
اتحاد عالم اسلامی کے لئے اقبالؔ کی فکری و عملی مساعی
علامہ اقبال ؒؔوحدت انسان کے قائل تھے۔حدت ملی اصل میں وحدت انسان کی تابع ہے اور یہ دونوں قرآن حکیم کے فلسفہ تخلیق انسانی کے تابع ہیں۔ علامہ اقبالؔ ؒکو آفاقی شاعر اس حوالے سے کہا جا تا ہے کہ انہوں نے فلسفہ قرآنی کے مطابق نوع انسانی کی جمعیت کا درس دیا ۔ جب جمعیت اقوام (لیگ آف نیشنز) کا قیام عمل میں آیا تو اقبالؔ نے ظنزاً کہا تھا۔
مکہ نے دیا خاک جنیوا کو یہ پیغام
جمعیت قوام کہ جمعیت آدم
لیکن چونکہ وہ قرآن حکیم کی تبلیغ کرنے کے باعث اسلامی شاعر بھی ہیں اس لئے وہ اتحا د بین المسلمین کے داعی اور نقیب ہیں۔ ان کے نزدیک اسلام اور اتحاد اسلام مترادف الفاظ ہیں۔ چنانچہ آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس منعقدہ الہ آباد ۱۹۳۰ء میں اپنے شہرہ آفاق صدارتی خطبے میں فرماتے ہیں۔
‘‘ اسلا م کے جملہ احکامات کا مقصد بیشتر افراد و جمعیت کو بتدریج متحد کرنا اور بالآخر انہیں ایک ممیز اور معین قوم کی صورت میں منظم کرنا ہے۔’’
(۱)
آگے چل کر اسی خطبہ میں وہ اسلام کو ایک ایسی محیر العقول قوت قرار دیتے ہیں جو اپنے ماننے والوں کو رنگ و نسل اور زبان وغیرہ کے اختلافات کے باوجود ایک لڑی میں پرودیتا ہے اور اس نظام کی ‘‘بنیاد ایک ایسے اخلاقی نصب العین پر رکھی گئی ہے جس کے نزدیک انسان کی ہستی پودوں اور درختوں کی طرح کسی خاص زمین سے وابستہ نہیں بلکہ وہ ایک روحانی ہستی ہے جس کا تعین اجتماعی ترکیب کی اصطلاح سے کیا جاتا ہے۔’’
اس موضوع پر کچھ عرض کرنے سے پہلے آئیے اس تاریخی پس منظر کا اجمالی خاکہ پیش کرتے ہیں جس میں پوری اقوام کا عالم اسلام پر تسلط قائم ہوا اور عالم اسلام میں اتحاد اور احیاء کی تحریکیں شروع ہوئیں، کیونکہ اقبال ؔ فطری اور فکری طور پر اسی روایت کی ایک مضبوط کڑی ہیں۔
اتحاد اسلامی کی علامت کے طور پر خلافت ہمیشہ مسلمانوں کے پیش نظر رہی مگر عملی طور پر اس کا کوئی زیادہ اثر مسلمان ممالک پر نہیں رہا۔ برصغیر میں مسلمانوں کی ہزار سالہ تاریخ میں خلیفہ سے وابستگی صرف رسمی حد تک رہی۔ یہاں تک کہ سلطان ٹیپو جب دکن میں انگریزوں کے خلاف ایک آخری معرکہ کن تیاری کے سلسلے میں فرانسیسیوں سے سفارتی رابطے قائم کر رہے تھے تو خلیفہ نے انگریزوں کو دین کا محافظ قرار دیا تھا۔
ادھر ۱۴۵۳ء میں قسطنطنیہ کی فتح کے بعد وہاں سے بھاگے ہوئے عیسائیوں وغیرہ نے پورے یورپ میں نشاۃ ثانیہ کی تحریک شروع کی جس کی بنیاد اسلام دشمنی پر رکھی۔ سولہویں صدی یورپ کی بحری مہمات اور انکشافات واکتشافات کی صدی ہے۔ سترہویں اور اٹھارہویں صدی میں ان ممالک میں قدرتی وسائل دریافت ہوئی اور انیسویں صدی ان کے اسلامی ممالک پر قبضے کی صدی ہے۔
ترکوں کی کمزوری ۱۸۶۳ء میں دی آنا کی تسخیر میں ناکامی کی صورت میں ظاہر ہوئی اور یہی مسلمانوں کے زوال کا نقطہ آغاز بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔
