
ایران نے مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈر مقرر کر دیا
دبئی، یورپ ٹوڈے: ایران نے آیت اللہ علی خامنہ ای کے انتقال کے بعد ان کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای کو ملک کا نیا سپریم لیڈر مقرر کر دیا ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق علی خامنہ ای اس ماہ کے اوائل میں تہران پر امریکا اور اسرائیل کے فضائی حملوں میں جاں بحق ہوگئے تھے۔
یہ اعلان تہران میں اتوار اور پیر کی درمیانی شب مجلسِ خبرگان کی جانب سے کیا گیا، جو 88 ارکان پر مشتمل مذہبی ادارہ ہے اور ایران کے سپریم لیڈر کے انتخاب کا اختیار رکھتا ہے۔ جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ مجلسِ خبرگان نے فیصلہ کن اکثریت سے آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کو اسلامی جمہوریہ ایران کا تیسرا سپریم لیڈر منتخب کیا ہے۔
مجتبیٰ خامنہ ای ایک درمیانے درجے کے مذہبی عالم سمجھے جاتے ہیں اور انہیں ایران کے سیکیورٹی اداروں میں اثر و رسوخ اور اپنے والد کے سیاسی و معاشی نیٹ ورک سے قریبی روابط کے باعث طویل عرصے سے اس منصب کے ممکنہ امیدواروں میں شمار کیا جا رہا تھا۔
سپریم لیڈر کا منصب ایران کے سیاسی، عسکری اور مذہبی اداروں پر حتمی اختیار فراہم کرتا ہے، جس کے باعث مجتبیٰ خامنہ ای اس وقت فیصلہ سازی کے مرکز میں ہوں گے جب ایران اور امریکا و اسرائیل کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے۔
آیت اللہ علی خامنہ ای 1989 سے ایران کے سپریم لیڈر تھے اور ایک ہفتے سے زائد قبل تہران میں اہم ایرانی تنصیبات اور قیادت کو نشانہ بنانے والے امریکی اور اسرائیلی حملوں کی پہلی لہر میں جاں بحق ہوگئے تھے۔ ان حملوں کے بعد ایران نے خلیجی خطے میں جوابی میزائل حملوں کا سلسلہ شروع کیا تھا۔
اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی کارروائیوں کے نتیجے میں کم از کم ایک ہزار 332 ایرانی شہری جاں بحق جبکہ ہزاروں زخمی ہوئے ہیں۔
دوسری جانب امریکی فوج نے بھی تصدیق کی ہے کہ ایران کے ابتدائی جوابی حملوں میں زخمی ہونے والا ساتواں امریکی فوجی بھی دم توڑ گیا ہے۔ یہ اعلان ایک دن بعد سامنے آیا جب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں میں ہلاک ہونے والے چھ دیگر امریکی اہلکاروں کی باقیات کی وطن واپسی کی تقریب میں شرکت کی۔
ادھر کشیدگی کم کرنے کے لیے بڑھتے ہوئے عالمی دباؤ کے باوجود ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ تہران جنگ بندی کا خواہاں نہیں اور ملک پر ہونے والی مبینہ جارحیت کا جواب دینا جاری رکھے گا۔