جس کے لیے صدر پرابوو سوبیانتو کی منظوری سے ورک فرام اینی ویئر (WFA) پالیسی تجویز کی گئی ہے تاکہ ٹریفک کے دباؤ کو کم کیا جا سکے۔

اسی طرح واپسی کے سفر کے دوران بھی حکومت نے 25 سے 27 مارچ تک ورک فرام اینی ویئر پالیسی نافذ کرنے کی تجویز دی ہے، جو عیدالفطر کی اجتماعی تعطیلات کے اختتام کے بعد نافذ ہوگی۔

شہباز شریف Previous post وزیراعظم شہباز شریف کی وفاقی وزیر محسن نقوی کی عیادت، جلد صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار
1332 Next post خلیجی جنگ آٹھویں روز میں داخل، امریکی و اسرائیلی حملوں میں ایران میں شہدا کی تعداد 1332 تک پہنچ گئی