
انڈونیشیا کی امریکہ سے خام تیل اور ایندھن کی درآمد جاری رکھنے کی یقین دہانی، تجارتی مذاکرات رواں ماہ مکمل ہونے کی توقع
جکارتہ، یورپ ٹوڈے: انڈونیشیا نے جمعہ کو واضح کیا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ جاری تجارتی ٹیرف مذاکرات کے تحت خام تیل اور ایندھن کی درآمدات جاری رکھنے کے اپنے عزم پر قائم ہے۔ توانائی کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے مطابق مذاکرات کے حوالے سے منسوخی کی افواہوں میں کوئی صداقت نہیں۔
نائب وزیر برائے توانائی و معدنی وسائل یولیوت تانجونگ نے کہا کہ وزارت اپنے طے کردہ امپورٹ شیڈول کے مطابق آگے بڑھے گی۔ انہوں نے کہا، ’’ہم اپنی اس کمیٹمنٹ پر قائم ہیں اور امریکہ کے ساتھ طے شدہ مقدار کے مطابق درآمدات جاری رکھیں گے۔‘‘
دوسری جانب، وزیرِ اقتصادی امور ایرلانگگا ہارتارتو نے تصدیق کی کہ تجارتی ٹیرف پر مذاکرات جاری ہیں اور رواں ماہ ان کے مکمل ہونے کی توقع ہے۔
انہوں نے بتایا کہ 11 دسمبر کو ان کی ملاقات امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر سے ہوئی، جس میں باہمی ٹیرف امور پر بات چیت کی گئی اور اس کی رپورٹ جمعہ کو صدر پرابوو سبیانتو کو پیش کی گئی۔
ہارتارتو کے مطابق صدر نے ہدایت کی ہے کہ دونوں ممالک کے مفادات کو ترجیح دیتے ہوئے ٹیرف سے متعلق مذاکرات 2025 کے اختتام تک مکمل کیے جائیں۔
مذاکرات کے حصے کے طور پر انڈونیشیا نے دوطرفہ تجارتی توازن بہتر کرنے کے لیے امریکہ سے درآمدات میں اضافہ کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ انڈونیشیا توانائی کی مصنوعات میں 15 ارب ڈالر اور زرعی مصنوعات میں 4.5 ارب ڈالر تک کی درآمد کا ارادہ رکھتا ہے۔
فریقین نے امریکہ میں 10 ارب ڈالر مالیت کے بلیو امونیا پلانٹ کی تعمیر اور انڈونیشی منصوبوں میں مزید امریکی سرمایہ کاری کے فروغ پر بھی اتفاق کیا ہے۔
انڈونیشیا نے امریکہ میں پیدا نہ ہونے والی مصنوعات، جیسے پام آئل، ربڑ، چائے، کافی اور ربڑ سے بنی دیگر مصنوعات پر صفر فیصد ٹیرف کے حصول کی درخواست بھی کی ہے۔ جبکہ ٹیکسٹائل اور فٹ ویئر مصنوعات کے ٹیرف سے متعلق بات چیت ابھی جاری ہے۔