
عالمی جغرافیائی کشیدگی کے باوجود انڈونیشیا میں توانائی کی فراہمی مستحکم
جکارتہ، یورپ ٹوڈے: انڈونیشیا کے وزیرِ توانائی و معدنی وسائل باہلیل لہدالیا نے منگل کے روز اعلان کیا ہے کہ عالمی جغرافیائی غیر یقینی صورتحال کے باوجود ملک میں توانائی کی فراہمی محفوظ اور مستحکم ہے۔
وزیرِ توانائی نے تصدیق کی کہ ایندھن، مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) اور بجلی کے ذخائر قومی معیار کے مطابق ہیں اور ملک بھر میں بلا تعطل دستیاب ہیں۔
انہوں نے آبنائے ہرمز میں غیر مغربی ممالک کے جہازوں کے لیے وقفے وقفے سے رسائی کی نئی پالیسی کو "تازہ ہوا کا جھونکا” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس پیش رفت سے عالمی توانائی کی ترسیل کے نظام میں بہتری آئی ہے۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا، "اسرائیل اور امریکہ کے علاوہ دیگر ممالک کے لیے اب رابطہ ممکن ہو گیا ہے، جو ہماری عالمی توانائی سپلائی لائنز کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہے۔”
وزیر نے مزید بتایا کہ ملک میں ایندھن اور ایل پی جی کے ذخائر کی روزانہ بنیادوں پر نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ قلت سے بچا جا سکے۔ انہوں نے عوام کو یقین دلایا کہ آنے والی عیدالفطر کے موقع پر توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے وافر ذخائر موجود ہیں، جبکہ بجلی گھروں کے لیے کوئلے کے ذخائر اوسطاً 14 سے 15 دن کے لیے کافی ہیں۔
حکومت نے سبسڈی والے ایندھن کی قیمتوں میں فوری اضافے سے متعلق خدشات کو بھی مسترد کر دیا ہے۔ وزیر نے واضح کیا کہ عوام کی قوتِ خرید کے تحفظ کے لیے حکومت پُرعزم ہے اور کم از کم عید کی تعطیلات کے اختتام تک سبسڈی برقرار رکھی جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ جب تک عالمی تیل کی قیمتیں سرکاری بجٹ میں طے شدہ حدود میں رہیں گی، حکومت قیمتوں میں استحکام کو یقینی بناتی رہے گی۔ باہلیل لہدالیا نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت عوام کو درپیش معاشی چیلنجز کے حل کو ترجیح دے رہی ہے۔