
امریکہ کے ساتھ صفر ٹیرف رسائی برقرار رکھنے کے لیے انڈونیشیا کی کوششیں، سپریم کورٹ فیصلے کے بعد مزید مشاورت کا اعلان
جکارتہ،یورپ ٹوڈے: انڈونیشیا نے امریکہ کے ساتھ دوطرفہ تجارتی معاہدے پر دستخط کے بعد اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ اپنی اہم برآمدات کے لیے امریکی منڈی تک صفر ٹیرف رسائی کو برقرار رکھنے کی کوشش جاری رکھے گا، یہ مؤقف امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی باہمی محصولات کی پالیسی کالعدم قرار دینے کے فیصلے کے باوجود سامنے آیا ہے۔
وزیرِ تجارت بوڈی سانتوسو نے جمعرات کو جکارتہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کے فیصلے کے بعد بھی مشاورت کا عمل جاری ہے۔ انہوں نے کہا، “ہم نے جو معاہدہ طے کیا ہے، جس کے تحت انڈونیشی مصنوعات امریکی منڈی میں صفر ٹیرف کے ساتھ داخل ہو سکتی ہیں، توقع ہے کہ وہ برقرار رہے گا۔”
19 فروری کو انڈونیشیا اور امریکہ کے درمیان باضابطہ طور پر ایک باہمی ٹیرف معاہدے پر دستخط کیے گئے تھے، جس کے تحت 1,819 انڈونیشی مصنوعات کو ڈیوٹی فری رسائی دی گئی۔ ان میں پام آئل، کافی، کوکو، مصالحہ جات، ربڑ، سیمی کنڈکٹرز اور ہوائی جہازوں کے پرزہ جات شامل ہیں۔ معاہدے کے تحت کوٹہ اسکیم کے تحت ٹیکسٹائل اور ملبوسات پر درآمدی محصولات بھی ختم کر دیے گئے۔
تاہم 20 فروری کو امریکی سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ (آئی ای ای پی اے) کے تحت عالمی محصولات عائد کرنے کا اختیار حاصل نہیں تھا۔ اس فیصلے کے بعد واشنگٹن نے عارضی طور پر 10 فیصد عالمی ٹیرف نافذ کیا، جبکہ وائٹ ہاؤس کی جانب سے اسے 15 فیصد تک بڑھانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
کانگریس سے خطاب میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ “تقریباً تمام ممالک اور کمپنیاں سپریم کورٹ کے فیصلے سے قبل طے شدہ ٹیرف معاہدوں کو برقرار رکھنا چاہتی ہیں۔”
انڈونیشیا کی رابطہ وزارت برائے اقتصادی امور نے تصدیق کی ہے کہ ٹرمپ کی پالیسی کے خاتمے کے بعد امریکی حکام کے ساتھ مزید مذاکرات کیے جائیں گے تاکہ دوطرفہ تجارتی تعاون کو جاری رکھا جا سکے۔