
اسلام آباد امام بارگاہ حملہ: یونیسف کی شدید مذمت، بچوں کی ہلاکت کو ناقابلِ قبول قرار
اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: یونیسف نے اسلام آباد میں ایک امام بارگاہ پر ہونے والے ہلاکت خیز حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس واقعے میں مبینہ طور پر چھ بچوں کی جانیں ضائع ہوئیں، جو بچوں کے بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
یونیسف نے اپنے بیان میں کہا، “ہم اسلام آباد میں عبادت گاہ پر ہونے والے تباہ کن حملے کی سخت مذمت کرتے ہیں، جس میں اطلاعات کے مطابق چھ بچے جاں بحق ہوئے۔ بچوں کا قتل ناقابلِ تصور ہے اور یہ ان کے حقوق کی سنگین پامالی ہے۔”
ادارے نے متاثرہ خاندانوں اور حملے سے متاثرہ برادریوں سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔
بیان میں اس امر پر زور دیا گیا کہ بچوں کو کبھی بھی تشدد کا نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔ “کوئی بھی بچہ نہ تو تشدد کا ہدف ہونا چاہیے اور نہ ہی اسے تشدد کے ماحول میں رکھا جانا چاہیے۔ بچوں کا ہر حال میں تحفظ یقینی بنایا جانا لازم ہے،” یونیسف نے واضح کیا۔
جمعے کے روز امام بارگاہ خدیجہ الکبریٰ میں ہونے والا یہ حملہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران اسلام آباد کا سب سے ہلاکت خیز واقعہ قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ ملک بھر میں یہ جنوری 2023 میں پشاور کی ایک مسجد پر ہونے والے حملے کے بعد سب سے جان لیوا حملہ ہے۔
حکام اور اسپتال ذرائع کے مطابق خودکش حملے میں کم از کم 32 افراد جاں بحق اور تقریباً 169 زخمی ہوئے۔ دھماکہ اس وقت ہوا جب نمازی جمعہ کی نماز کے لیے جمع تھے، اور اس کے ساتھ فائرنگ اور مزید دھماکوں کی آوازیں بھی سنی گئیں۔
ہفتے کے روز پاکستانی حکام نے تحقیقات میں اہم پیش رفت کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ حملے سے منسلک چار سہولت کاروں اور داعش سے وابستہ ایک افغان مبینہ ماسٹر مائنڈ کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق خودکش حملہ آور کی شناخت یاسر کے نام سے ہوئی، جو پشاور کا رہائشی تھا۔ اس کے چار سہولت کار بھی حراست میں لے لیے گئے ہیں، جن میں راولپنڈی کے علاقے میں سہولت فراہم کرنے والے افراد شامل ہیں۔
ابتدائی طور پر حکام نے بتایا تھا کہ یاسر کے دو بھائی بلال اور ناصر، اس کے بہنوئی عثمان کے ساتھ ترناب فارم کے علاقے سے گرفتار کیے گئے، جبکہ اس کی والدہ کو اسلام آباد کے ایک پوش سیکٹر میں واقع گھر سے حراست میں لیا گیا تھا۔