برطانیہ ، فرانس اور روس نے بیشتر اسلامی ممالک پر تسلط جمانا شروع کیا۔ جس کے نتیجے میں شمالی افریقہ میں سنوی تحریک، سید جمال الدین افغانی کی پین اسلام کی تحریک اور اس کے زیر سایہ مصر میں محمود عبدہ ، سید رشید رضا اور شیخ عبد العزیز شاد پیش جیسی شخصیات پیدا ہوئیں۔ وہابی تحریک اگرچہ ایک دینی تحریک تھی مگر اس کے بھی دور رس سیاسی اثرات مرتب ہوئے (۲)۔
انیسویں صدی کے آخری ربع کو برصغیر اور پورے عالم اسلام میں اتحاد اسلام کی تحریکوں کے ضمن میں اہم حیثیت حاصل ہے۔ خصوصاً ۱۸۷۰ء میں تو اقبالؔ ، جناحؒ ، جوہرؒ ، حسرت موہانی اور مولانا ظفر علی خاں ؒ جیسی نامہ روزگار شخصیات پیدا ہوئیں۔ جنہوں نے اتحاد اسلامی کے لئے اہم خدمات سرانجام دیں۔
علامہ اقبالؔ جب ۱۹۰۵ء میں یورپ تشریف لے گئے تو انہیں یورپ کی عیارانہ سیاست جو سر بسر اتحاد اسلامی کے خلاف تھی، کو قریب سے سمجھنے اور پرکھنے کا موقع حاصل ہوا۔ انہیں یورپ کے وطنیت کے فلسفے کے اتحاد اسلامی کے لئے خطرناک اثرات کا احساس ہوا۔ وطنیت کے اوپر اس عنوان سے لکھی گئی نظم میں وہ واشگاف الفاظ میں اعلان کرتے ہیں۔
ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے
جو پیراہن اس کا ہے وہ مذہب کا کفن ہے
یہ بت کہ تراشیدہ تہذیب نوی ہے
غارت گر کاشانہ دین نبوی ہے
نظارہ دیرینہ زمانے کو دکھا دے
اے مصطفوی خاک میں اس بت کو ملا دے
لندن میں دو ہندوستانی مسلمان ڈاکٹر عبد اللہ سہروردی اور مسٹر منیر حسین قدوائی نے ایک پین اسلامی سوسائٹی قائم کی ہوئی تھی۔ اقبالؔ ممبر بن گئے اس میں تقریر کرتے ہوئے آپ نے فرمایا۔
‘‘مجھ کو پین اسلامسٹ کہا جاتا ہے جس سے مجھے انکار نہیں مجھے یقین ہے کہ میری قوم شاندار مستقبل رکھتی ہے جو مشن اسلام کا ہے وہ پورا ہو کررہے گا اور اسلامی روح آخر کار غالب ہو گی۔’’
پنڈت نہرو نے اپنے ایک مضمون میں ہندوستانیوں کے ایک قوم ہونے پر زور دیتے ہوئے ہندی مسلمانوں کے ہندوستان سے باہر دیکھنے اور عالم اسلام سے رشتہ جوڑنے پر متعدد اعتراضات کئے تھ۔ جواباً علامہ اقبالؔ نے ماڈرن ریویو کلکتہ میں ایک مضمون لکھا ‘‘انیسویں صدی میں سید جمال الدین افغانی افغانستان میں ، سرسید احمد خان ہندوستان میں اور مفتی عالم جان روس میں پیدا ہوئے۔ سرسید احمد خاں اور مفتی عالم جان نے مسلمانوں کی پستی جدید تعلیم کو قرار دیا۔ مگر سید جمال الدین افغانی نے پین اسلامک تحریک جاری کی اور ترکی، ایران اور مصر کے ممتاز افراد میں روح عمل پیدا کر دی ، جو اب تک جاری ہے’’ (۳) ایک اور مقام پر علامہ اقبالؔ نے پین اسلامزم کی اصطلاح کے بارے میں پھیلی ہوئی غلط فہمیوں کو واضح کیا اور باصراحت اس کی وضاحت فرمائی۔ ان کے خیال میں یہ اصطلاح یورپ کو مسلمانوں کے اتحاد کے خیالی خطرہ (بالکل اسی طرح جیسے یورپ نے زرد خطرہ کے تصور کو رواج دیا تھا) ۔۔۔۔