
انڈونیشیا بحریہ جدید جنگی جہاز کے لیے میزائل نظاموں پر غور، بحری دفاع مضبوط بنانے کی کوششیں تیز
جکارتہ، یورپ ٹوڈے: انڈونیشیا کی بحریہ اپنے جدید ترین جنگی جہاز KRI Prabu Siliwangi-321 کو مسلح کرنے کے لیے اٹلی، فرانس اور ترکی کے میزائل نظاموں پر غور کر رہی ہے، جو جمعرات کے روز جکارتہ پہنچا۔ یہ اقدام ملک کی بحری دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے کی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔
بحریہ کے سربراہ ایڈمرل محمد علی نے پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ میزائل سسٹمز کے مختلف آپشنز زیرِ غور ہیں۔ انہوں نے کہا، “ہم اب بھی میزائلوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔ اٹلی، فرانس کی کمپنی MBDA اور ممکنہ طور پر ترکی کے آپشنز موجود ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ میزائل نظام اور جہاز میں نصب سینسرز کے حوالے سے حتمی فیصلہ ابھی نہیں کیا گیا اور اس کا تفصیلی جائزہ جاری ہے، تاہم جہاز کے توپ خانے کی تنصیب کی تصدیق ہو چکی ہے۔
یہ جنگی جہاز 11 فروری 2026 کو اٹلی کے بحری اڈے لا اسپیزیا سے روانہ ہونے کے بعد جمعرات کو جکارتہ کے تنجونگ پریوک بندرگاہ پہنچا، جبکہ اس نے 23 مارچ کو لامپونگ میں مختصر قیام بھی کیا تھا۔
انڈونیشین بحریہ کے ترجمان ایڈمرل ٹنگگل کے مطابق یہ جہاز اطالوی کمپنی فنکانتیری نے تیار کیا ہے اور اسے مختلف نوعیت کے مشنز کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یہ جنگی جہاز گشت، سطحی و زیرِ سطح جنگی کارروائیوں، فضائی دفاع، اسٹریٹجک اثاثوں کی حفاظت، سمندری قوانین کے نفاذ اور انسانی امدادی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
143 میٹر لمبے اور 16.5 میٹر چوڑے اس جہاز نے انڈونیشیا پہنچنے سے قبل ہتھیاروں کی صلاحیت اور جنگی تیاری کے مختلف مراحل کے ٹیسٹ مکمل کیے، جن میں 127 ملی میٹر مین گن کی اسٹرکچرل فائرنگ آزمائش بھی شامل تھی۔
یہ ٹیسٹ 27 جنوری کو انڈونیشیا روانگی سے قبل جہاز کے آخری سفر کے دوران کیا گیا، جو بڑے ہتھیاروں اور ساختی نظام کی جانچ کا حصہ تھا۔
ایڈمرل ٹنگگل کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ انڈونیشیا کی بحریہ نے 120 ملی میٹر سے بڑی کیلیبر کی گن کو عملی طور پر تعینات کیا ہے۔
جہاز جدید ہتھیاروں سے لیس ہے، جن میں OTO Melara کی 127 ملی میٹر مین گن، 76 ملی میٹر اسٹریلس گن برائے درمیانی فاصلے کا فضائی دفاع، 16 عمودی میزائل لانچرز، Teseo Mk-2E اینٹی شپ میزائلز، اینٹی سب میرین ٹارپیڈوز اور قریبی فاصلے کے خودکار دفاعی نظام شامل ہیں۔
KRI Prabu Siliwangi-321 کی آمد سے توقع کی جا رہی ہے کہ انڈونیشیا کی بحری دفاعی پوزیشن مزید مستحکم ہوگی اور یہ ملک کی خودمختاری اور سمندری سلامتی کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرے گا۔