
سرحدی علاقوں میں دہشت گرد کیمپوں پر انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائی: وزارتِ اطلاعات کی تصدیق
اسلام آباد،یورپ ٹوڈے: وزارتِ اطلاعات و نشریات نے اتوار کے روز تصدیق کی ہے کہ پاکستان نے حالیہ دہشت گرد حملوں کے ردِعمل میں پاک۔افغان سرحدی علاقے میں سات دہشت گرد کیمپوں اور ٹھکانوں کو انٹیلی جنس بنیادوں پر ہدف بنا کر “جوابی کارروائی” کی ہے۔
وزارت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ پاکستان میں حالیہ خودکش حملوں، جن میں اسلام آباد کی امام بارگاہ پر حملہ، باجوڑ اور بنوں میں ایک ایک واقعہ اور ماہِ رمضان کے دوران آج بنوں میں پیش آنے والا ایک اور حملہ شامل ہے، کے بعد پاکستان کے پاس ناقابلِ تردید شواہد موجود ہیں کہ یہ دہشت گرد کارروائیاں خوارج نے اپنے افغانستان میں موجود قیادت اور سہولت کاروں کی ہدایت پر کیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ان حملوں کی ذمہ داری افغانستان میں موجود پاکستانی طالبان سے تعلق رکھنے والے فتنہ الخوارج اور اس کے ذیلی گروہوں کے علاوہ دولتِ اسلامیہ خراسان صوبہ (آئی ایس کے پی) نے قبول کی ہے۔
وزارت کے مطابق جن کیمپوں اور ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا وہ فتنہ الخوارج سے وابستہ پاکستانی طالبان اور ان کے اتحادیوں، نیز آئی ایس کے پی سے تعلق رکھتے تھے۔
بیان میں کہا گیا کہ پاکستان نے متعدد بار افغان طالبان حکومت پر زور دیا کہ وہ قابلِ تصدیق اقدامات کرے تاکہ افغان سرزمین کو دہشت گرد گروہوں اور غیر ملکی پراکسی عناصر کی جانب سے پاکستان میں دہشت گرد کارروائیوں کے لیے استعمال نہ ہونے دیا جائے، تاہم افغان طالبان حکومت ان عناصر کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی کرنے میں ناکام رہی۔
وزارت نے واضح کیا کہ پاکستان ہمیشہ خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے کوشاں رہا ہے، تاہم اپنے شہریوں کی جان و مال کا تحفظ اس کی اولین ترجیح ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ اسی تناظر میں پاکستان نے جوابی اقدام کے طور پر پاک۔افغان سرحدی علاقے میں فتنہ الخوارج سے وابستہ پاکستانی طالبان اور ان کے اتحادیوں نیز آئی ایس کے پی کے سات دہشت گرد کیمپوں اور ٹھکانوں کو نہایت درستگی اور مہارت کے ساتھ انٹیلی جنس بنیادوں پر ہدف بنایا۔
وزارتِ اطلاعات نے کہا کہ پاکستان عبوری افغان حکومت سے توقع کرتا ہے اور اپنے مطالبے کا اعادہ کرتا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور خوارج و دیگر دہشت گرد عناصر کو پاکستان کے خلاف اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہ دے، کیونکہ پاکستانی عوام کی سلامتی و تحفظ ہر چیز پر مقدم ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستان عالمی برادری سے بھی توقع رکھتا ہے کہ وہ مثبت اور تعمیری کردار ادا کرتے ہوئے طالبان حکومت پر زور دے کہ وہ دوحہ معاہدے کے تحت اپنے وعدوں کی پاسداری کرے اور اپنی سرزمین کو دیگر ممالک کے خلاف استعمال ہونے سے روکے، جو علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کے لیے ناگزیر ہے۔