کرنے کے لئے ایک فرانسیسی اخبار نویس نے گھڑی تھی۔ ان کے خیال میں پین اسلامزم کوئی تحریک نہیں بلکہ یہ اخوت اسلامی کا دوسرا نام ہے۔ اس تجربہ کا نام ہے جو قوم ، نسل اور ملک سے بالا تر وہ کر انسان کو یکجا کرنے کے لئے کیا گیا ہے۔ اخوت انسانی کے حصول کی جدوجہد میں (اسلام) ۔۔۔۔ اور عیسائیت کی نسبت زیادہ کامیاب ثابت ہوا ہے حالانکہ اس کی عمر صرف تیرہ سو سال ہے ۔ ’’ (۴) اقبالؔ نے اتحاد بین المسلمین کے پیغام کو اپنی ۔۔۔۔میں بار بار انتہائی پر اثر انداز میں دہرایا ہے۔ بعض اوقات یہ مقصد مسلمانوں کو اپنی عظمت رفتہ کا احساس دلا کر اور بعض دفعہ ان کی موجودہ زبوں حالی۔۔۔کی طرف توجہ دلا کر حاصل کیا جاتا ہے۔ اس طرح کی نظموں میں فاطمہ بنت عبد اللہ، شکوہ جواب شکوہ وغیرہ شامل ہیں۔ اسلامی اتحاد کے لئے مسلمانوں کا ۔۔۔۔۔سے رشتہ استوار کرنا ضروری تھا اور ان میں توحید و رسالت کے ساتھ گہرا روحانی رشتہ پیدا کرنا بھی اہم تھا۔ چنانچہ رسالت مآب ﷺ کے عشق ۔۔۔۔ہوئی ان کی نظمیں جیسے نالہ یتیم، حضور رسالت مآب ﷺ میں شب معراج وغیرہ۔
بانگ درا کی غزلوں کے متفرق اشعار اور ضرب کلیم کی نظمیں، اے روح محمد، نبوت وغیرہ ایسی نظمیں ہیں جو مسلمانوں کو مرکز نبوت پر جمع کرنے ۔۔۔۔شمار کی جاسکتی ہیں۔ اسی طرح صحابہ کرام اور علمائے عظام کی شان میں لکھی گئی ان کی نظمیں بھی اسی زمرے میں آتی ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ ۔۔۔۔نے بڑی شدومد کے ساتھ یورپ کے باطل فلسفوں پر کھل کر تنقید کی اور انہیں دلائل کی بنیاد پر ۔۔۔۔کیا۔ چنانچہ مثبت اور منفی دونوں حوالوں سے انہوں نے اتحاد اسلامی کی بہترین کوششیں کیں اور مسلمانوں کو ایک خدا، ایک نبی اور ایک کتاب (قرآن حکیم) کی بنیاد پر جمع کرنے کے لئے شاعری کی۔
ان کی نثر بھی ان کی ان مساعی جمیلہ کا دلکش نمونہ ہے۔ اپنے پہلے طویل اردو زبان میں لکھے گئے مضمون قومی زندگی سے لے کر خطبہ الہ آباد اور قادیانیوں کے عقائد کے رد میں لکھے گئے مضامین تک انہوں نے مسلمانوں کے اتحاد کی فکری بنیادیں فراہم کیں اور ان میں رخنہ ڈالنے والی قوتوں کے خلاف جہاد کیا۔ علامہ اقبالؔنے مارچ ۱۹۳۸ء میں اپنی وفات سے کچھ ہی قبل قومیت اور وطنیت کے نظرئے پر ایک مضمون تحریر کیا تھا جو اس موضوع پر قول فیصل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس میں وہ فرماتے ہیں کہ ‘‘ میں قومیت کے تصور کے بیخ کنی کے لئے اس وقت سے جدوجہد کر رہا ہوں ۔ جب کہ ہندوستان اور عالم اسلام میں اسے پوری طرح سمجھا نہیں جا رہا تھا۔
آگے چل کر وہ فرماتے ہیں ۔ کیا یہ ممکن بھی ہے کہ اسلام کو ایک اخلاقی نصب العین کے طور پر تو باقی رکھا جائے اور اسے ایک سیاسی حیثیت کے طور پر مسترد کر کے قومی سیاسی جمعیتوں کو قبول کر لیا جائے جن میں مذہبی نقطہ نظر سے کام کرنے کا سرے سے اذن ہی نہیں۔’’
