اسپیکر

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی اہم امن مذاکرات کے لیے پاکستان پہنچ گئے

Read Time:2 Minute, 19 Second

اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: امریکہ اور ایران کے اعلیٰ سطحی وفود کے درمیان ہفتہ کے روز اسلام آباد میں ہونے والے تاریخی مذاکرات سے قبل وزیر اعظم شہباز شریف نے ان اہم بات چیت کو امن کے لیے “فیصلہ کن لمحہ” قرار دے دیا ہے۔

ابتدائی غیر یقینی صورتحال اور جنگ بندی کی شرائط سے متعلق مختلف دعوؤں کے باوجود مذاکرات طے شدہ شیڈول کے مطابق جاری ہیں، جبکہ وفاقی دارالحکومت میں غیر معمولی سیکیورٹی لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا ہے۔

دفتر خارجہ کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف جمعہ کی رات دیر گئے cپہنچے۔ ان کے ہمراہ آنے والے وفد کا استقبال نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، چیف آف ڈیفنس فورسز و آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وفاقی وزیر داخلہ سید محسن رضا نقوی نے کیا۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق قالیباف اس وفد کی قیادت کر رہے ہیں، جس میں وزیر خارجہ عباس عراقچی، دفاعی کونسل کے سیکریٹری علی اکبر احمدیان، مرکزی بینک کے سربراہ عبدالناصر ہمتی اور پارلیمنٹ کے بعض ارکان بھی شامل ہیں۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے قوم سے ٹیلی ویژن خطاب میں ان مذاکرات کو “امن کے لیے فیصلہ کن موڑ” قرار دیتے ہوئے عوام سے دعا کی اپیل کی کہ یہ بات چیت کامیاب ہو اور بے شمار جانیں بچائی جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کو امن کی طرف بڑھتے ہوئے دیکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

پاکستان گزشتہ کئی ہفتوں سے پسِ پردہ سفارتی کوششوں میں مصروف رہا ہے تاکہ دونوں فریقوں کو مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق اسلام آباد نے واشنگٹن کے ساتھ اپنے تعلقات اور تہران کے ساتھ بیک چینل روابط کو بروئے کار لاتے ہوئے مکالمے کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا۔

اپنے خطاب میں وزیر اعظم نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کشیدگی کم کرنے اور دونوں فریقوں کو قریب لانے میں اہم کردار ادا کیا اور “جنگ کے شعلوں کو بجھانے” میں کلیدی خدمات انجام دیں۔

مذاکرات کا باقاعدہ آغاز ہفتہ کے روز ہوگا، جہاں دونوں وفود سخت سیکیورٹی حصار میں اسلام آباد پہنچیں گے۔ گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران دارالحکومت میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں، اہم علاقوں میں نقل و حرکت محدود کر دی گئی ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھاری نفری تعینات ہے۔

امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے ہیں۔ پاکستان روانگی سے قبل انہوں نے محتاط امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران خلوصِ نیت کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے تو امریکہ بھی بات چیت کے لیے کھلا دل رکھتا ہے، تاہم دباؤ برقرار رکھا جائے گا۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
انڈونیشیا Previous post انڈونیشیا میں قانون کی بالادستی پر زور: صدر پرابوو سبیانتو کا قومی وسائل کے تحفظ کے لیے سخت اقدامات کا اعلان
امریکہ Next post امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر ’اسلام آباد مذاکرات‘ کے لیے پاکستان پہنچ گئے