
جاپان کی حکمران جماعت کو پارلیمانی انتخابات میں بھاری اکثریت حاصل
ٹوکیو، یورپ ٹوڈے: جاپان کی وزیرِاعظم سانے تاکائچی کی قیادت میں حکمران جماعت نے اتوار کو ہونے والے اہم پارلیمانی انتخابات میں بھاری اکثریت حاصل کر لی ہے۔ جاپانی میڈیا کے مطابق ابتدائی نتائج میں حکمران جماعت کی واضح کامیابی سامنے آئی ہے۔
سرکاری نشریاتی ادارے این ایچ کے (NHK) کو دیے گئے ایک ٹیلی وژن انٹرویو میں وزیرِاعظم سانے تاکائچی نے کہا کہ اب وہ اپنی پالیسیوں پر عمل درآمد کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔
این ایچ کے کے مطابق ابتدائی ووٹوں کی گنتی سے ظاہر ہوتا ہے کہ وزیرِاعظم تاکائچی کی لبرل ڈیموکریٹک پارٹی (LDP) نے اکیلے ہی 271 نشستیں حاصل کر لی ہیں، جو 465 رکنی ایوانِ زیریں میں 261 نشستوں کی سادہ اکثریت سے کہیں زیادہ ہیں۔ ایوانِ زیریں جاپان کی دو ایوانی پارلیمنٹ کا زیادہ طاقتور ایوان ہے۔
انتخابی نتائج کے بعد پارٹی ہیڈکوارٹر میں خوشگوار مناظر دیکھنے میں آئے، جہاں مسکراتی ہوئی وزیرِاعظم نے کامیاب امیدواروں کے ناموں کے ساتھ سرخ ربن لگائے، جبکہ پارٹی رہنماؤں نے تالیاں بجا کر خوشی کا اظہار کیا۔
اگرچہ حکمران جماعت کو ایوانِ بالا میں اکثریت حاصل نہیں، تاہم ایوانِ زیریں میں نمایاں کامیابی وزیرِاعظم تاکائچی کو اپنی دائیں بازو کی پالیسیوں کو آگے بڑھانے کا موقع فراہم کرے گی۔ ان پالیسیوں کا مقصد جاپان کی معیشت اور دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب چین کے ساتھ علاقائی کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے اور امریکا کے ساتھ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
وزیرِاعظم تاکائچی نے کہا کہ وہ اپنی پالیسی ترجیحات پر مضبوطی سے عمل کریں گی، تاہم اپوزیشن جماعتوں کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش بھی جاری رکھیں گی۔
“میں لچک کا مظاہرہ کروں گی،” انہوں نے کہا۔
سانے تاکائچی عوام میں خاصی مقبول ہیں، تاہم لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کو حالیہ برسوں میں فنڈنگ اور مذہبی اسکینڈلز کے باعث مشکلات کا سامنا رہا ہے۔ وزیرِاعظم نے صرف تین ماہ اقتدار میں رہنے کے بعد قبل از وقت انتخابات کرانے کا فیصلہ کیا تھا تاکہ اپنی مقبولیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جماعت کی پوزیشن کو مستحکم کیا جا سکے۔