مندرجہ بالا مضمون انہوں نے مولانا حسین احمد مدنی ؒ کے وطنیت کے بارے میں نظریات کی رد رد میں تحریر فرمایا تھا۔ اس میں انہوں نے یہ ثابت کیا کہ اسلامی ملت اشتراک عقائد سے بنتی ہے نہ کہ اشتراک وطن سے ۔ یہ مضمون مضامین اقبالؔ میں ‘‘ مسلمان اور جغرافیائی حدود’’ کے عنوان سے شامل ہے۔ (۵)
بمبئی کے نیشنلسٹ انگریزی روزنامہ بمبئی کرانیکل کو علامہ اقبالؔنے ایک انٹرویو دیا تھا۔ اس انٹرویو میں پوچھے گئے متعدد موضوعات پر سوالات کے جواب میں علامہ اقبالؔنے جو ارشادات فرمائے ان میں ان کے عربوں کے اتحاد کے بارے میں فرمودات تھے۔ عرب ملکوں کی فیڈریشن کے قیام کی تجویز کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے اسے ایک اچھی تجویز قرار دیا لیکن کہا تھا کہ اس کے راستے میں بہت مشکلات حائل ہیں۔ اس سے ان کی مراد یہ تھی کہ سوائے سعودی عرب اور یمن کے کوئی آزاد عرب مملکت موجود ہی نہیں تھی۔ شام و لبنان پر فرانس کا قبضہ تھا، فلسطین پر انگریزوں کا شرق اردن ، برطانیہ کے زیر حمایت ایک چھوٹی سی ریاست تھا۔ عراق اور مصر میں برطانوی فوجیں مقیم تھیں ایسے میں اگر عرب فیڈریشن بن بھی جاتی تو وہ برطانیہ اور فرانس کی کٹھ پتلی ہوتی۔ یہ درست ہے کہ وحدت عربیہ کی تحریک ایک عرصے سے چل رہی تھی اور دنیائے عرب کے دانشور بیسویں صدی کے ابتداء میں اس کے خواب دیکھنے لگے تھے اور پہلی عالمی جنگ کے دوران میں شام و لبنان کے عرب سیاستدانوں نے ترکیہ کے خلافت بغاوت کی تو وہ غداری نہیں کی تھی بلکہ اس آرزو کی مظہر تھی کہ دنیائے عرب ۔۔۔اور متحد ہو کر ایک اہم کردار ادا کرے لیکن پہلی عالمی جنگ کے بعد برطانیہ اور فرانس نے جزیرۃ العرب کا بٹوارہ کر لیا۔ تو پھر عرب فیڈریشن کی جو تجویز بھری، اس کا سر چشمہ انگریز تھے یا فرانسیسی یا دونوں کیونکہ وہ چاہتے تھے کہ ان کا تسلط جزیرۃ العرب کے ایسے حصوں پر بھی ہو جائے جو بڑی مشکل کے ساتھ اپنی آزادی اور خود مختاری کو سنبھالے ہوئے تھے۔ علامہ اقبالؔکی نگاہ دوربین تھی وہ سامراجی عزائم سے باخبر تھے اس لئے انہوں نے عرب فیڈریشن کی تجویز کے مستقبل پر کچھ کہنے سے انکار کر دیا۔ ہاں اتنا ضروری کہاکہ عربی زبان کا مستقبل روشن ہے اور یہ عرب قوموں میں اسلام کے بعد سب سے بڑے رشتے کی حیثیت رکھتی ہے۔ ’’ (۶)
ص ۸۹ ۔ ۰۹
۱۔ مقالات اقبالؔ عالمی کانگریس جلد ۳ دانش گاہ پنجاب لاہور۔ ۱۹۷۷ء ص ۸۵۔۸۶
۲۔ مقالات اقبالؔ عالمی کانفرنس منعقدہ ۲ تا ۸ دسمبر ۱۸۹۷ء جلد ۲ دانش گاہ پنجاب لاہور ص ۸۹۔۹۰
۳۔ مقالات صفحہ ۹۲
۴۔ مقالات صفحہ ۹۱ یہاں لفظ اسلام آنا چاہئے شاید غلطی سے لفظ انسان چھپ گیا ہے۔
۵۔ اس سلسلہ کی تفصیلی بحث روح اقبالؔ از ڈاکٹر یوسف خان کے صفحات ۳۰۷ سے ۳۷ پر ملاحظہ فرمائیے جو پاکستان میں پہلی بار ۱۹۶۵ء میں آئینہ ادب چوک میلاد لاہور سے شائع ہوئی۔
۶۔ سرگزشت اقبالؔ ، ڈاکٹر عبد السلام خورشید اقبال اکا۔۔لاہور ۱۹۷۷ء ص ۵۰۔۳۳۹ (اپریل ۱۹۹۶ء)