
انڈونیشیا میں 60 ہزار اسکولوں کی بحالی کے لیے 89.5 کھرب روپیہ اضافی بجٹ کی تجویز
جکارتہ، یورپ ٹوڈے: انڈونیشیا کی وزارتِ پرائمری و سیکنڈری تعلیم نے ملک بھر میں 60 ہزار اسکولوں کی بحالی کے لیے 89.5 کھرب انڈونیشین روپیہ (تقریباً 5.3 ارب امریکی ڈالر) کے اضافی بجٹ کی تجویز پیش کر دی ہے، جس کی تصدیق چیف آف پریزیڈنشل اسٹاف آفس (KSP) ایم قوداری نے کی ہے۔
بدھ کے روز جکارتہ میں کے ایس پی عمارت میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ یہ درخواست اضافی بجٹ الاٹمنٹ (ABT) اسکیم کے تحت وزارتِ خزانہ کو ارسال کر دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں اسکولوں کی بحالی صدر پرابوو سوبیانتو کے فوری نتائج دینے والے پروگرامز (Quick-Win Programs) کا حصہ ہے، جس کا مقصد قومی تعلیمی نظام کو مضبوط بنانا ہے۔
ایم قوداری نے بتایا کہ مجوزہ اضافی بجٹ کا دائرہ کار نمایاں طور پر وسیع ہے، جو اس سال 11,744 اسکولوں کی بحالی کے لیے مختص ابتدائی 14.1 کھرب روپیہ سے کہیں زیادہ ہے، جبکہ یہ رقم 2025 کے بجٹ کے مقابلے میں بھی نمایاں اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
انہوں نے کہا، “2025 میں ہدف ابتدائی طور پر 10 ہزار اسکول تھا جسے بڑھا کر 16 ہزار کر دیا گیا، جبکہ اس سال ہم اس دائرہ کار کو تقریباً 11 ہزار سے بڑھا کر 60 ہزار اسکولوں تک لے جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔”
انہوں نے مزید بتایا کہ 11 مارچ تک حکومت نے 2025 کے بجٹ کے تحت مقررہ 16,167 اسکولوں میں سے 16,062 کی بحالی مکمل کر لی ہے، جبکہ باقی منصوبے تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں۔
ایم قوداری کے مطابق حکومت اس بات کے لیے پُرعزم ہے کہ تمام تعمیراتی کام حفاظتی اور معیاری اصولوں کے مطابق مکمل کیے جائیں، جبکہ یہ منصوبہ صرف اسکول عمارتوں کی مرمت تک محدود نہیں بلکہ دیگر سہولیات کو بھی بہتر بنانے پر مشتمل ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کے تحت بیت الخلاء سمیت معاون سہولیات کی بہتری بھی شامل ہے، تاکہ طلبہ کو بہتر اور صحت مند تعلیمی ماحول فراہم کیا جا سکے، جو مستقبل میں معیاری انسانی وسائل کی تشکیل میں معاون ثابت ہوگا۔
انہوں نے اس اعتماد کا اظہار بھی کیا کہ ملک بھر میں اسکولوں کی بحالی کے منصوبے مقامی آبادی کے لیے مثبت معاشی اثرات کا باعث بنیں گے۔