کیابھارت ایک جمہوری ملک ہے؟؟؟
26 جنوری1950ء کے دن بھارت کو آزاد اور ریاستوں کے اتحاد پر مبنی ایک وفاقی جمہوری ملک قرار دیا گیا اور اس دن کی مناسبت سے وہ ہر سال 26 جنوری کو یوم جمہوریہ مناتا ہے۔ بھارت کی انتظامی تقسیم میں 28 ریاستیں اور 8 براہ راست وفاق کے زیرانتظام علاقہ جات شامل ہیں جن میں جارحیت کا ارتکاب کر کے قبضہ کی گئیں وہ ریاستیں شامل ہیں جنہوں نے بھارت میں شمولیت سے انکار کیا اور ریاست جموں و کشمیر بھی ان میں سے ایک ہے جس پر بھارت نے سہ فریقی سازش (وائسرائے ہند، چیئرمین حدبندی کمشن اور مہاراجہ کشمیر) کے تحت 27 اکتوبر 1947ء کے سیاہ دن بزور طاقت قبضہ کر لیا تھا۔ تقسیم ہند کے اصول کے تحت ریاست جموں و کشمیرکے عوام نے بھی اپنی مرضی اور منشاء کے مطابق اپنا جمہوری حق استعمال کرتے ہوئے اکثریتی فیصلہ کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ شامل ہونے کا اعلان کیا۔ بھارت شروع سے ہی اس پر اپنی نظریں جمائے بیٹھا ہوا تھا اور اس نے ریاست کو اپنے ساتھ ملانے کے ہرجتن کیے لیکن جب یہ بیل منڈھے نہ چڑھ سکی تو اس نے بزور طاقت اس پر اپنا غیرقانونی تسلط جما لیا۔ اقوام متحدہ کی مداخلت پر ریاست کے عوام کو اپنی مرضی کافیصلہ کرنے کا حق دینے کا وعدہ کیا گیا لیکن 79 سال گزرنے کے باوجود اس کے ایفاء ہونے کی نوبت نہیں آئی اور خود اقوام متحدہ کی اپنی قراردادیں بھی کہیں کاغذات کے انبار میں گم ہو کے رہ گئی ہیں جبکہ کشمیری عوام ان قراردادوں پر عملدرآمد اور بھارت کے وعدوں کے انتظار میں اپنی چار نسلیں قربان کر چکے ہیں۔ ریاست جموں و کشمیر کے عوام اپنی سرزمین پر بھارت کے قبضے کے بعد مسلسل اپنے حق خودارادیت کا مطالبہ کرتے چلے آ رہے ہیں اور انہیں اس حق کا مطالبہ کرنے پر جبروتشدد اور استحصال کا شکار بھی کیا جاتا رہا ہے۔ ریاست جموں و کشمیر پر غیرقانونی اور غیراخلاقی قبضے کے بعد 1949ء میں جب بھارتی آئین بنایا جا رہا تھا تب کشمیریوں کو بےوقوف بنانے کے لیے بھارتی آئین میں دفعہ 370 شامل کی گئی جو ریاست جموں و کشمیر کو ایک خصوصی منفرد مقام اور جداگانہ حیثیت دیتی تھی۔ اس کے تحت ریاست کو اپنا آئین بنانے اور اسے برقرار رکھنے کی آزادی حاصل تھی اور دفاعی، مالیاتی اور خارجہ امور کو چھوڑ کر یہاں پر مرکزی حکومت، مرکزی پارلیمان اور ریاستی حکومت کی توثیق و منظوری کے بغیر بھارتی قوانین کا نفاذ نہیں ہو سکتا تھااور نہ ہی دوسری ریاستوں پر لاگو ہونے والے قوانین ریاست جموں و کشمیر میں نافذ کیے جا سکتے تھے۔ 1953ء میں بھارتی آئین میں مہاراجا کشمیر کے 1927ء کے قانون برائے باشندگان ریاست کو تحفظ دینے کے لیے ایک ذیلی شق 35اے کو بھی شامل کیا گیا جس میں بھارتی وفاق کے اندر رہتے ہوئے جموں و کشمیر کو واضع طور پر ایک علیحدہ ریاست، اس کے شہریوں کی مستقل شہریت اور ان کے سیاسی، سماجی، مذہبی اور معاشرتی حقوق کی ضمانت دی گئی جس کے مطابق ریاستی باشندے کے علاوہ کوئی دوسرا شخص ریاست میں جائیداد کی خرید و فروخت، سرکاری ملازمت اور حق رائے دہی کا استعمال نہیں کر سکتا تھا۔ اس میں یہ بھی کہا گیا کہ ریاست کو کسی بھی طرح بھارت کے وفاقی آئین کو اختیار کرنے کے لیے مجبور نہیں کیا جائے گا اور یہی آئین جس کی بناء پر بھارت ایک وفاقی جمہوریہ قرار پایا اس کی دفعات 19 تا 22 میں انسانی آزادیوں مثلاًٍ تحریر و تقریر، آزادانہ نقل و حرکت، اجتماع اور انجمن سازی کی ضمانت دی گئی ہے۔ بھارت کے اسی آئین کی دفعات 25 تا 28 میں مذہبی آزادی، مذہب اختیار کرنے، اس پر عمل کرنے اور اسے پھیلانے کی اجازت دی گئی اور دفعات 29 تا 30 میں اقلیتوں کے حقوق، ان کے مفادات اور تعلیمی ادارے قائم کرنے کی ضمانت بھی دی گئی اور اگران کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہو تو دفعہ 32 انہیں عدالتوں سے رجوع کرنے کا حق دیتی تھی۔ بھارت نے شروع میں تو اس آئین کے تحت ریاست کو اندرونی خودمختاری کا جھانسہ دیے رکھا لیکن اس کے ساتھ ہی وہ جموں و کشمیر کے اپنے اٹوٹ انگ ہونے کے دعوے بھی کرتا رہا اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے متروک ہونے کا راگ بھی الاپتا رہا لیکن عملی طور پر کسی بھی بھارتی حکومت کو ریاست جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے ساتھ چھیڑچھاڑ کرنے کی ہمت نہ ہوسکی لیکن جب بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنے پر پرزے نکالنے شروع کیے تو اس کی آنکھوں میں ریاست جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ہر وقت کھٹکتی رہی اور اپنی انتخابی مہمات میں اس کے خاتمے کو اپنا انتخابی نعرہ کے طور پر بھی اپنا لیا جب مرکزی حکومت پر اس کی اپنی گرفت مضبوط ہوگئی تو اس نے اس بھاری پتھر کو اٹھانے کا فیصلہ کر کے اپنی دیرینہ خواہش اور اپنے انتخابی نعرے کو حقیقت کاروپ دیتے ہوئے 5 اگست 2019ء کو ریاست جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت پر شبخون مار کر اسے دو حصوں میں تقسیم کر کے براہ راست وہاں مکمل طور پر بھارتی آئین کی عملداری قائم کر دی جوکہ سراسر اس کے اپنے ہی آئین کی خلاف ورزی تھی۔ بھارت نے یہ سب کچھ کر کے نہ صرف اپنے اولین راہنماؤں کے وعدوں سے مکر کر نہ صرف ان کی منہ پر کالک ملی بلکہ اپنے ملک کے جمہوری ہونے کے دعوے پر بھی سوالیہ نشان لگا دیے۔ بھارت اپنے آپ کو دنیاکی سب سے بڑی جمہوریت کہلواتا ہے اور اس کا آئین دنیا کا سب سے طویل لکھا ہوا آئین بھی ہے لیکن پوری دنیا کے سامنے کشمیری عوام کو حق خودارادیت دینے کے وعدے کی دھجیاں بکھیر کر اس نے اپنے اس آئین کے اندر لکھے ہوئے ہرہر لفظ کی وقعت کھو دی اور اس میں کیے گئے بلندبانگ دعوؤں کی مٹی بھی پلید کر کے رکھ دی جن کی بناء پر وہ پوری دنیا میں اپنی جمہوریت پسندی کے ڈھنڈورے پیٹتتا رہتا تھا۔ بھارتی حکومت کے اس ناپسندیدہ اقدام اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی کھلم کھلا خلاف ورزیوں پر نہ تو جمہوریت پسند اقوام نے اس پر اپنا کوئی ردعمل ظاہر کیا اور نہ ہی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل نے اپنی ہی قراردادوں کی دیدہ دلیری سے پامالی پر بھارت کے خلاف کوئی عملی قدم اٹھایا۔ ان حالات میں ایک جیتی جاگتی قوم کے حق خودارادیت سے انکار کر کے اور اس کے بنیادی حقوق سلب کر کے بھارت کو کس طرح اپنا یوم جمہوریہ منانا زیب دیتاہے اور کس منہ سے وہ اپنے آپ کو ایک جمہوری ملک گردانتا ہے؟؟؟
بقول جناب حبیب جالب:
؎ اس کھلے جھوٹ کو، ذہن کی لوٹ کو!
ایسے دستور کو، صبح بے نور کو!
ہم نہیں مانتے، ہم نہیں جانتے!
ہم نہیں مانتے، ہم نہیں مانتے!