انڈونیشیا

انڈونیشیا کے صدر کا توانائی تحفظ پر زور، بیرونِ ملک دوروں کو تیل کی فراہمی یقینی بنانے سے جوڑ دیا

Read Time:2 Minute, 12 Second

جکارتہ، یورپ ٹوڈے: انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو نے کہا ہے کہ ان کے حالیہ اور آئندہ بیرونِ ملک دوروں کا بنیادی مقصد ملک کے لیے تیل کی مسلسل اور محفوظ فراہمی کو یقینی بنانا ہے، کیونکہ عالمی سطح پر ترسیلی خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

بدھ کے روز جکارتہ میں صدارتی محل کے احاطے میں منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی حکومتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے، جس میں تقریباً 800 سینئر حکام، وفاقی وزراء، ادارہ جاتی سربراہان اور سیکیورٹی حکام شریک تھے، صدر نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ ان کے غیر ملکی دورے محض رسمی یا تفریحی نوعیت کے ہیں۔

انہوں نے کہا، “خواتین و حضرات، مجھے مختلف ممالک کا سفر کرنا پڑتا ہے تاکہ تیل کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔”

صدر پرابوو نے کہا کہ بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے پیشِ نظر حکومت نے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ روابط کو مزید مضبوط کیا ہے تاکہ توانائی کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے، جو معاشی استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وہ حال ہی میں 29 سے 31 مارچ تک جاپان اور 31 مارچ سے یکم اپریل تک جنوبی کوریا کے دورے کر چکے ہیں، جہاں توانائی کے شعبے میں تعاون سمیت اقتصادی استحکام کو فروغ دینے پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔

صدر نے مزید کہا کہ وہ جلد ایک اور ملک کا دورہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ تیل کی درآمد کے لیے انڈونیشیا کے متبادل ذرائع کو مزید وسعت دی جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ حکمت عملی انڈونیشیا کی دیرینہ “آزاد اور فعال” خارجہ پالیسی کے عین مطابق ہے، جس کا مقصد متوازن تعلقات اور باہمی مفاد پر مبنی تعاون کو فروغ دینا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت تیل اور توانائی کی فراہمی کے ذرائع میں تنوع لا کر بیرونی دباؤ اور ممکنہ جھٹکوں کے اثرات کو کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ عالمی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال کے باوجود توانائی کا استحکام اولین ترجیح ہے۔

صدر نے عالمی دباؤ کے باوجود ملکی معیشت کے مستقبل پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انڈونیشیا ایک مضبوط معاشی امکانات کے دور میں داخل ہو رہا ہے، جبکہ دیگر ممالک جغرافیائی سیاسی چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ممکنہ رکاوٹوں سے نمٹنے کے لیے پالیسی سطح پر ہم آہنگی کو مزید بہتر بنا رہی ہے اور اس بات پر زور دیا کہ قیادت مسلسل محنت اور عزم کا تقاضا کرتی ہے۔

“جب سے میں نے عہدہ سنبھالا ہے، میں اپنی پوری صلاحیت کے ساتھ کام کر رہا ہوں، میرے لیے کوئی چھٹی نہیں ہے،” صدر نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
پاکستان Previous post پاکستان کی سفارتی کامیابی تاریخ کا سنہری باب، قومی اتحاد نے عالمی سطح پر ملک کا وقار بلند کیا: وزیراعظم شہباز شریف
ترکمانستان Next post ترکمانستان اور جنوبی کوریا کے درمیان قونصلر تعاون کے فروغ پر اتفاق، سیول میں مشاورتی اجلاس منعقد