
انڈونیشیا اور جنوبی کوریا کے تعلقات نئی بلندیوں پر، اسٹریٹجک شراکت داری میں توسیع اور ثقافتی روابط کو فروغ
جکارتہ، یورپ ٹوڈے: انڈونیشیا کے صدر پرابوو سبیانتو نے جنوبی کوریا کے سرکاری دورے کے دوران انڈونیشی نژاد کے-پاپ فنکارہ کارمین سے ملاقات کی، جس کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی روابط کو اجاگر کیا گیا جبکہ اسٹریٹجک تعاون کو مزید وسعت دینے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
سرکاری بیان کے مطابق صدر سبیانتو نے جنوبی کوریا کے صدر لی جائے میونگ کے ہمراہ کے-پاپ گروپ Hearts2Hearts کی رکن کارمین سے ملاقات کی اور مشترکہ تصویر بھی بنوائی۔ اس موقع پر تینوں شخصیات نے کے-پاپ کا مقبول "فنگر ہارٹ” اشارہ بھی کیا، جو مداحوں سے محبت کے اظہار کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
کارمین، جن کا اصل نام نیومن آیو کارمینیتا ہے، جنوبی کوریا کی معروف تفریحی کمپنی SM Entertainment کے تحت ڈیبیو کرنے والی پہلی انڈونیشی فنکارہ ہیں۔
صدر سبیانتو نے کارمین کے ہمراہ صدارتی ظہرانے میں بھی شرکت کی، جہاں دونوں ممالک کے رہنماؤں کے درمیان ون آن ون ملاقات اور بعد ازاں وفود کی سطح پر دوطرفہ مذاکرات ہوئے۔
مذاکرات کے دوران دونوں ممالک نے تعلقات کو "خصوصی جامع اسٹریٹجک شراکت داری” کی سطح تک بڑھانے پر اتفاق کیا۔ جنوبی کوریا کے صدر نے انڈونیشیا کو واحد ملک قرار دیا جس کے ساتھ اس نوعیت کی اعلیٰ سطح کی شراکت داری قائم ہے۔
اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان 10 مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) کا تبادلہ بھی ہوا، جن میں معیشت، اہم معدنیات، صاف توانائی، دانشورانہ ملکیت کے تحفظ اور ڈیجیٹل ترقی جیسے شعبے شامل ہیں۔
حکام کے مطابق یہ معاہدے دونوں ممالک کے درمیان طویل المدتی تعاون کو فروغ دیں گے اور اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کریں گے۔
یہ ملاقات اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ جکارتہ اور سیول روایتی تجارت اور سرمایہ کاری سے آگے بڑھتے ہوئے تعلقات کو مزید وسعت دینے کے خواہاں ہیں، جبکہ کارمین جیسی شخصیات کی موجودگی عوامی سطح پر روابط کو مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہو رہی ہے۔
مزید برآں، جنوبی کوریا کے صدر نے صدر سبیانتو کو ملک کا اعلیٰ ترین اعزاز "گرینڈ آرڈر آف موگونگھوا” سے نوازا، جو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کے فروغ میں ان کے کردار کا اعتراف ہے۔
یہ دورہ انڈونیشیا اور جنوبی کوریا کے درمیان مختلف اسٹریٹجک شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